أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَلَّا ؕ لَا تُطِعۡهُ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبْ۩ ۞

ترجمہ:

ہرگز نہیں، آپ اس کی کوئی بات نہ مانیں، آپ سجدہ کریں اور زیادہ قریب ہوں  ؏

سجدہ سے اللہ سبحانہ کے قرب کا حصول

العلق : ١٩ میں فرمایا : ہرگز نہیں، آپ اس کی کوئی بات نہ مانیں، آپ سجدہ کریں اور زیادہ قریب ہوں۔

یعنی ابوجہل جو آپ کو نماز پڑھنے سے منع کر رہا ہے، آپ ہرگز اس کی کوئی بات نہ مانیں، آپ اللہ کے لیء نماز پڑھتے رہیں اور اس کی اطاعت اور عبادت کر کے اس کا قرب حاصل کریں، ایک قول یہ ہے کہ جب آپ سجدہ کریں تو اللہ سے دعا کر کے اس کا قرب حاصل کریں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، بندہ کا اپنے رب کے ساتھ سب سے زیادہ قرب اور سب سے زیادہ محبت اس وقت ہوتی ہے، جب اس کی پیشانی زمین پر اللہ کے لئے سجدہ ریز ہوتی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٨٢)

عبارت کا خلاصہ ہے : اللہ سبحانہ کے سامنے ذلت اختیار کرنا اور غایت تذلل سجدہ میں ہے کیونکہ انسان سجدہ میں اپنے مشرف ترین عضو کو اللہ کے سامنے خاک پر رکھ دیتا ہے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رکوع میں رب کی تعظیم کرو اور رہا سجود تو اس میں دعا کی خوب کوشش کرو کیونکہ اس میں متہاری دعا کا قبول ہونا متوقع ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :479 سنن ابو دائود رقم الحدیث :867)

زید بن اسلم نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : اے محمد ! آپ نماز سے اللہ کا قرب حاصل کرتے رہیں اور اے ابوجہل ! تو دوزخ کے قریب ہوتا رہ۔

علامہ ابن العربی نے کہا ہے کہ اس سجدہ سے نماز کا سجدہ مراد ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ اس سے سجدہ تلاوت مراد ہے کیونکہ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ” اذا السمآء انشقت ‘ (الانشاق : ١) میں سجدہ کیا اور ” اقرا باسم ربک الذی خلق “ (العق : ١) میں سجدہ کیا۔ (صحیح رقم الحدیث :578 سنن ترمذی رقم الحدیث :573) اور یہ حدیث نص صریح ہے کہ اس آیت میں سجدہ سے مراد سجدہ تلاوت ہے۔

ہم دنیا کے مقتدر لوگ مثلاً صدر اور گورنر وغیرہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اللہ کا قرب حاصل کرنے کی ہمیں کتنی کوشش کرنی چاہیے اور اس کا قرب حاصل کرنا کتنا آسان ہے، سجدہ کرو اور اس کے قریب ہو جائو۔

القرآن – سورۃ نمبر 96 العلق آیت نمبر 19