أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡؕ ۞

ترجمہ:

انسان کو وہ سکھایا جس کو وہ نہیں جانتا تھا

العلق : ٥ میں فرمایا : انسان کو وہ سکھایا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔

العلق : ٥ میں ” الانسان “ کے متعلق متعدد اقوال

اس آیت میں انسان کے مصداق میں کئی اقوال ہیں :

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی متوفی ٣٣٣ٌ ھ لکھتے ہیں :

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں ” انسان “ سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق فرمایا ہے :

(النسائ : ١١٣) اور اللہ نے آپ کو وہ تمام چیزیں سکھا دیں جن کو آپ نہیں جانتے تھے اور اللہ کا آپ پر عظیم فضل ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق فرمایا :

(ھود : ٤٩) یہ خبریں غیب کی خبروں میں سے ہیں جن کی ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں، ان چیزوں کو اس سے پہلے نہ آپ جانتے تھے نہ آپ کی قوم۔

اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں ” انسان “ سے مراد ہر انسان ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(النحل : ٧٨) اللہ نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے نکالا، اس وقت تم کو کچھ علم نہ تھا اور اسی نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر ادا کرو۔

(تاویلات اہل السنتہ ج ٥ ص ٤٩١، مئوسستہ الرسالتہ، نشارون، ١٤٢٥ ھ)

علامہ الحسین بن مسعود الفراء البغوی متوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں ” انسان “ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں کیونکہ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

علم ادم الاسمآء کلھا (البقرہ : ٣) آدم کو تمام اسماء کا علم دے دیا۔

دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت میں ” انسان “ سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں کیونکہ آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وعلمک مالم تکن تعلم (النسائ : ١١٣) اور اللہ نے آپ کو وہ تمام چیزیں سکھا دیں جن کو آپ نہیں جانتے تھے۔ (معالم التنزیل ج ٥ ص ٢٨١ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

امام عبدالرحمان بن علی بن محمد الجوزی المتوفی ٥٩٧ ھ نے لکھا ہے :

” انسان “ سے مراد اس آیت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (زاد المسیرج ٩ ص 176 المکتب الاسلامی، بیروت)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن حمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ نے لکھا ہے : اس آیت میں ” انسان “ کے متعلق تین قول ہیں :

(١) ” انسان “ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں (٢) اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں (٣) اس سے مراد عام انسان ہے اور ہر قول پر وہی دلائل دیئے ہیں جو دوسرے مفسرین نے ذکر کئے ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص 106 دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

شیخ محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی 1250 ھ اور نواب صدیق حسن خاں بھوپالی متوفی 1307 ھ نے بھی ” انسان “ کے مصداق میں یہی تین قول نقل کئے ہیں۔ (فتح القدیر ج ٥ ص 628 فتح البیان ج ٧ ص ٥٠٤)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو قلم کے ساتھ اور بغیر قلم کے ایسے امور کلیہ اور جزئیہ اور ظاہر اور خفی سکھا دیئے، جن کا دل میں خطرہ بھی نہیں گزرتا، یہ اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال کرم ہے اور اس میں یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ایسے علوم سکھا رہا ہے، جن کا عقلیں احاطہ نہیں کرسکتیں۔ (روح المعانی جز 30 ص 324 دارالفکر، بیروت، 1324 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 96 العلق آیت نمبر 5