7 اکتوبر کے جھٹکے: اسرائیل کی پہچان کیوں بدل رہی ہے؟
7 اکتوبر کے جھٹکے: اسرائیل کی پہچان کیوں بدل رہی ہے؟
عتیق گورایہ
یہ اہم باتیں الجزیرہ کی عربی ویب سائٹ پر شائع ایک تفصیلی رپورٹ سے لی گئی ہیں۔
۔7 اکتوبر 2023ء کو جب طوفان کا واقعہ ہوا، تو اسرائیل پر ایک بہت بڑا جھٹکا لگا۔ یہ صدمہ صرف سیکیورٹی کا نہیں، بلکہ ملک کے وجود اور اس کی بنیادی سوچ کا بن گیا۔ اس نے اسرائیلی معاشرے کے “معاہدے” کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ریاست کی پہچان: جمہوریت سے سیکیورٹی کی طرف
پہلے ریاست کا جو طریقہ تھا اس میں جمہوریت اور آزادی کی بات ہوتی تھی، وہ اب تیزی سے “سیکیورٹی ریاست” کی طرف جھک رہا ہے۔ اس نئے رجحان میں، برابری اور شہریت جیسی باتوں کو پیچھے چھوڑ کر، ملک سے وفاداری اور مکمل تحفظ کو سب سے زیادہ اہم بنا دیا گیا ہے۔ اس سارے معاملے میں یہودیت کو سر فہرست رکھا جارہا ہے ۔
بڑے نفسیاتی دباؤ میں، انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں نے اپنی پالیسیوں کو درست ثابت کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کا مقصد اسرائیلی پہچان کو نئے سرے سے بنانا ہے۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ “یا تو مضبوط سیکیورٹی، یا پھر افراتفری”۔ اس کے نتیجے میں، یہودیوں اور عربوں کے درمیان اعتماد بہت کم ہو گیا ہے، اور صرف “یہودی ہونا” ہی مکمل شہریت کی شرط بنتا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو ملک میں ایک نئے نسلی امتیاز پر مبنی نظام کو مضبوط کر رہا ہے۔ “یہودیت کی ریاست” اب صرف سوچنے کی بات نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی حکومتی پالیسی بن گئی ہے جسے زمین پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا اصل مرکز مذہبی قوم پرستی ہے۔
تعلیمی ماہر نیر امیٹ کے مطابق، اسرائیل کو شروع سے ہی اپنی یہودی ریاست کی تعریف کرنے میں مشکل پیش آتی رہی ہے۔ مگر آج دایاں بازو اسی کام کو زبردستی کرنا چاہتا ہے، جہاں یہودی پہچان کو “اسرائیلی روح کا نچوڑ” کہا جا رہا ہے۔ جو قابض فوج کئی دہائیوں تک مبینہ طور پر سیکولر رہی، اب اس پر مذہبی اثر واضح طور پر بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح، وزیر تعلیم یوآف کیش نے کہا ہے کہ “یہودی پہچان کو اب لوگوں کی ذاتی پسند پر نہیں چھوڑا جا سکتا”۔ یعنی تعلیمی نظام کے ذریعے یہ نئی پہچان جبراً تھوپی جا رہی ہے۔ ایک سروے سے یہ بھی پتہ چلا کہ آج کے “اسرائیلی” کو شہری حقوق کے بجائے نسلی اور مذہبی بنیادوں پر زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
اندرونی خوف اور حکومت پر عدم اعتماد
حکمران دائیں بازو نے 7 اکتوبر کے واقعے کو ایک آسان اور طاقتور نعرے کے لیے استعمال کیا: “یا تو سخت سیکیورٹی والی ریاست، یا سب کچھ برباد”۔ اس کی آڑ میں، وہ جمہوریت سے پیچھے ہٹنے اور ہر اختلاف کی آواز کو نظرانداز کرنے کو صحیح قرار دے رہے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز (INSS) کے سروے بتاتے ہیں کہ 51 فیصد لوگوں کو ڈر ہے کہ 7 اکتوبر جیسا واقعہ دوبارہ ہو سکتا ہے۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ صرف 29 فیصد لوگ ہی خود کو پوری طرح محفوظ سمجھتے ہیں۔ مزید یہ کہ، 58 فیصد اسرائیلی ملک کے باہر کے خطرات کے بجائے اندرونی سماجی اور قومی خطرات سے زیادہ فکر مند ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں “اپنے اندرونی دشمن” سے زیادہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔
جنگ کے بعد، 65 فیصد اسرائیلی معاشرتی حالات کے بارے میں فکر مند ہیں، یعنی انہیں لگتا ہے کہ ملک کا اندرونی توازن خطرے میں ہے۔ اس کے علاوہ، 63 فیصد لوگوں کا اسرائیلی حکومت پر بھروسہ کم ہو گیا ہے۔ یہ قومی خلا ایسی مقبول عام قوتوں کو بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے جو خود کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
یہودیوں اور عربوں کے درمیان بڑھتی دوری
اس بحران نے یہودیوں اور عربوں کے تعلقات میں ایک بڑی دوری پیدا کر دی ہے۔ شہریت کو صرف یہودی قومی وابستگی تک محدود کر دیا گیا ہے اور عرب شہریوں کو کنارے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ INSS سروے کے مطابق، صرف 12 فیصد عرب فوج کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ یہودیوں میں یہ تناسب 44.5 فیصد ہے۔ ایک حیران کن بات یہ ہے کہ 54 فیصد عرب شہری خود کو کم محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سیکیورٹی ریاست جو یہودیوں کے لیے حل ہے، وہ خود عرب شہریوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 73.2 فیصد اسرائیلی عرب چاہتے ہیں کہ آئندہ حکومت میں کوئی عرب پارٹی شامل ہو۔ لیکن یہ خواہش اس حقیقت سے ٹکراتی ہے کہ دوسرا فریق انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ایک اور سروے کے مطابق، 70 فیصد عرب لوگ “اسرائیلی” کو اپنی بنیادی پہچان نہیں سمجھتے۔ یہ ان کو باہر رکھنے اور منظم امتیاز کی پالیسیوں کا ایک قدرتی نتیجہ ہے۔ اسی طرح، سروے سے پتہ چلا کہ 72 فیصد یہودی عرب شہریوں پر بھروسہ نہیں کرتے، جبکہ 43 فیصد عرب یہودی شہریوں پر بھروسہ نہیں کرتے۔
حقوق صرف وفاداری کی شرط پر
اس تبدیلی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ شہریت کے تصور کو بدل دیا گیا ہے۔ اب یہ ایک حق نہیں رہا، بلکہ ریاست کی یہودی پہچان سے وفاداری کی شرط پر ایک امتیاز بن گیا ہے۔ اس کا مقصد اسرائیل میں نسلی غلبے کو مضبوط کرنا ہے۔ ایک خبر کے مطابق، حکمران اتحاد “قانونِ واپسی” میں ایک تبدیلی پر غور کر رہا ہے۔ اس تبدیلی سے “پوتے کی شق” ختم ہو جائے گی، جس کے بعد وہ غیر مذہبی یہودی جن کا صرف ایک دادا یا نانا یہودی تھا، انہیں شہریت کے حق سے خارج کر دیا جائے گا۔ یہ اقدام آرتھوڈوکس ربانی یہودیت کو واحد معیار بنا رہا ہے۔
خلاصہ
آج اسرائیل ایک نئے “معاہدہ سماجی” کی زبردستی پیدائش کے عمل سے گزر رہا ہے۔ یہ معاہدہ سب شہریوں کی برابری پر نہیں، بلکہ ایک نسلی ومذہبی گروہ کی دوسرے پر برتری پر قائم ہے۔ یہ معاہدہ شہری آزادیوں کی حفاظت نہیں کرتا، بلکہ سیکیورٹی کو سب سے بڑی چیز بنا کر امتیازی سلوک کو قانونی حیثیت دیتا ہے، اور ملک کے اندرونی “شراکت دار” کو ایک بڑا خطرہ بنا دیتا ہے۔
ماخذ: الجزیرہ