كَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِۙ – سورۃ نمبر 96 العلق آیت نمبر 15
sulemansubhani نے Monday، 15 December 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِۙ ۞
ترجمہ:
بیشک اگر وہ باز نہ آیا تو ہم ضرور اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر کھینچیں گے
العلق : ١٦-١٥ میں فرمای : بیشک اگر وہ باز نہ آیا تو ہم ضرور اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر کھینچیں گے۔ وہ پیشانی جو جھوٹی گناہگار ہے۔ یعنی اگر ابوجہل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذاء پہنچانے سے باز نہ آیا تو ہم قیامت کے دن اس کو ضرور پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر کھینچیں گے، پھر اس کو اس کے قدموں کے ساتھ باندھ کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔
یہ آیت ہرچند کہ ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی ہے لیکن یہ تمام لوگوں کے لئے نصیحت ہے اور اس آیت سے ان تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہیں مانتے اور اس کے سامنے سرکشی کرتے ہیں اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذاء پہنچاتے ہیں۔
اس آیت میں ” لنسفعا ‘ کا لفظ ہے ” سفع “ کا معنی ہے : کسی چیز کو پکڑ کر سختی سے کھینچنا اور ” ناصیۃ “ کا معنی ہے : پیشانی کے اوپر سر کے بال۔
القرآن – سورۃ نمبر 96 العلق آیت نمبر 15
[…] تفسیر […]