بحیثیت مسلمان کس شخص کا دل نہیں کرتا کہ مقدس مقامات کی زیارت کرے۔۔۔ ان گلیوں میں دیوانہ وار گھومیں جہاں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قدم مبارک رکھے تھے۔۔۔
ان درو دیوار کو چومے جسے ہمارے آقا ﷺ کے دست مبارک نے چھوا تھا۔۔۔۔
بدر اور احد کے میدانوں کو دیکھیے جہاں ہمارے آقا ﷺ اور اہل وفا نے شجاعت و بہادری کی تاریخ رقم کی تھی۔ ۔۔۔ ان مساجد میں سجدہ ریز ہوں جہاں ہمارے آقا ﷺ کے قدم مبارک پہنچے تھے۔۔ ۔۔
یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔۔۔۔
لیکن کہیں کہیں حال بہت عجیب دیکھا ۔۔۔
غلاف کعبہ  کو چومنا  ہے خواہ کسی دوسرے مسلمان بھائی کو اذیت دے کر ہی کیوں نہ چوما جائے ۔۔۔
حجرِ اسود کو بوسہ دینا ہے تو دینا ہے اب خواہ کچھ بھی ہو خود زخمی ہوں یا ہماری وجہ سے دوسرا پریشانی میں آجائے ستر کھل جائے پرواہ نہیں ۔۔۔
غلاف کعبہ کے تار چپکے چپکے نکالنے ہیں یہ کیا کررہے ہو۔ عام مسجد کی چٹائی سے تنکہ توڑنا منع ہے چہ جائیکہ کہ غلاف کعبہ کو تبرک کے نام پر نوچ ڈالنا۔
قطار نہیں لگانی۔۔۔۔ ہمیں جلدی ہے ۔
بھئی کس بات کی جلدی ہے ؟ ڈیوٹی پر جانا ہے ؟ گھر والے انتظار کررہے ہیں اسی کام کے لیے تو آئے ہو  کیوں پریشانی اور عجلت میں ہو۔
جبل ملائکہ پر پہنچے تو دیکھا لوگ وہاں چڑھ رہے ہیں وہاں کی مٹی شاپر میں ڈال کر لا رہے ہیں۔۔۔۔
احد کے پہاڑ سے پتھر تو ڑ رہے ہیں اور اس کو اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔۔۔
جس چٹان پر صحابہ پر مشتمل تیر اندازوں کا دستہ موجود تھا حصول برکت کے لیے اسے اپنے پیروں سے روند رہے ہیں۔۔۔۔
اب تو صفا و مروہ پر انہوں نے شیشہ لگا دیا ورنہ یہ تبرک چور وہاں بیٹھ جاتے تھے اور اس کی مٹی کرید کرید  کر لاتے حصول برکت کے لیے حالانکہ اس کو انہوں نے کیمیکل لگا کر محفوظ کیا ہے۔۔۔۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نسبت کی اہمیت ہے لیکن اس طرح کیا یہ مقدس مقامات ختم نہیں ہوجائیں گے؟
صرف ایک گہری کھائی ہوگی اور بتایا جائے گا کہ یہاں دوپہاڑ  صفا و مروہ ہوا کرتے تھے۔۔۔۔ یہاں جبل ملائکہ تھا۔
کیا آپ چاہتے ہیں یہ مقدس مقامات آپ کی نادانی کے سبب ختم کر دئیے جائیں ؟
کچھ ہوش کے ناخن لیجیے سعودی گورنمنٹ نے اب سمجھ لیا ہے کہ ٹور ازم کو فروغ دینے سے پیسہ آئے گا انہوں نے ماضی میں بند کیے گئے کئی مقامات کو کھولنا شروع کر دیا ہے۔۔۔۔ لیکن آپ بھی مہربانی کیجیے کہ بالخصوص برصغیر کے لوگ  ۔
یہ سب کیوں کرتے ہیں ؟
قبر میں یہ تبرک ساتھ جائے ۔۔۔
نجات  کا سامان ہوجائے گا۔۔۔ بھائی وہ نیک اعمال بھی تبرک ہیں جن کی تعلیم ہمارے آقا ﷺ نے ہمیں دی ہے ہم ان پر عمل کریں گے ان شاءاللہ یہ تبرک ضرور ہمیں فائدہ دے گا۔۔
قرآن کریم کے ان الفاظ سے بھی روزانہ برکت حاصل کیجیے جو اللہ کے نبی ﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہوا۔۔۔
ان الفاظ کو اپنی زبان سے دہرائیے جو زبان رسول کریم ﷺ سے ادا ہوئے ۔۔۔
اپنے جسم سے وہ افعال انجام دیجیے جو رسول کریم ﷺ کی سنت ہے اور اتباع رسول کی برکتوں کو اپنی قبر میں ساتھ لے کر جائیے تاکہ نجات ہو سکے ۔۔۔
اب آپ فیصلہ کیجیے کہ آپ طالبِ تبرک ہیں  یا تبرک چور ؟
اسمٰعیل بدایونی
۱۲ دسمبر ۲۰۲۵
Ismail Budauni