لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِىۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ – سورۃ نمبر 95 التين آیت نمبر 4
sulemansubhani نے Thursday، 13 November 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِىۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ۞
ترجمہ:
بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا
التین : ٤ میں فرمایا، بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔
” انسان “ کے مصداق میں اقوال اور اس کے بہترین سخت میں ہونے کی توجیہ
اس آیت میں ” انسان “ کا لفظ ہے اور اس کے مصداق میں متعدد اقوال ہیں :
ایک قول یہ ہے کہ ” انسان “ سے مراد کافر ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد الولید بن المغیرہ ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کلدۃ بن اسید ہے، ان اقوال کی بناء پر یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے، جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرتے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ اس ” انسان “ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد ہے۔
بہترین ساخت سے مراد یہ ہے کہ انس کو معتدل اور سیدھی قامت میں پیدا کیا ہے، کیونکہ دوسرے حیوان جھکے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کا چہرہ بھی جھکا ہوا ہوتا ہے، اس کے برعکس انسان کی قامت سیدھی ہوتی ہے، وہ اپنے ہاتھوں سے کھانے کی چیز پکڑ کر منہ میں لے جاتا ہے، منہ کو کھانے کی چیز کی طرف نہیں جھکاتا۔
قاضی ابوبکر بن العربی نے کہا : اللہ تعالیٰ کی کوئی مخلوق انسان سے زیادہ حسین نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ن یانسان میں علم، قدرت ارادہ کرنے، باتیں کرنے، سننے، دیکھنے، تدبیر کرنے اور حکمت کی صلاحیت رکھی اور یہ تمام رب تبارک و تعالیٰ کی صفات ہیں، گویا انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہے، حدیث میں ہے، حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرت ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہے، حدیث میں ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
ان اللہ خلق آدم علی صورتہ بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم کو پانی صورت پیر پیدا کیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :627، صحیح مسلم رقم الحدیث :2841)
علماء نے بیان کیا ہے کہ اس حدیث میں صورت بہ معنی صفت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ صورت کے معروف معنی سے پاک ہے اور کوئی چیز اللہ کی ثمل نہیں ہے انسان عالم صغیر ہے اور عالم کبیر کی ہر نشانی اس عالم صغیر میں موجود ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 95 التين آیت نمبر 4