أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِىۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ ۞

ترجمہ:

جس نے قلم سے (لکھنا) سکھایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس نے قلم سے (لکھنا) سکھایا۔ انسان کو وہ سکھایا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔ بیشک انسان ضرور سرکشی کرتا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو بےنیاز سمجھ لیا ہے۔ بیشک آپ کے رب کی طرف ہی لوٹنا ہے۔ کیا آپ نے اس کو دیکھا جو منع کرتا ہے۔ ہمارے بندہ کو جب وہ نماز پڑھے۔ آپ بتائیں اگر وہ منع کرنے والا ہدایت پر ہوتا۔ یا وہ اللہ سے ڈرنے کا حکم دیتا۔ آپ بتائیں اگر وہ حق کی تکذیب کرے اور پیٹھ پھیرے۔ (العلق : ١٣-٤)

لکھنے کی فضیلت اور لکھنے کے متعلق احادیث

قلم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اگر قلم نہ ہوتا تو احکام شرعیہ کو لکھ کر محفوظ نہ کیا جاتا اور نہ معاش کے معاملات کو لکھ کر منضبط کیا جاتا، اللہ سبحانہ نے اپنے بندوں پر کرم فرمایا کہ ان کو قلم سے لکھنا سکھایا اور ان کو جہالت کے اندھیروں سے علم کی روشنی میں طرف لایا، اگر قلم نہ ہوتا تو علوم کو مدون نہ کیا جاتا اور حکمتوں کو مقید نہ کیا جاتا، اور نہ اولین اور آخرین کی خبروں کو جمع کیا جاتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی آسمانی کتابوں کو محفوظ کیا جاتا اور نہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث اور آثار صحابہ اور اقوال مجتہدین کو مدون اور منضبط کیا جاتا، غرض یہ کہ اگر قلم نہ ہوتا تو دین اور دنیا کے حصول علم کا دروازہ بند رہتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو چیز بھی سنتا تھا، اس کو یاد رکھنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا، قریش نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا : تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سے ہر بات سن کر لکھ لیتے ہو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بشر ہیں، کبھی غصہ میں بات کرتے ہیں اور کبھی خوشی میں بات کرتے ہیں، پھر میں لکھنے سے رک گیا اور میں نے اس واقعہ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا، آپ نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : تم لکھتے رہو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، اس منہ سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث :3646)

حضرت الشفاء بنت عبداللہ بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے، اس وقت ان کے پاس حضرت حفصہ (رض) بھی تھیں، آپ نے فرمایا : تم ان کو پھوڑے کا دم کیوں نہیں سکھاتیں، جس طرح تم نے ان کو لکھنا سکھایا ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث :3887، مسند احمد رقم الحدیث :2763 دارالفکر)

حضرت رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر آئے تو آپ نے فرمایا : میری حدیث بیان کرو اور جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنی جگہ دوزخ میں بنا لے، میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! ہم آپ سے بہت احادیث سنتے ہیں، پھر ان کو لکھ لیتے ہیں، آپ نے فرمایا : لکھتے رہو، کوئی حرج نہیں ہے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :4410 مسند الشامیین رقم الحدیث :227 مجمع الزوائد ج ۃ ص 151)

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ کے اصحاب بیٹھے ہوئے تھے اور میں ان میں سب سے کم عمر تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مجھ پر عمداً جھوٹ باندھا وہ دوزخ میں اپنے بیٹھنے کی جگہ بنالے، میں نے صحابہ سے کہا : آپ لوگ کیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث بیان کرتے ہیں، حالانکہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد سن چکے ہیں اور آپ لوگ احادیث بیان کرنے میں منہمک رہتے ہیں تو صحابہ ہنسنے لگے اور کہنے لگے : اے ہمارے بھتجیے ! ہم نے جو کچھ آپ سے سنا ہے، وہ سب ہمارے پاس لکھا ہوا ہے۔ (مجمع الزوائد ج ۃ ص 152، حافظ الہیثمی نے کہا : اس حدیث کی سند میں ایک راوی متروک ہے)

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علم کو قید کرو، میں نے پوچھا : علم کی قید کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : لکھنا۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث :852، حافظ الہیثمی نے کہا : اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن المئومل ہے، ابن معین اور ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا، اور امام احمد نے لکھا : اس کی احادیث منکر ہیں۔ مجمع الزوائد ج ١ ص 152)

ثمامہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے حضرت انس (رض) نے کہا : علم کو لکھ کر قید کرلو۔

حضرت عبادۃ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا : لکھ، اس نے پوچھا : کیا لکھوں ؟ فرمایا : تقدیر کو لکھ، جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ ابد تک ہونے والا ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث :2155، مسند احمد ج ٥ ص 317)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب نطفہ پر بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے، پھر اس کی تصویر بناتا ہے اور اس میں اس کی سماعت، اس کی بصارت، اس کی کھال، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں پیدا فرماتا ہے، پھر فرشتہ پوچھتا ہے : اے میرے رب ! یہ مذکر ہے یا مئونث ! پھر تمہارا رب جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ اس کو لکھ دیتا ہے، پھر فرشتہ پوچھتا ہے : اے میرے رب ! اس کی زندگی کتنی ہے ؟ پس تمہارا رب جو چاہتا ہے فرماتا ہے اور فرشتہ اس کو لکھ دیتا ہے، پھر رفشتہ پوچھتا ہے : اے میرے رب ! اس کا رزق کتنا ہے پھر تمہارا رب جو چاہتا ہے وہ فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ اس کو لکھ دیتا ہے، پھر فرشتہ اس صحیفہ کو لے کر نکل جاتا ہے، پس اللہ کے حکم پر کوئی زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔ (صحیح رقم الحدیث :2645)

دیگر احادیث میں اس طرح ہے : چالیس دن نطفہ رہتا ہے، پھر چالیس دن کے بعد نطفہ جما ہوا خون بن جاتا ہے، پھر چالیس دن کے بعد گوشت بن جاتا ہے، پھر چالیس دن بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے، پھر اس میں چار چیزوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے، پھر فرشتہ اس کا رزق، اس کی مدت حیات، اس کا عمل اور اس کا شقی یا سعید ہونا لکھ دیتا ہے۔ الحدیث (صحیح البخاری رقم الحدیث :6594 صحیح مسلم رقم الحدیث :2643 سنن ابودائود رقم الحدیث :4708 سنن ترمذی رقم الحدیث :2137 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :176 السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :11246)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

اصل میں اقلام تین ہیں : (١) قلم اول وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اس کو لکھنے کا حکم دیا (٢) قلم ثانی فرشتوں کے اقلام ہیں، وہ قلم اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں رکھ دیئے ہیں، وہ ان قلموں سے تقدیر، مستقبل میں ہونے والے امور اور بندوں کے اعمال لکھتے ہیں (٣) قلم ثالث لوگوں کے قلم ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں میں رکھ دیئے ہیں جن سے وہ اپنی باتیں لکھتے ہیں اور اپنے مقاصد کو تحریر میں لاتے ہیں اور کتابیں اور رسائل لکھتے ہیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 96 العلق آیت نمبر 4