علامہ مفتی نعیم اللہ خان صاحب وصال فرما گئے
آہ! خلیفۂ حضرت مفتئ اعظم ہند، علامہ مفتی نعیم اللہ خان صاحب وصال فرما گئے۔
انا للہ وانا الیہ رجعون
حضرت مفتی انعام اللّٰہ خان صاحب قبلہ سے میری پہلی ملاقات عرس رضوی ٢٠١٧ء بریلی شریف میں ہوئی تھی۔ عرس رضوی شریف میں حاضر تھے اور قیام کے لیے کمرہ تلاش کر رہے تھے۔ پھر مفتی صاحب مرحوم کے شہزادے مولانا فہیم رضا صاحب سے فون پر رابطہ کیا۔ تو فہیم میاں نے کہا کہ املی والی مسجد آ جاؤ، دیر رات ہو گئی تھی، املی والی مسجد کے لیے پتہ معلوم کر رہے تھے، کہ ایک شخص جو غالباً مولانا صاحب تھے، کہا کہ چلو میں آپ کو لے چلتا ہوں۔ جب وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ املی والی مسجد کے بغل میں جو مکان ہے وہ ہم سب کے مقتدا امام اہلسنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کی جائے پیدائش ہے۔ فہیم رضا صاحب کو کال کیا، وہ تشریف لائے اور ہم کو جائے پیدائشِ اعلیٰ حضرت کی زیارت کروائی۔ اور کہاں کہ آپ کا قیام جائے پیدائش کے اوپر چھت پہ ایک کمرہ ہے، وہی قیام کریں۔ یہ تو اعلیٰ حضرت کا فیضان ہوا کہ اپنے مکان پر فقیر کو رہنے دیا۔ صبح فجر ادا کر کے غسل کیا، پھر فہیم میاں سے پوچھا کہ جائے پیدائش کے قریب والے کمرے میں کون بزرگ ہے جو ایک دم سادگی سے بیٹھے ہے اور عوام و خواص اُن کے پاس دعا کے لئے آ رہے ہے۔ فہیم میاں نے فرمایا یہ میرے والد ہے جو حضور مفتئ اعظم ہند کے خلیفہ ہے، بس اتنا سننا تھا کہ فوراً حضرت کے پاس گیا اور حضرت نے دست بوسی سے سرفراز فرمایا اور دعا کی۔ پھر فہیم میاں نے کہا کہ آپ کو یہی اعلیٰ حضرت کی پیدائش کی جگہ پر ہی اعلیٰ حضرت کے قل شریف میں شرکت کرنا ہے، قل شریف کا وقت آیا اور مفتی صاحب قبلہ جائے پیدائش والے کمرے میں تھے، اور نعت خواں حضرات نعت و منقبت پڑھ رہے تھے، کہ حضرت نے فرمایا کہ منقبت پڑھو اعلیٰ حضرت کی، تو فقیر کھڑا ہوا اور نعت و منقبت سنائی تو حضرت نے ۵۰ روپے عنایت فرمائے، پھر حضرت نے فرمایا کہ سرکار غوث الاعظم کی منقبت پڑھے ، پھر میں نے ۱-۲ اشعار کلام اعلیٰ حضرت پڑھے۔ پھر قل شریف و دیگر قرآنی آیات و دعا پر قل شریف کی محفل کا اختتام ہوا۔ میں نے مفتی صاحب قبلہ کو ایک دم سادہ اور دنیا سے بے نیاز پایا اور کیوں نہ ہو کہ وہ متّقئ اعظم یعنی حضور مفتئ اعظم ہند کے خلیفہ تھے اور آپ کے فیض یافتہ بھی۔ ﷲ تعالیٰ مفتی انعام اللّٰہ خان صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کی سرور کائنات سید الانبیاء والمرسلین ﷺ کے صدقے بے حساب مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے اور فہیم میاں صاحب و دیگر پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اس پر اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین
دعا کا طلبگار :
محمد شعیب رضوی قادری ابنِ الحاج محمد حیات رضوی صاحب(خلیفہ سرکار تاج الشریعہ)
مکرانہ، راجستھان