أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالتِّيۡنِ وَالزَّيۡتُوۡنِۙ‏ ۞

ترجمہ:

انجیر اور زیتون کی قسم

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انجیر اور زیتون کی قسم۔ اور طورسینین کی۔ اور اس امن والے شہر (مکہ) کی۔ بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔ (التین : ٤-١)

” التین ‘ کا معنی اور اس کے طبی فوائد

التین : ١ میں ” تین “ اور ” زیتون “ کے الفاظ ہیں۔ ” تین “ کا معنی ہے انجیر، انجیر اور زیوتن دو مشہور پھل ہیں، انجیر عمدہ اور لذیذ پھل ہے، اس میں فضلہ اور فالتو مادہ نہیں ہوتا، اس میں لطیف غذائیت ہوتی ہے، یہ زود ہضم ہے، نفع آور دوا ہے، طبیعت کو نرم کرتا ہے، بلغم کو تحلیل کرتا ہے، گردوں کو صاف کرتا ہے، مثانہ کی پتھری کو توڑتا ہے، جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتا ہے اور بدن کو فربہ کرتا ہے اور حدیث میں ہے یہ بواسیر کو قطع کرتا ہے اور گٹھیا کے درد میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ (بیضاوی مع الحنفا جی ج ٩ ص ٥٢١ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٧ ھ)

انجیر یونان، ترکی، اسپین اور جنبوی فرانس میں پیدا ہوتا ہے اور وہیں سے درآمد کیا جاتا ہے۔ انجیر قبض کشاء ہے، انجیر کا دودھ بواسیری مسوں کا علاج ہے، اس کا دودھ مسوں پر لگانے سے معمولی ورم آتا ہے لیکن خود بہ خود دور ہوجاتا ہے اور مسا جھڑ جاتا ہے۔ بلغم کو پکا کر خ، ارج کرتا ہے، اس کو کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے، پسینہ آور ہے، اس سے تلی کا ورم اور جگر کی سختی دور ہوجاتی ہے، چونکہ یہ پیشاب آور ہے اس لئے گردہ اور مثانہ کی پتھری بھی نکالتا ہے۔ سوگرام انجیر میں ٢١٤ حرارے، ٤ گرام پروٹین، ٦٩ گرام نشاستہ، ١ گرام چکنائی اور ١٩ گرام ریشہ (پھوک) پایا جاتا ہے۔ (مفید دوائیں، مفید غذائیں ص 48-49 بیت الحکمتہ، کراچی)

انجیر کے متعلق حسب ذیل حدیث ہے :

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم ثعلبی متوفی 427 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں انجیر کا ایک طبقا ہدیہ کیا گیا، آپ نے اس میں سے انجیر کھائیں اور اپنے اصحاب سے فرمایا : کھئاو، پھر آپ نے فرمایا : اگر میں یہ کہوں کہ یہ پھل جنت سے نازل ہوا ہے تو کہہ سکتا ہوں، کیونکہ جنت کے پھل بغیر گٹھلی کے ہوتے ہیں، اس کو کھائو کیونکہ یہ بواسیر کو قطع کرتا ہے اور گھٹیا کے درد میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ (الکشف والبیان ج 10 ص 238 داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٢ ھ)

اس حدیث کو امام ابونعیم نے ’ دلطب “ میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے۔ (حاشیۃ الکشاف ج ٤ ص 778)

” زیتون “ کا معنی اور اس کے طبی فوائد

زیوتن مشہور پھل ہے، یہ زیادہ تر بحیرہ روم کے ساحلی ملکوں میں پیدا ہوتا ہے، مثلاً یونان، فلسطین اور اسپین وغیرہ، اس کا پھل قدرے کسیلا ہوتا ہے، اس سے تیل نکالا جاتا ہے جس کو روغن زیوتن کہتے ہیں، روغن زیوتن جوڑوں کے درد میں مفید ہے، قرآن مجید میں زیوتن کے درخت کا ذکر فرمایا ہے :

(المومنون : ٢٠) اور وہ درخت جو طور سینا پہاڑ سے نکلات ہے، جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والوں کے لئے سالن ہے۔

زیتون کا تیل سالن کے طور پر بھی اسعتمال ہوتا ہے، سالن پر ’ دصبغ “ کا اطلاق فرمایا ہے ” صبغ “ کا معنی رنگ ہے اور روٹی سالن کے ڈبونے سے رنگین ہوجاتی ہے، طور سینا اور اس کے قرب و جوار کے علاقہ میں عمدہ قسم کا زیتون پیدا ہوا ہے۔

زیوتن کے متعلق حسب ذیل حدیث ہے :

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : زیوتن کی مسواک کیا خوب ہے، وہ مبارک درخت کی ہے، وہ بدبو کو زائل کرتی ہے اور منہ کو خوش بودار کرتی ہے، یہ میری مسواک ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مسواک ہے۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٦٨٢، حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا، اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ حاشیتہ الکشاف ج ٤ ص 773)

” والتین والزیتون “ کی تفسیر میں مفسرین کے اقوال

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا :” التین “ سے مراد حضرت نوح علیہ السلا مکی مسجد ہے، جو جودی پر بنی ہوئی تھی، اور زیتون سے مراد مسجد بیت المقدس ہے۔ ضحاک نے کہا :” التین “ مسجد حرام ہے اور ” الزیتون “ مسجد اقصیٰ ہے۔ ابن زید نے کہا ” التین “ مسجد دمشق ہے اور ” الزیتون “ مسجد بیت المقدس ہے، قتادہ نے کہا :” التین “ دمشق کا پہاڑ ہے اور ” الزیتون ‘ بیت المقدس کا پہاڑ ہے اور محمد بن کعب نے کہا :” التین “ اصحاب الکہف کی مسجد ہے اور ” الزیتون “ مسجد ایلیاء ہے، کعب الاحبار اور عکرمہ نے کہا، ” التین “ دمشق ہے اور ” الزیتون “ بیت المقدس ہے، الفرئا نے کہا :” التین “ حلوان سے ھمذان تک کے پہاڑ میں اور ” الزیتون ‘ شام کے پہاڑ ہیں، ان کو طور زینا اور طور تینا کہا جاتا ہے، عکرمہ سے ایک روایت ہے کہ ” التین “ اور ” الزیتون ‘ شام کے دو پہاڑ ہیں۔

زیادہ صحیح یہ ہے کہ ” التین “ اور ” الزیتون ‘ سے مراد انجیر اور زیتون کے درخت ہیں اور ان سے مسجد یا شہر مراد لیا مجاز ہے اور بغیر ضرورت کے قرآن مجید کے الفاظ کو مجاز پر محمول کرنا جائز نہیں ہے، انجیر کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ اس درخت کے پتوں سے حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے بدن کو ڈھانپا تھا، قرآن مجید میں ہے :

تخصفن علیھما من ورق الجنۃ (الاعراف : ٢٢) وہ دونوں اپنے اوپر جنت کے درخت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے۔ اور وہ انجیر کے درخت کے پتے تھے، دوسری وجہ یہ ہے کہ انجیر کا درخت بہت خوبصورت ہے اور اس کا پھل لذیذ اور خوش ذائقہ ہے۔ زیوتن کے درخت کی قسم اس لئے کھائی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس درخت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے :

یو قدمن شجرۃ مبرکۃ زیتونۃ (النور : ٣٥) وہ چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو۔ اس آیت میں حضرت ابراہیم کو زیتون کے درخت سے تشبیہ دی گی ہے۔ جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے :

اکثر شام کے لوگ زیوتن کے تیل کے ساتھ روٹی کھاتے ہیں، اور اسی سے سالن پکاتے ہیں اور پیٹ کے امراض میں اس کو اسعتمال کرتے ہیں۔ حضرت عمر بن الخطاب بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زیوتن کھائو اور اس کا تیل استعمال کرو کیونکہ وہ مبارک درخت سے ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٨٥١ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٣٢٠) (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص 99-100 دارالفکر، بیروت 1415 ھ)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 95 التين آیت نمبر 1