چاند پر انسان :

جس زمانے میں امریکی آدمیوں کے چاند پر پہنچنے کی خبر زور شور سے دنیا میں پھیل رہی تھی غالباً ١٩٦٩ء میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ چند امریکی چاند کی سطح پر اتر گئے ہیں علماء کے درمیان بھی یہ بحث ہونے لگی تھی کہ چاند پر عام آدمی پہنچ سکتا ہے یا نہیں بعض علماء اس بات کے قائل تھے کہ نہیں پہنچ سکتا اس زمانے میں حضور مفتئ اعظم قدس سرہٗ نے اپنا قلم حق رقم اٹھایا اور یہ فتوی دیا کہ چاند تک انسان کا پہنچنا ممکن ہے کسی مشین وغیرہ کے ذریعہ اگر آدمی چاند تک پہنچ جائے تو اسلام کی کسی بات سے مزاحمت و مخالفت نہ ہوگی اور دلیل میں وہ حدیث فرمائی جو رئیس المفسرین حبر الامت حضرت  عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے تفسیر مدارک میں ہے ”عن ابن عباس ان الشمس والنجوم كلها مسخرات بين السماء والارض“ یعنی سورج اور چاند اور تمام تارے زمین و آسمان کے درمیان مسخر ہیں جب چاند اور سورج آسمان کے نیچے ہیں تو وہاں پہنچنا عقلاً و شرعاً کسی طرح بھی محال نہیں اگر کوئی پہنچ جائے اور اس کا ثبوت بھی ہو جائے تو اس سے فلسفیوں کی وہ بات رد ہو جائے گی جو وہ بکتے چلے آئے ہیں کہ چاند اور سورج آسمان کے اوپر ہیں حالانکہ قرآن سے بھی اس کا رد ہو رہا ہے۔ سورہ فلک میں ہے کہ ”ہم نے نیچے والے آسمان کو چراغوں سے زینت دی“۔ اس سے بھی تو یہی نکلتا ہے کہ چاند اور تارے آسمان کے نیچے ہیں اور مشاہدہ بھی تو یہی ہوتا ہے جب چاند اور سورج اور تاروں کی طرف آنکھ اُٹھائی جاتی ہے تو یہ سب آسمان کے نیچے دکھائی دیتے ہیں تو بلاوجہ مشاہدہ اور روایت کے خلاف بکواس کس قدر لغو بات ہے۔
فقیر مصطفٰے رضا قادری غفرلہ

”ہـے ممکن چاند پر جانا یہ ثابت کر دیا تو نے

تیرے آگے جھکے اہلِ بصیرت مفتئ اعظم“