داتا دربار اور شرک
داتا دربار اور شرک
اجتماع عام سے تھوڑا وقت نکال کر ھم پہلی مرتبہ تنقیدی نیت سے داتا دربار گئے اس سے قبل کئی مرتبہ لاہور جانے کا اتفاق ہوا تھا لیکن ہر مرتبہ ھم نے داتا دربار جانے کا مشورہ مسترد کیا تھا کیونکہ ھم “اہلیان توحید” سے بچپن سے یہ سننے آریے تھے کہ وہاں شرک ہوتا ہے قبر کو سجدے کئے جاتے ہیں اور وہاں مرادیں مانگی جاتی ہیں لیکن اس مرتبہ پتہ نہیں ایمان کی کمزوری تھی یا عقل کی پختگی، آنکھوں کو زبردستی وہ نظارہ کرانے کا فیصلہ کیا جس کیلئے وہ تیار نہیں تھیں سو ھم بھی داتا دربار میں شرک کو دیکھنے کیلئے داخل ہوگئے وہاں پہلی نظر قطار میں کھڑے بےکس و بےبس لوگوں پر پڑی جو اپنے نمبر پر دیگ کے پاس جاکر روٹی حاصل کر رہے تھے، شیشوں سے تزئین شدہ مسجد کے صحن میں کچھ لوگ تلاوت کر رہے تھے مزار کے قریب جا کر خود کو عقیدت مند ظاہر کر کے دیگر عقیدت مندوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ دوزانوں بیٹھ کر اس انتظار میں تھا کہ اب کوئی آکر سجدہ کرے گا اور میں براہِ راست شرک کو دیکھوں گا لیکن لوگ آتے رہے کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ بیٹھ کر تلاوت اور درود شریف پڑھتے رہے اور دعا کر کے چلتے رہے ہاں کچھ لوگ قبر کو ہاتھ لگا کر اور محبت سے چوم کر چلتے بنے نہ کسی کو سجدہ کرنے دیکھا نہ کوئی اور شرکیہ حرکت، تو میرا منفی سوچ مثبت میں بدل گیا بلا قبر پر تلاوت اور درود شریف پڑھنا بھی کوئی جرم ہے؟ محبت سے قبر کو چومنا بھی کوئی گناہ ہے؟ صبح تو میں نے بھی مولانا مودودی کے قبر پر جا کر تلاوت اور درود شریف پڑھی تھی البتہ وہاں لوگوں کے خوف سے قبر کو نہیں چوم سکا اگر چہ دل تو بہت چاہ رہا تھا، پھر داتا صاحب کے مزار پر انکے ایصال ثواب کیلئے خود تلاوت اور درود پاک پڑھ کر انکی بلندی درجات کیلئے دعا کی اور سوچنے لگا کہ اتنا بڑا مزار کسی دین فروش یا مذہبی ٹھگ کی نہیں بلکہ ضرور اللہ کے کسی نیک بندے کا ہوسکتا ہے ویسے میں تو تصوف کے الف با سے ناواقف ہوں لیکن داتا صاحب کی تاریخ اور انکی شخصیت پر تحقیق کا تہہ کر لیا یوں منفی سوچ کے ساتھ آنے کے بعد مثبت سوچ کے کیساتھ داتا دربار سے رخصت ہوا
کسی نے کیا سچ کہا ہے کہ “بد سے بدنام برا”
محمد جمشید