کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک قاہرہ میں مدفون ہے
کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک قاہرہ میں مدفون ہے؟
تحریر: مفتی علی جمعہ (سابق مفتی اعظم مصر)
ترجمہ وترتیب: شاہد رضا نجمی ازہری
…………………………….
سوال: کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک قاہرہ ، مصر میں مدفون ہے؟
جواب: اولا یہ جان لیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کا قاہرہ، مصر میں مدفون ہونا ایک تاریخی معاملہ ہے۔شرعی معاملہ نہیں ہے کہ لوگوں پر اس کا اعتقاد رکھنا واجب وضروری ہوجائے۔ اس کے تسلیم وانکار پر ایمان وکفر کا مدار نہیں ہے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ اگر کوئی شخص کہے کہ “اہرامات” [Pyramids] مصر میں نہیں ہیں، بلکہ کسی دوسرے ملک میں ہیں، تو کیا اس کی تکفیر کی جائے گی؟ ہرگز نہیں۔ وہ تو محض حقیقت سے ناواقف وناآشنا کہلائے گا۔
مؤرخین اور سیرت کی کتابوں کا اس پر اتفاق ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا جسد اطہر کربلا شریف میں مدفون ہے۔ سر مبارک کو اولا مختلف مقامات پر لے جایا گیا، پھر شہر عسقلان (فلسطین) میں محفوظ رکھا گیا۔ اخیر میں مصر منتقل کردیا گیا۔ مؤرخین کی ایک بڑی جماعت کا یہی موقف ہے۔ جیسے:
(۱) شیخ ابو عبداللہ ابن میسر مصری [م:۶۷۷ھ]
(۲) شیخ ابو العباس قلقشندی [م: ۸۲۱ھ]
(۳) علی بن ابوبکر، المعروف سائح ہروی [م: ۶۱۱ھ]
(۴) ابو البرکات ابن ایاس حنفی مصری [م: ۹۳۰ھ]
(۵) شیخ یوسف بن عبداللہ، المعروف سبط جوزی [م: ۶۵۴ھ]
(۶) حافظ شمس الدین سخاوی [م: ۹۰۳ھ] وغیرہ۔
معروف تاریخ نویس شیخ تقی الدین مقریزی (م: ۸۴۵ھ) لکھتے ہیں:
بروز یک شنبہ ۸؍جمادی الآخر ۵۴۸ھ /۳۱؍ اگست ۱۱۵۳ء میں امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک عسقلان سے قاہرہ منتقل کیا گیا۔ اور یہ منتقلی عسقلان کے والی امیر سیف الممکۃ تمیم کے زیر نگرانی ہوئی۔ ۱۳؍ جمادی الآخر ۵۴۸ھ/ ۲؍ ستمبر ۱۱۵۳ء کو امیر سیف المملکۃ سر مبارک لے کر اپنے محل حاضر ہوئے۔ پھر استاذ مکنون بذریعۂ کشتی باغ “کافوری” لے کر آئے۔ جس کے بعد سرنگ کے راستے سےاسے “قصر زمرد” تک لے جایا گیا اور پھر “دہلیز خدمت” نامی مقبرے کے دروازے پر “دیلم” کے گنبد میں سر مبارک کو دفن کردیا گیا۔ (“دیلم” قدیم قاہرہ کا ایک علاقہ ہے۔) شیخ طلائع نے (دولت فاطمیہ کا ایک زیرک وفقیہ وزیر)” درب احمر” کے نزدیک “باب زویلہ” کے باہر سر مبارک سے منسوب ایک مسجد تعمیر کی، جو “جامع الصالح طلائع” کے نام سے معروف ہوئی۔ (اور اب “مسجد امام حسین” کے نام سے مشہور ہے) اسی مسجد میں لکڑی کے تختوں پر سر مبارک کو غسل دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ سرمبارک اب بھی اسی مسجد میں موجود ہے۔ (تاریخ المقریزی، ۲؍۱۷۱)
آثار قدیمہ کے محققین بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔ معروف محققہ سیدہ عطیات شطوی کہتی ہیں کہ امام حسین کا سر مبارک ۸؍ جمادی الآخر ۵۴۸ھ ؍۳۱؍ اگست ۱۱۵۳ء، بروز یک شنبہ امیر سیف المملکۃ تمیم کی نگرانی میں عسقلان سے قاہرہ منتقل کیا گیا اور امیر سیف المملکۃ ۱۳؍ جمادی الآخر ۵۴۸ھ ؍۲؍ستمبر ۱۱۵۳ء کو اپنے محل لے کر حاضر ہوئے۔ جیسا کہ مؤرخ مقریزی کا موقف ہے۔
محققین نے لندن میں واقع برطانوی میوزیم سے ابن اورق (م:۵۷۲ھ) کی کتاب “تاریخ آمد” کے ایک قلمی مخطوطے کی بازیافت کی ہے۔یہ مخطوطہ ۵۶۰ھ کا ہے اور برطانوی میوزیم میں “نمبر :۵۸۰۳ شرقیات” کے تحت محفوظ ہے۔ ابن اورق نے اس مخطوطے میں مستند دلائل کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ امام حسین کا سر مبارک ۵۴۹ھ میں مصر منتقل کیا گیا۔ یہ زمانہ خود ابن اورق کا تھا اور سرمبارک کا استقبال کرنے والی جماعت میں ابن اورق بذات خود شریک تھے۔
جامعہ ازہر، قاہرہ کے سابق شیخ فقیہ عبد اللہ شبراوی ازہری (م: ۱۱۷۱ھ) نے “الاتحاف” نامی ایک کتاب تالیف کی ہے، جس میں انھوں نے دلائل کے ذریعے سرمبارک کا قاہرہ میں موجود ہونا ثابت کیا ہے اور اپنی ہم نوائی میں کثیر ائمہ کے اقوال بھی ذکر کیے ہیں، جن میں بعض نمایاں نام یہ ہیں:
(۱) ابو الفضل یوسف بن محمد تُوزری [م: ۵۱۳ھ] ابن نحوی کے نام سے مشہور ہیں۔
(۲) قاضی عبدالرحیم بیسانی [م: ۵۹۶ھ]
(۳) ابو الخطاب ابن دحیہ کلبی اندلسی [م: ۶۳۳ھ]
(۴) امام محدث زکی الدین منذری [م: ۶۵۶ھ]
(۵) امام مجد الدین اسماعیل بن عثمان [م: ۶۶۹ھ]
(۶) قاضی محی الدین ابن عبد ظاہر مصری [م: ۶۹۲ھ]
(۷) شیخ ابوالمواہب شاذلی تونسی [م: ۸۸۲ھ]
(۸) شیخ سراج الدین محمد بن عبداللہ رفاعی مخزومی [م: ۸۸۵ھ]
(۹) امام عبدالوہاب شعرانی [م: ۹۷۳ھ]
(۱۰) شیخ نجم الدین غیطی [م: ۹۸۲ھ]
(۱۱) امام عبدالرؤف مناوی [م: ۱۰۳۱ھ]
(۱۲) شیخ نور الدین اجھوری مصری [م: ۱۰۶۶ھ]
(۱۳) شیخ مومن بن حسن شبنجی شافعی [م: ۱۲۹۱ھ)
(۱۴) شیخ حسن عدوی [م: ۱۳۰۳ھ]
(۱۵) شیخ محمد بن بشیر [م: ۱۳۶۲ھ] محمد بلخوجہ کے نام سے زیادہ معروف ہیں۔
(۱۶) معروف شیعی مؤرخ باقر بن شریف قرشی [م: ۱۴۳۳ھ]
فضیلۃ الشیخ محمد زکی الدین ابراہیم (م: ۱۴۱۹ھ) نے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے، جس کا نام “رأس الامام الحسین بمشھدہ بالقاھرۃ تحقیقا مؤکدا حاسما” ہے۔ یہ رسالہ دلائل وبراہین سے بھر پور ہے، جسے پڑھنے کے بعد اطمینان قلبی ضرور حاصل ہوجاتا ہے۔
اس مختصر وضاحت سے جمہور مؤرخین کے اختیار کردہ موقف پردل مطمئن ہوجاتا ہے کہ امام حسین کا سر مبارک قاہرہ میں ہی موجود ہے اور پورا قاہرہ اس کے انواروتجلیات سے روشن ومنور ہے۔ والحمد للہ رب العالمین۔ واللہ تعالیٰ اعلیٰ واعلم۔
(یہ مضمون سابق مفتی اعظم مصر مفتی علی جمعہ زید مجدہٗ کی کتاب “البیان القویم لتصحیح بعض المفاہیم” سے ماخوذ ہے۔)