شرپسند عناصر کی ذہنی ساخت اور توبہ کے اسلامی تصور سے انحراف — تحقیقی و تنقیدی مطالعہ
پروفیسر دلاور خان
ہر انسانی معاشرہ ایسے عناصر سے دوچار رہتا ہے جو اصلاح، اجتماعی خیر اور سماجی ہم آہنگی کے بجائے انتشار، بدظنی اور افتراق کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ عناصر عموماً مذہب، اخلاق یا سماجی اقدار کے نام پر اظہارِ غیرت کرتے نظر آتے ہیں، مگر عملی طور پر ان کا کردار اصلاح کے بجائے فتنہ انگیزی پر مبنی ہوتا ہے۔ ان کا ایک نمایاں رویّہ یہ ہے کہ وہ افراد سے توبہ و رجوع کا مطالبہ تو شدت سے کرتے ہیں، مگر جب وہی فرد اخلاص کے ساتھ رجوع کرے تو یہ عناصر اس کی توبہ کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔
توبہ کا اسلامی تصور
اسلام میں توبہ محض ایک رسمی یا سیاسی عمل نہیں بلکہ انسان کی روحانی تجدید، اخلاقی اصلاح اور سماجی توازن کا ایک بنیادی اصول ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے خود کو “توّاب” اور “رحیم” قرار دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں توبہ کی قبولیت اصل ہے، ردّ کرنا استثناء بھی نہیں۔
اسلامی شریعت میں توبہ کے قبول نہ کرنے کا اختیار کسی گروہ، فرد یا جماعت کو تفویض نہیں کیا گیا۔ بلکہ برعکس، امّت کو حکم دیا گیا ہے کہ گناہگار کی اصلاح میں معاون بنو، نہ کہ اس کی واپسی کے راستے بند کرو۔
شرپسند عناصر کی عملی ذہنیت
شرپسند عناصر کا اصل مسئلہ دین یا غیرت نہیں، بلکہ عناد، ہٹ دھرمی اور اقتدارِ نفس ہوتا ہے۔ وہ توبہ کو اصلاحی اصول کے بجائے ایک نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس رویّے کی چند نمایاں علامات ہیں:
1. دوہرا معیار: توبہ کا مطالبہ بھی خود کرتے ہیں اور اس کی نفی بھی خود ہی کرتے ہیں۔
2. سماجی استحصال: توبہ تسلیم نہ کرکے فرد کو ہمیشہ کے لیے مجرم ثابت کرنے کی کوشش۔
3. اخلاقی منافقت: بظاہر دین کا پرچار، مگر عملی طور پر دین کے بنیادی اصول—رحمت، معافی، اصلاح—سے دوری۔
4. معاشرتی انتشار: معافی کے دروازے بند کرنے سے جماعتی وحدت درہم برہم ہوتی ہے۔
یہ ذہنیت دراصل دینی نہیں بلکہ نفسیاتی برتری اور فتنہ پرور مزاج کی پیداوار ہوتی ہے۔
امام احمد رضا خان بریلویؒ نے ایسے ہی منفی اور شری کردار کی نشاندہی نہایت جامع پیرائے میں یوں کی:
“شرمِ نبی، خوفِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں”
یہ مصرع دراصل اُن لوگوں پر صدق آتا ہے جو:
نہ ادبِ مصطفیٰ ﷺ کے تقاضوں سے واقف ہیں،
نہ خوفِ الٰہی سے متاثر،
اور نہ ہی دینی اصولوں کے مطابق چلنے کے لیے تیار۔
یوں ان کا کردار مذہبی غیرت کے پردے میں انتشار اور بے حیائیِ فکر کا نمونہ بن جاتا ہے۔
سماجی و اخلاقی مضمرات
علمی نقطۂ نظر سے ایسے رویّے کے تین سنگین اثرات معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں:
1. اخلاقی انحطاط: معافی کے دروازے بند کرنے سے انسانی ہمدردی اور رحمت کا تصور کمزور ہوتا ہے۔
2. اجتماعی انتشار: افراد کی اصلاح ممکن نہ ہونے سے معاشرہ مستقل تقسیم کا شکار رہتا ہے۔
3. دینی اصولوں سے انحراف: قرآن و سنت کی تعلیمات کی روح—رحمت، معافی، اور خیر خواہی—پسِ پشت چلی جاتی ہے۔
اس تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ شرپسند عناصر کا رویّہ دینِ اسلام کی روح، نبی کریم ﷺ کی سنت، اور اخلاقی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ توبہ کا دروازہ بند کرنا، رجوع کرنے والوں کی تحقیر، اور اصلاح کے راستے روکنا نہ صرف انفرادی بگاڑ بلکہ اجتماعی فتنہ کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا ایک مہذب اور اسلامی معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ایسے طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی کرے اور توبہ، معافی اور اصلاح کے اصولوں کو مضبوط کرے۔