کوفہ میں حضرت عثمان رضی اللہ پر اتنا سب کیا جاتا کہ صحابہ و تابعین کوفہ سے کوچ کر گئے!!

امام یحیی بن معین روایت کرتے ہیں:
حدثنا جرير، عن مغيرة، قال: خرج حنظلة الكاتب، وجرير بن عبد الله، وعدي بن حاتم من الكوفة فنزلوا قرقيسيا، وقالوا: لا نقيم ببلد يشتم فيه عثمان.
جرير  امام مغیرہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں:
صحابی حضرت حنظلہ الکاتب،
حضرت  جریر بن عبداللہ اور
حضرت عدی بن حاتم کوفہ سے نکلے اور قرقیسیاء جا پہنچے، اور وہ کہتے:ہم کسی ایسے شہر میں قیام نہیں کریں گے جہاں عثمان کو سب کیا جائے
[تاریخ ابن معین و سندہ صحیح الی مغیرہ]

اور یہی قول جب امام خطیب امام علی بن مدینی کی سند سے نقل کرتے ہیں تو اسکے بعد نقل کرتےہیں:
قال لي محمد بن علي الصوري، أنا رأيت قبورهم بقرقيسيا.
محمد بن علی الصوری نے مجھےبتایا:
میں نے ان (اصحاب رسولﷺ) کی قبور قرقیسیاء میں دیکھی ہیں۔
[تاریخ بغداد]

اور یہ فقط تین اصحاب کی بات نہیں بلکہ تابعین کی بھی ایک جماعت کوفہ سے ایسے کوچ کرتی رہی
۔۔
امام  محمد بن حبيب أبو جعفر البغدادي (المتوفى: 245هـ)
(عدي) بن عَميرة بن فروة بن زرارة بن الأرقم بن النعمان ابن عمرو بن وهب بن ربيعة بن معاوية الأكرمين. ولبني الأرقم مسجد بالكوفة. فلما قدم الكوفة علي رضي الله عنه، جعل أصحابه يتناولون عثمان. فقال بنو الأرقم: لا نقيم ببلد يشتم فيه عثمان. فخرجوا إلى الجزيرة فنزلوا الرها. وشهدوا مع معاوية صفين
عدی بن عمیرہ بن فروہ بن زرارہ بن الارقم بن نعمان بن عمرو بن وہب بن ربیعہ بن معاویہ الأکرمین تھے۔ بنو الارقم کی کوفہ میں ایک مسجد تھی۔
جب علی رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو ان کے بعض ساتھی عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبان درازی کرنے لگے۔ اس پر بنو الارقم نے کہا: ہم ایسے شہر میں قیام نہیں کریں گے جہاں عثمان کو گالیاں دی جاتی ہوں۔
پس وہ جزیرہ کی طرف نکلے اور رہاء (الرُّہا) میں ٹھہرے، اور معاویہ کے ساتھ صفین کی جنگ میں شریک ہوئے۔
[المحبر]

مزید تفصیل سے اسکو  امام ابن سعد صاحب طبقات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
عدي بن عميرة بن فروة بن زرارة بن الأرقم بن نعمان بن عمرو بن وهب بن ربيعة بن معاوية الأكرمين، وبنو الأرقم بطن، لهم مسجد بالكوفة، ولما قدم علي بن أبي طالب الكوفة جعل أصحابه يتناولون عثمان، فقال بنو الأرقم: لا نقيم ببلد يشتم فيه عثمان بن عفان، فخرجوا إلى الجزيرة، إلى الرها، وخرج معهم من ولدوا من كندة، فخرج بنو أحمر بن عمرو، وبعض بني الحارث بن عدي، وبنو الأخرم من بني حجر بن وهب بن ربيعة، فقدموا على معاوية بن أبي سفيان، فحمد الله معاوية وأثنى عليه، ثم قال: يا أهل الشام، هذا حي عظيم من كندة، قدموا علي ناقمين على علي بن أبي طالب، وكان إذا قدم عليه أهل العراق أنزلهم الجزيرة مخافة أن يفسدوا أهل الشام،
تابعی امام عدی بن عمیرہ بن فروہ بن زرارہ بن الارقم بن نعمان بن عمرو بن وہب بن ربیعہ بن معاویہ
یہ الأکرمین تھے۔ بنو الارقم ایک قبیلہ سے تھے، اور ان کی کوفہ میں ایک مسجد تھی۔ جب حضٖرت علی بن ابی طالب کوفہ آئے تو ان کے بعض ساتھی حضرت عثمان کے بارے میں زبان درازی کرنے لگے۔
“اس پر بنو الارقم نے کہا: ہم ایسے شہر میں قیام نہیں کریں گے جہاں عثمان بن عفان کو گالیاں دی جاتی ہوں۔”
چنانچہ وہ جزیرہ کی طرف نکل گئے، اور رہاء (الرُّہا) جا پہنچے۔ ان کے ساتھ کندہ قبیلے کے وہ لوگ بھی نکلے جو وہاں پیدا ہوئے تھے۔ پس بنو احمر بن عمرو، اور بنو الحارث بن عدی کے بعض لوگ، اور بنو الأخرم جو بنو حجر بن وہب بن ربیعہ میں سے تھے، یہ سب نکلے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے پاس پہنچے۔
حضرت معاویہ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر کہا: اے اہلِ شام! یہ کندہ کا ایک بڑا قبیلہ ہے جو میرے پاس حضرت علی بن ابی طالب پر ناراض ہو کر آیا ہے۔ (کوفہ میں حضرت عثمان پر سب ہونے کے سبب) حضرت معاویہ کا یہ طریقہ تھا کہ جب اہلِ عراق ان کے پاس (قبیلے) آتے تو وہ انہیں جزیرہ میں ٹھہراتے، اس خوف سے کہ کہیں وہ اہلِ شام کو خراب نہ کر دیں(یعنی ان میں کوفی سازشی شامل نہ ہوں)
[طبقات ابن سعد]

اسی طرح امام ابن اثیر کہتے ہیں:
قلت: ۔۔ ۔  وكان عدي بْن عميرة بْن فروة بالكوفة، ولما ورد إليها أمير المؤمنين عليّ بْن أَبِي طَالِب رَأَى من أهل الكوفة قولًا فِي عثمان رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ بنو الأرقم- وهم بطن من كندة، رهط عدىّ ابن عميرة-: لا نقيم فِي بلد يشتم فِيهِ عثمان، فخرجوا إِلَى معاوية.
میں کہتا ہوں:
عدی بن عمیرہ بن فروہ کوفہ میں تھے، اور جب امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کوفہ آئے تو انہوں نے کوفہ والوں میں عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ (منفی)باتیں دیکھیں۔ تب بنو الارقم—جو کہ کندہ قبیلے کے ایک ذیلی گروہ اور عدی بن عمیرہ کے ساتھی تھے—نے کہا: ہم ایسے شہر میں قیام نہیں کریں گے جہاں عثمان کو گالیاں دی جائیں۔ پس وہ معاویہ کے پاس نکل گئے۔
[أسد الغابة]

ہم پہلے بھی یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ بنو امیہ میں حضرت علی اور انکے اصحاب پر جو آل مروان نے سب کرنے کا سلسلہ کیا یہ شروعات نہیں بلکہ اس عمل کا رد عمل تھا کوفہ میں شروع ہوا تھا حضرت عثمان کے خلاف!! اس پر ہم پہلے کثیر دلائل مختلف روایات کے ساتھ مع اسناد صحیح نقل کر چکے ہیں۔

اور جب بنو امیہ کے کے بعد بنو عباس کی حکومت آئی تو تب بھی کوفہ میں حضرت عثمان کے ساتھ دعائیہ کلمات کہنا بھی جرت کا کام ہوتا تھا۔
اسکی مثال امام ابو حنیفہ کے ایک امر سے ملتی ہے ۔


امام ابن عبدالبر الانتقاء میں ایک روایت لاتے ہیں :
نا أحمد بن الحسن قال نا يحيى بن أبى طالب قال نا عبد الوهاب بن عطاء الخفاف قال سئل سعيد بن ابى عروبة عن شئ من علم الطلاق فأجاب فيه فقيل له هكذا قال أبو حنيفة فيها فقال سعيد كان أبو حنيفة عالم العراق قال وقال سعيد ابن أبي عروبة قدمت الكوفة فحضرت مجلس أبي حنيفة فذكر يوما عثمان بن عفان فترحم عليه فقلت له وأنت يرحمك الله فما سمعت أحدا في هذا البلد يترحم على عثمان بن عفان غيرك فعرفت فضله
امام عبد الوہاب بن عطاء خفاف بیان کرتے ہیں :سعید بن ابو عروبہ سے علم طلاق سے متعلق کسی چیز کے بارے دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے اس بارے میں جواب دے دیا ،
ان سے کہا گیا : امام ابو حنیفہؓ نے بھی اس کے بارے میں یہی رائے دی ہے ۔ تو امام سعید نے فرمایا : ابو حنیفہ عراق کے عالم تھے ۔
اور راوی(عبدالوھاب) نے کہا :سعید بن ابی عروبہ بیان کرتے ہیں :  میں کوفہ آیا اور ابو حنیفہ کی محفل میں شریک ہوا ، ایک دن انہوں نے
” حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لیے رحمت کے کلمات کہے ، اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت کرے!”
میں نے اس علاقہ میں آپ (ابی حنیفہ) کے علاوہ اور کسی شخص کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کے کلمات کہتے نہیں سنا ، تو اس حوالے سے مجھے ان (ابی حنیفہ) کی فضیلت کا اندازہ ہو گیا
[الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء  ،  ص ۱۳۰، وسندہ صحیح ]

یعنی کوفہ میں اہلسنت کے آئمہ پر اتنا سخت دور بھی گزرا کہ حضرت عثمان کا ذکر خیر کرنا بھی ایک جرت مند عمل سمجھا جاتا تھا۔۔۔۔
اگر تاریخ کھنگالی جائے تو دلائل دونوں اطراف کی زیادتیوں کے ملتے ہیں ۔ لیکن ایک یک طرفہ گھوڑے چلانا اور پھر سینی پیٹنا یہ کام صرف کوفیوں کا جھوٹ کھانے والے کر سکتے ہیں۔
تحقیق: اسد الطحاوی