أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِىۡ خَلَقَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

(اے رسول مکرم ! ) اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے رسول مکرم ! ) اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا۔ انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔ پڑھیے اور آپ کا رب ہی سب سے زیادہ کریم ہے۔ (العلق : ٣-١)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نزول وحی کی ابتداء

حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہئی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو خواب دیکھتے، اس کی تعبیر روشن صبح کی طرح ظاہر ہوجاتی ہے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں تنہائی کی محبت پیدا کی گئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار حرا میں جا کر تنہائی میں بعادت کرنے لگے، کئی کئی راتیں غار میں رہتے اور خوردو نوش کا سامان ساتھ لے جاتے (جب کھانے پینے کی چیزیں ختم ہوجاتیں) تو حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) سے آ کر اور چیزیں لے جاتے۔ اسی دوران غار حرا میں آپ پر اچانک وحی نازل ہوئی۔ فرشتے نے آ کر آپ سے کہا : پڑھیے آپ نے فرمایا : میں پڑھنے والا نہیں ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتلایا کہ پھر فرشتہ نے زور سے گلے لگا کر مجھے دبایا حتیٰ کہ اس نے دبانے پر پوری قوت صرف کردی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا : پڑھیے : میں نے کہا : میں پڑھنے والا نہیں ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ فرشتہ دوبارہ مجھے پکڑ کر بغل گیر ہوا، حتیٰ کہ مجھے پوری قوت سے دبایا، پھر مجھے چھوڑ کر کہا : پڑھیے، میں نے کہا میں پڑھنے والا نہیں ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتہ تیسری بار مجھے پکڑ کر بغل گیر ہوا حتیٰ کہ مجھے پوری قوت سے دبایا، پھر مجھے چھوڑ کر کہا : اقرا باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرا و ربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ “ (اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا ہے۔ انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔ پڑھیے اور آپ کا رب ہی زیادہ کریم ہے۔ جس نے قلم سے (لکھنا) سکھایا۔ انسان کو وہ سکھایا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔ ) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وحی کو لے کر حضرت خدیجہ کے پاس اس حال میں پہنچے کہ آپ پر کپکپی طاری تھی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے کپڑا اڑھائو، مجھے کپڑا اڑھائو، گھر والوں نے آپ کو کپڑے اڑھائے، حتیٰ کہ آپ کا خوف دور ہوگیا، پھر آپ نے حضرت خدیجہ کو تمام واقعہ سنایا اور فرمایا : اب میرے ساتھ کیا ہوگا ؟ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ حضرت خدیجہ نے عرض کی : ہرگز نہیں ! آپ کو یہ نوید مبارک ہو، اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوال نہیں کرے گا، خدا گواہ ہے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، نادار لوگوں کو مال دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہ حق میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں، پھر حضرت خدیجہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی مذہب پر تھے، اور انجیل کو عربی زبان میں لکھتے تھے، بہت بوڑھے ہوچکے تھے اور بینائی جاتی رہی تھی، حضرت خدیجہ نے ان سے کہا، اے چچا ! اپنے بھتیجے کی بات سنیے، ورقہ بن نوفل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہا : اے بھتیجے ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں وحی ملنے کا تمام واقعہ سنایا، ورقہ نے کہا : یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ کے پاس وحی لے کر آیا تھا، کاش میں جوان ہوتا، کاش ! میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو وطن سے نکال دے گی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وہ مجھ کو واقعی نکال دیں گے ؟ ورقہ نے کہا : ہاں ! جس شخص پر بھی آپ کی طرح وحی نازل ہوئی، لوگ اس کے دشمن ہوجاتے تھے، اگر وقت نے مجھ کو مہلت دی تو میں اس وقت آپ کی انتہائی قوی مدد کروں گا۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کی ابتداء …اس کے بعد حدیث مثل سابق ہے اور اس روایت میں یہ ہے کہ حضرت خدیجہ نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز شرمندہ نہیں کرے گا اور حضرت خدیجہ نے ورقہ سے کہا : اے میرے چچا زاد ! اپنے بھتیجے کی بات سن لیجیے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٠ مسند احمد ج ٦ ص 232-233)

وحی کا لغوی معنی

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی۔

علامہ زبیدی لکھتے ہیں :

وحی کا معنی ہے : اشارہ، کتابت، مکتوب، رسالتہ، الہام کلام خفی، ہر وہ چیز جس کو تم اپنے غیر کی طرف القاء کرو۔

وحی میں اصل یہ ہے کہ بعض لوگ بعض لوگوں سے آہستہ کلام کریں، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

(الانعام : ١١٢) ( ” شیاطین الانس والجن “ ) ایک دور سے کو خفیہ طریقے سے ملمع کی ہوئی جھوٹی بات (لوگوں کو) فریب دینے کے لئے پہنچاتے ہیں۔

یہ اس لفظ کا اصل معنی ہے، پھر یہ الہام کے معنی میں مقتصر ہوگیا، ابواسحٰق نے کہا : وحی کا لغت میں اصل معنی ہے : خفیہ طریقہ سے خبر دینا، اسی وجہ سے الہام کو وحی کہتے ہیں، اسی طرح اشارہ اور کتابت کو بھی وحی کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(الشوریٰ : ١٥) اور کسی بشر کے لائق نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے، مگر وحی سے یا پردہ کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے جو اس کے حکم سے وہ وحی کرے جو کچھ اللہ چاہے۔

اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بشر کو الہام یا خواب کی صورت میں خفیہ طریقہ سے خبر دیتا ہے، یا بشر پر کتاب نازل کرتا ہے، جیسے حضرت موسیٰ پر کتاب نازل کی یا قرآن نازل فرماتا ہے، جس کی تلاوت کی جاتی ہے، جیسا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل فمایا۔ ان میں سے ہر صورت اعلام (خبر دینے) کی ہے، اگرچہ ان کے اسباب اور کلام کی نوعیت مختلف ہے۔ (تاج العروس ج ١٠ ص 358 المعلبعتہ الخیریہ، مصر 1306 ھ)

وحی کا شرعی معنی

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

وشرعا الاعلام بالشرع وقد یطلق الوحی وبراد بہ الموحی وھو کلام اللہ المنزل علی النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (فتح الباری ج ١ ص ٩ لاہور) شریعت کی خبر دینا وحی ہے اور کبھی وحی سے اس کلام کو مراد لیا جاتا ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا ہے۔

نزول وحی کی صورتیں اور اقسام

علامہ بدر الدین عینی نے وحی کی حسب ذیل اقسام اور صورتیں بیان کی ہیں :

(١) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام قدیم کو سننا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے، اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام قدیم سننا، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں ہے۔

(٢) فرشتے کے واسطہ سے وحی کا نازل ہونا۔

(٣) دل میں کسی معنی کا القاء کیا جانا۔

(٤) ” صلصلۃ الجرس “ (گھنٹی کی آواز) کی صورت میں وحی کا نازل ہونا۔

(٥) حضرت جبریل (علیہ السلام) کسی غیر معروف آدمی کی شکل میں آ کر بات کریں، جیسے ایک اعرابی کی شکل میں آئے۔

(٦) حضرت جبریل (علیہ السلام) اپنی اصل شکل میں آئیں جیسے حضرت جبریل (علیہ السلام) چھ سو پروں کے ساتھ آئے، جن سے یاقوت اور موتی جھڑ رہے تھے۔

(٧) حضرت جبریل (علیہ السلام) کسی معروف آدمی کی شکل میں آئیں، جیسے حضرت وحیہ کلبی کی شکل میں آئے۔

(٨) اللہ تعالیٰ براہ راست بیداری میں آپ سے ہم کلام ہو، جیسے شب معراج میں پردے کی اوٹ سے کلام فرمایا۔

(٩) اللہ تعالیٰ آپ سے نیند میں ہم کلام ہو، جیسے جامع ترمذی میں حدیث مرفوع ہے، آپ نے فرمایا : میں نے اللہ عزوجل کو بہت حسین صورت میں دیھکا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ملا اعلیٰ ! کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟

(١٠) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں کوئی واقعہ دکھایا جائے، جیسے حضرت جبریل (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا کہ وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کر رہے ہیں۔

(١١) وحی اسرافیل جیسا کہ مسند احمد میں ہے : تین سال حضرت اسرافیل (علیہ السلام) آپ کے ساتھ مئوکل رہے۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص 40 طبع مصر)

خواب کی تعریف اور اقسام

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

انسان نیند میں جو کچھ دیکھتا ہے، اس کو خواب کہتے ہیں اور قاضی ابوبکر بن العربی نے کہا : خواب ان اور اکات کو کہتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بندہ کے قلب میں پیدا کرتا ہے، جس طرح بیداری میں اللہ تعالیٰ انسان کے دل میں اور اکات پیدا کرتا ہے خواب میں جو ادراکات ہوتے ہیں وہ دوسرے امور کے لئے علامات بن جاتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ بعد میں پیدا فرمائے گا اس کی نظیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کی بارش کے لئے علامت بنایا ہے، لیکن کبھی اس کے خلاف بھی ہوتا ہے۔

نیز حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

خواب کی دو قسمیں ہیں : پہلی قسم رئویا صادقہ، یہ انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کے خواب ہیں، جو کچھ وہ خواب میں دیکھتے ہیں، اس کے موافق بیداری میں واقع ہوجاتا ہے، اور دوسری قسم ہے : اضغاث، اور اس کی تین قسمیں ہیں :

(١) خواب میں دیکھنے اولے کے ساتھ شیطان مذاق کرتا ہے تاکہ خواب دیکھنے والا خوف زدہ اور غمگین ہو، مثلاً وہ دیکھتا ہے کہ اس کا سرکاٹ دیا گیا ہے اور وہ اس کے پیچھے بھاگ رہا ہے (٢) وہ خواب میں دیکھتا ہے کہ فرشتے اس کو کسی حرام کام کو کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں (٣) انسان دن میں جو باتیں کرتا ہے اور اس کے دل میں جو تمنائیں واقع ہوتی ہیں وہ انہی چیزوں کو خواب میں دیکھتا ہے، یا جن چیزوں کو وہ بیداری میں زیادہ دیکھتا ہے، انہی کو خواب میں دیکھتا ہے یا جو چیزیں اس کے مزاج پر غاب ہوتی ہیں، وہی اس کو خواب میں نظر آتی ہیں۔ (فتح الباری ج ١٢ ص 353-354، طبع لاہور)

ابتداء نبوت میں غار حرا جانے کی حکمتیں

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی ابتداء سچے خوابوں سے کی گئی، تاکہ فرشتے کا آپ کے پاس آنا جانا کوئی اچانک حادثہ نہ ہو، اس لئے پہلے آپ میں خصال نبوت پیدا کئے گئے، آپ کو سچے خواب دکھائے گئے، حجر اور شجر آپ کو دیکھ کر سلام عرض کرتے اور آپ کو نبی کہہ کر مخاطب کرتے، پھر اللہ تعالیٰ نے بیداری میں آپ کے پاس فرشتہ بھیجا۔

آپ کے دل میں تنہائی کی محبت پیدا کی گئی، تاکہ آپ کا دل دنیا اور اس کے تفکرات سے فارغ ہو، کیونکہ جب تک انسان گھٹن ریاضت نہ کرے، وہ اپنی طبیعت سے منتقل نہیں ہوتا، اس لئے آپ کے دل میں خلوت گزینی پیدا کی گئی تاکہ آپ لوگوں کے ساتھ میل جول سے منقطع ہوں اور آپ کے لئے وحی کا حصول سہل اور آسان ہو، فرشتے کا آپ سے بار بار یہ کہنا، پڑھیے اور اپنے سینہ سے لگا کر بھیجنا بھی اسی لئے تھا، تاکہ آپ کو فرشتے کے ساتھ مناسبت پیدا ہو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غار حرا کی تنہائیوں میں بیٹھنا اسی طرح تھا، جس طرح ابتداء میں حضرت جبریل (علیہ السلام) اپنے رب کی عبادت کرنے کے طریقہ پر غور و فکر کر رہے تھے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار حرا میں کئی کئی دنوں تک ٹھہرنے کے لئے اپنے ساتھ کئی کئی دنوں کا کھانا لے جاتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ مستقبل کے لئے کھانے پینے کی چیزوں کا بندوبست کرنا اور اسباب کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔

نبی اللہ تعالیٰ کے فرشتہ کو پہچاننے کی تحقیق

علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں :

امام ابن سعد نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ فرشتہ آپ کے پاس حرا میں سترہ رمضان کو پیر کے دن آیا تھا اور اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر چالیس سال تھی۔

ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ جب ابتداء میں فرشتہ آپ کے پاس وحی لے کر آیا تو آپ کو یہ کیسے یقین ہوگیا کہ یہ فرشتہ ہے شیطان نہیں ہے، علامہ عینی نے اس کا یہ جواب دیا کہ جس طرح نبی اپنے صدق کے ثبوت میں امت کے سامنے معجزہ پیش کرتا ہے، اسی طرح جب فرشتہ نبی کے پاس وحی لے کر آتا ہے تو وہ بھی اپنے صدق کے ثبوت میں معجزہ پیش کرتا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص 62 طبع مصر)

تحقیق یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک صفت دی ہے جس کی وجہ سے ہم انسان اور حیوان کے درمیان امتیاز کرلیتے ہیں، اسی طرح اللہ نے نبی کو ایک اور صفت دی ہے، جس سے وہ فرشتوں اور شیطان کے درمیان امتیاز کرلیتا ہے۔

امام غزالی فرماتے ہیں :

ان لہ صفۃ بھایبصر الملائکۃ ویشاھدھم کما ان للبصیرصفۃ بھایفارق الاعمیٰ حتی یدرک بھا المبصرات۔ (احیاء العلوم ج ٤ ص 190 بیروت) نبی کو ایک ایسی صفت حاصل ہوتی ہے، جس سے وہ فرشتوں کو دیکھتا ہے اور ان کا مشاہدہ کرتا ہے، جس طرح بینا آدمی کو ایک ایسی صفت حاصل ہے جس سے وہ اندھوں میں ممتاز ہے اور مبصرات کا ادراک کرتا ہے۔

اس بحث کو زیادہ تفصیل سے جاننے کے لئے شرح صحیح مسلم جلد خامس ص 88-108 کا مطالعہ کریں۔

” ما انا بقاری “ کی تحقیق

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

جبرائیل نے آپ سے کہا :” اقرائ “ پڑھیے : آپ نے فرمایا :” ماانا بقاری “ میں اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا، اور جب تین بار آپ نے یہی فرمایا تو جبرائیل نے کہا :” اقرا باسم ربک “ یعنی آپ اپنی قوت اور اپنی معرفت سے نہ پڑھیں بلکہ آپ اپنے رب کی طاقت اور اس کی اعانت سے پڑھیں، اس نے جس طرح آپ کو پیدا کیا ہے وہ آپ کو پڑھنا سکھائے گا، یہ علامہ سہیلی کی تقریر ہے۔

اور دوسرے علماء نے یہ کہا کہ ” ما انا بقاری “ کی ترکیب اختصاص کا تقاضا کرتی ہے، کیونکہ جب مسندالیہ سے پہلے حرف نفی ہو، مسند الیہ، مسند پر مقدم ہو اور مسند فعل یا شبہ فعل ہو تو اس ترکیب میں مسند، مسند الیہ کے ساتھ مختص ہوتا ہے، جیسے ” ماانا قلت ھذا ‘ یعنی یہ بات صرف میں نے نہیں کہی، اس کا مطلب ہے : میرے علاوہ دوسروں نے یہ بات کہی ہے، یعنی صرف میں قرأت نہیں کرسکتا، میرے عالوہ دوسرے قرأت کرسکتے ہیں، علامہ طیبی نے اس تقریر کو مسترد کردیا ہے اور کہا : یہ ترکیب تقویت اور تاکید کا تقاضا کرتی ہے اور اس کا معنی ہے : میں یقینا قرأت کرنے والا (پڑھنے والا) نہیں ہوں، اگر یہ سوال کیا جائے کہ آپ نے تین بار ” ما انا بقاری “ کیوں فرمایا، اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی بار کا معنی یہ ہے کہ میں پڑھ نہیں سکتا، دوسری بار کا معنی یہ ہے : میں پھڑتا نہیں ہوں اور تیسری بار کا معنی ہے : میں کیا پڑھوں ؟ اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ ابو الاسود نے مغازی میں عروہ سے روایت کیا ہے :” کیف اقرئ “ میں کیسے، پڑھوں اور سیرت ابن اسحاق میں عبید بن عمیر سے روایت ہے، ” ماذا اقرئ “ میں کیا پڑھوں ؟ “ اور دلائل بیہقی میں زہری سے مرسلاً روایت ہے :” کیف اقرائ “ میں کیسے پڑھوں ؟ “ اور ان تمام روایات سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ یہ ” ما “ استفہامیہ ہے۔ (فتح الباری ج ١ ص 23-24 دار نشر الکتب الاسلامیہ، لاہور 1401 ھ)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں :

آپ نے فرمایا : میں پڑھا ہوا نہیں ہوں اس لئے مجھ سے پڑھا نہیں جاسکتا، ہوسکتا ہے کہ اچانک فرشتے کو دیکھنے سے آپ کو سخت دہشت اور خوف لاحق ہوا ہو اور اس خوف اور دہشت کی وجہ سے آپ نے فرمایا ہو : میں پڑھا ہوا نہیں ہوں اور اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ آپ نے امی ہونے کی وجہ سے یہ فرمایا، کیونکہ جو شخص پڑھا ہوا نہ ہو، وہ دوسرے کے پڑھانے سے پڑھ سکتا ہے اور کسی کی تعلیم سے پڑھنا امیت کے منافی نہیں ہے، خصوصاً جب کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غایت درجہ کے فصیح وبلیغ تھے ماں ! کسی لکھی ہوئی چیز کو دیکھ کر پڑھنا امیت کے منافی ہے، قاموس میں لکھا ہے کہ امی اس شخص کو کہتے ہیں : جو لکھنا نہ جانتا ہو اور لکھی ہوئی چیز کو نہ پڑھ سکتا ہو اور بعض روایات میں ہے کہ جبرائیل جواہر سے آراستہ ایک ریشم کا صحیفہ لائے تھے، انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں وہ صحیفہ رکھ کر کہا : پڑھیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں پڑھا ہوا نہیں ہوں تو اس نامہ اور نوشتہ میں لکھی ہوئی چیز کو کیسے پڑھوں ؟ یہ معنی زیادہ مناسب اور زیادہ ظاہر ہے۔ (اشعتہ اللمعات ج ٤ ص 506-507 مطبع تیج کمار، لکھنئو)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 96 العلق آیت نمبر 1