أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِۙ ۞

ترجمہ:

اور اس امن والے شہر (مکہ) کی

 

التین : ٣ میں فرمایا : اور اس امن والے شہر (مکہ) کی۔

شہر مکہ کی قسم کھانے کی توجیہ

اس آیت میں مکہ کو ” امین ‘ فرمایا ہے، کیونکہ جو جانور یا انسان مکہ میں داخل ہو وہ امن والا ہوجاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے دمشق کے پہاڑ کی قسم کھائی کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پناہ کی جگہ ہے اور بیت المقدس کی قسم کھائی کیونکہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے قیام کی جگہ ہے، کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پناہ کی جگہ ہے اور بیت المقدس کی قسم کھائی کیونکہ وہ انبیاء علیہم ال سلام کے قیام کی جگہ ہے، کیونکہ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نشانی ہے اور شہر مکہ کی قسم کھائی کیونکہ وہ حضرت سیدنا محمد علیہ الصلوۃ السلام کا مولد اور مھبط وحی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 95 التين آیت نمبر 3