✍️ سید پور شہر میں مفتی علی اصغر صاحب کے دو دن قیام کی روداد

از قلم:۔محمد اكرم رضوي عطاری مدنی بنگلہ دیش
(16 تا 18 دسمبر 2025 بنگلہ دیش)

الحمدللہ عزوجل! ہمیں یہ سعادت نصیب ہوئی کہ مفتی علی اصغر عطاری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی ڈھاکہ سے سید پور آمد کے موقع پر ہم خدمت گاری کے لیے موجود رہے۔

16 دسمبر کو مفتی صاحب مختصر ہوائی سفر کر کے ڈھاکہ سے سیدپور پہنچے اور پاکستان سے مفتی صاحب کولمبو سری لنکا سے ایک دن کا قیام کر کے پہنچے تھے
16 دسمبر کو ڈھاکہ کے انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر اترتے ہی سید پور کی جانب گامزن ہوئے

تقریباً 4:40 شام سیدپور ایئرپورٹ پر مفتی صاحب تشریف لائے۔
صوبائی نگران جمیل عطاری، نگران عارف عطاری، مولانا فرہاد مدنی، یونس بھائی، عبدالقادر عطاری سمیت جامعۃ المدینہ کے متعدد طلباء نے انتہائی مسرت اور احترام کے ساتھ استقبال کیا۔

گھر پہنچ کر مغرب ادا کی، آرام فرمایا۔ عشاء کے بعد سیدپور سی ٹی سنٹر میں بزنس کمیونٹی کے درمیان ایک حدیث پاک بیان کر کے اس کے تحت کاروباری اخلاقیات بیع کی مختلف ناجائز صورتوں اور ایک مسلمان کی دینی ذمہ داریوں پر گفتگو فرمائی
لوگوں کے سوالات کے جواب دئیے اخر میں دعا و صلاۃ سلام مصافحہ کے بعد ہم ایک اسلامی بھائی کے گھر قیام پذیر ہوئے۔

یہاں تاجران مجلس کے ذمہ دار عمران عطاری نے مفتی صاحب کی فرمائش پر بنگلہ زبان کا مشہور کلام
“شونر مدینہ، امر پرانر مدینہ”
پیش کیا۔

اس کلام کی فرمائش کا پس منظر یہ ہے کہ مفتی صاحب مدینہ منورہ میں حضور ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں موجود تھے۔ وہاں میزبان کی طرف سے ایک بنگلہ دیشی عالم دین سے اس کلام کے سننے کی فرمائش کی تھی مفتی صاحب کو وہ کلام یاد آ گیا وہ
بنگلہ کلام وہ منظر مفتی صاحب کے دل میں نقش تھا۔ چنانچہ مفتی صاحب نے اسی کلام کے سننےکی فرمائش فرمائی۔

کلام بارہا پڑھا گیا، میں نے اس کا سادہ اردو ترجمہ پیش کیا۔ محفل ذکرِ مدینہ سے لبریز ہوگئی، آنسو بہہ پڑے۔ پھر قیام و آرام کے لیے تشریف لے گئے۔


17 دسمبر – دیناجپور کی حاضری

صبح ناشتہ مفتی صاحب کے ساتھ کرنے کی سعادت ملی۔ پھر ہم عارف بھائی، جمیل عطاری، سید راحت بھائی اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ دیناجپور روانہ ہوئے۔

یہاں عظیم علمی مرکز اسلامک ریسرچ سینٹر دیناجپور میں حضرت علامہ ڈاکٹر سید ارشاد احمد بخاری صاحب قبلہ سے ملاقات ہوئی۔ وہ حضرت تاج الشریعہ و حضرت شارح بخاری نائب مفتی اعظم ہند حضرت العلامہ و مولانا مفتی شریف الحق امجدی رحمہم اللہ کے شاگرد و خلیفہ ہیں۔

طلبہ دونوں جانب قطار میں کھڑے تھے، ڈاکٹر صاحب نے پرتپاک طریقے سےاستقبال کیا۔ مہمان نوازی کی، گفتگو ہوئی، ارشاد بخاری صاحب نے اپنی خدمات کے مختلف واقعات بیان فرمائے مفتی صاحب نے بھی اہم چیزوں پر کام کی حاجت پر توجہ دلائی یوں

نمازِ ظہر وہیں ادا کی پھر حضرت ڈاکٹر ارشاد بخاری صاحب کے حکم پر مفتی صاحب نے ادارے کے طلباء سے خطاب کیا اور حدیث مسلسل بالاولویہ کی اجازت دی
بعد از نماز عظیم الشان لائبریری میں مزید علمی باتیں ہوئیں۔ چائے نوش فرمائی اور وہاں سے روانگی ہوئی۔
ویسے تو دیناج پور میں کوئی دوسری مصروفیت نہیں رکھی گئی تھی لیکن مقامی ذمہ داران کے اصرار پر
دارالمدینہ دیناجپور میں
بزنس کمیونٹی کے ساتھ مختصر نشست رکھی گئی۔

مفتی صاحب نے سود سے بچنے کے موضوع پر بیان فرمایا۔ سوالات ہوئے، جوابات مرحمت فرمائے۔
یہاں سے آگے بڑھے تو راستے میں ایک مزار پر حاضری دی اور عصر کی نماز ادا کی یہاں سے مفتی صاحب نے چند منت کی گفتگو کو فیس بک پر لائیو بھی کیا

سیدپور پہنچ کر میٹنگ

مغرب سیدپور پلازہ مارکیٹ میں ادا کی۔ نیچے شاہ جلال و العرفہ اسلامی بینک افسران سے شاہ جلال بینک میں ملاقات کی
اور مختلف پروڈکٹ سے متعلق بہت دیر تک انگریزی کبھی بنگہ زبان میں بھی بات ہوئی جس کا ترجمہ اردو میں کیا جاتا رہا
یہاں سے فارغ ہو کر ایک شخصیت کے یہاں عشائیہ کا اہتمام تھا وہاں ماحضر تناول کیاگیا صاحب خانہ قطب وقت مخدوم بہار حضرت شرف الدین یحی مینری علیہ الرحمہ کی اولاد میں سے تھے ان سے مل کر مفتی صاحب بہت خوش ہوئے انہوں نے اپنے متعدد کاروباری مسائل کو ڈسکس کیا باقاعدہ مسائل کی ایک لکھی ہوئی لسٹ تھی ان کے پاس
یہاں سے سوا دس بجے نور کنونشن ہال میں پہنچے
راستے میں ہم لوگوں نے مفتی صاحب کو بتایا کہ سید پور رات کو جاگنے والا شہر ہے یہاں سردیوں میں بھی کاروباری طبقہ رات لیٹ فارغ ہوتا ہے اس لئے 10 بجے کوئی لیٹ ٹائم نہیں ہے

ہال میں پہنچے تو ایک کرسی بھی خالی نہیں تھی
دوران بیان لوگ پیچھے کھڑے ہوئے تھے
بزنس کمیونٹی، انجینئرز، کالج کی اسٹوڈنٹس کی بہت بڑی تعداد شریک ہوئی۔

مفتی صاحب نے نہایت پرجوش انداز میں
ایک حدیث پاک کے نکات کے تحت خطاب فرمایا
جس کے مرکزی نکات یہ تھے شریعت پر عمل کی اہمیت
آپس کے تنازعات میں ہم کہاں غلطی پر ہوتے ہیں
کرامات کا ثبوت قرآن حدیث سے ہے
بیانات کے بعد
۔ سوال و جواب کا سلسلہ ہوا لوگوں کا جوش و خروش اور سوال پوچھنے کا جذبہ ایسا تھا کہ فجر تک ان کو موقع ملتا تو فجر تک سوالات پوچھتے رہتے
نوجوان، اور بوڑھے ہر طبقے کی طرف سے مختلف عنوانات پر سوالات پوچھے گئے
اور مفتی صاحب نے ان کو نہایت تسلی اور عام فہم انداز میں جوابات دئیے
آخری میں
ا تین روزہ عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع (24، 25، 26 دسمبر) کی دعوت ہوئی۔ لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ نیتیں کیں۔

قیام گاہ پر واپسی اور آرام فرمایا۔


18 دسمبر – الوداعی لمحات

صبح تقریباً 11 بجے جامعۃ المدینہ سیدپور میں تشریف آوری ہوئی۔ کثیر تعداد میں طلباء نے پرجوش استقبال کیا۔ ناصحانہ کلمات ارشاد فرمائے، دعائیں دیں، سوالات کے جوابات دیے۔

دوپہر 12 بجے کے قریب سیدپور ایئرپورٹ کی جانب روانگی ہوئی۔ راستے بھر نعتیہ ماحول رہا۔

مفتی صاحب نے یہ شعر پڑھا:

سر بالی انہیں رحمت کی ادا لائی ہے
حال بگڑا ہے تو بیمار کی بند آئی ہے

مجلس تاجران کے ذم دار عمران عطاری اور دیگر ساتھیوں نے نعتیہ اشعار پڑھے۔ گاڑی میں کیفیتِ عشق میں آنکھیں نم ہو گئیں۔

ایئرپورٹ پہنچ کر درد بھرے دل کے ساتھ الوداع کہا۔ دل رو رہا تھا، الفاظ گلے میں اٹک رہے تھے۔

اللہ کریم اس سفر کی برکتوں کو قبول فرمائے اور مدنی کاموں کی خدمت کا شرف بار بار عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین