اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِىۡ لَيۡلَةِ الۡقَدۡرِ سورۃ نمبر 97 القدر آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Friday، 26 December 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِىۡ لَيۡلَةِ الۡقَدۡرِ ۞
ترجمہ:
بیشک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور آپ کیا سمجھے کہ شب قدر کیا ہے ؟۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (القدر : ٣-١)
” لیلۃ القدر “ میں قرآن مجید کا آسمان دنیا کی طرف نازل ہونا
القدر : ١ میں ” ازلناہ “ کی ضمری منصوب قرآن مجید کی طرف راجع ہے، ہرچند کہ اس سورت میں اس سے پہلے قرآن مجید کا ذکر نہیں ہے، کیونکہ قرآن مجید کا معنی ہر پڑھنے والے کو معلوم ہے اور اس کا ذکر اس کے ذہن میں مرتکز ہے، درج ذیل آیات میں قرآن مجید کے نزول کا ذکر ہے :
(البقرہ : ١٨٥) رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کو نازل کیا گیا۔
(الدخان : ٣-١) حامیم۔ کتاب مبین کی قسم۔ ہم نے اس کتاب کو برکت والی رات میں نازل کیا ہے۔
اس آیت میں ” لیلۃ مبارکۃ سے مراد ” لیلۃ القدر ‘ ہے۔ شعبی نے کہا : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو نازل کرنے کی ابتدائ ” لیلۃ القدر “ میں کی ہے، ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) امین (علیہ السلام) نے پورے قرآن مجید کو لیلتہ القدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف بیت العزۃ میں نازل کیا، پھر حضرت حضرت جبریل (علیہ السلام) اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کرتے رہے اور یہ مدت تئیس (٢٣) سال ہے۔
الماوردی نے کہا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : قرآن مجید رمضان کے مہینہ میں لیلتہ القدر اور لیلتہ مبارکہ میں اللہ کی طر سے آسمان دنیا میں مکمل نازل ہوا، پھر مکرم فرشتوں نے اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے بیس راتوں میں حضرت جبریل (علیہ السلام) پر نازل کیا، پھر حضرت جبریل (علیہ السلام) نے تھوڑا تھوڑا کر کے بیس سال میں ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا اور حضرت جبریل (علیہ السلام) مختلف مہینوں اور مختلف ایام میں حسب ضرورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کرتے تھے۔ (النکث و العیون ج ٦ ص ٣١١، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
علامہ ابن العربی نے کہا، (رح) یہ قول باطل ہے، حضرت جبریل (علیہ السلام) اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کسی فرشتے کا واسطہ نہیں ہے اور نہ حضرت جبریل (علیہ السلام) اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی واسطہ ہے۔ (احکام القرآن ج ٤ ص 328، دارالکتب العلمیہ، بیروت 1408 ھ)
صحیح بات یہ ہے کہ قرآن مجید لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف مکمل نازل ہوا، پھر امر اور نہی اور حلال اور حرام اور مواعظ اور قصص اور لوگوں کے سوالات کے جوابات میں حسب ضرورت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تئیس (٢٣) سال تک تھوڑا تھوڑا کر کے حضرت جبریل کے واسطے سے نازل ہوتا رہا۔
امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی 235 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ پورا قرآن ساتویں آسمان سے آسمان دنیا کی طرف رمضان میں نازل ہوا، پھر اللہ تعالیٰ جس چیز کو نازل فرمانا چاہتا، نازل فرما دیتا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٦ ص ٤٤ ۃ رقم الحدیث :30178 دارالکتب العلمیہ، بیروت 1416 ھ)
ابوقلابہ بیان کرتے ہیں کہ آسمانی کتابیں چوبیس رمضان کو نازل ہوئی ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث :30180)
ابوالعالیہ ابوالجلد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) کے صحیفے یکم رمضان کی شب میں نازل ہوئے اور زبور چھ رمضان کو نازل ہوئی اور انجیل اٹھارہ رمضان کو نازل ہوئی اور قرآن چوبیس رمضان کو نازل ہوا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث :30182)
ابو قلابہ بیان کرتے ہیں کہ تورات اس دن نازل ہوئی جب رمضان میں چھ دن رہتے تھے اور قرآن چوبیس رمضان کو نازل ہوا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث :30179)
بعض مقامات اور بعض اوقات میں عبادت کے اجر میں اضافہ
اس رات میں جو فضیلت رکھی گئی ہے، ہم کو معلوم نہیں کہ وہ اس رات میں عبادت کی وجہ سے فضیلت ہے یا اس رات میں فرشتوں کے نزول کی وجہ سے فضیلت ہے، یا اس رات میں طلوع فجر تک سلامتی کے نزول کی وجہ سے فضیلت ہے یا اس رات میں قرآن مجید کے نزول کی ابتداء کی وجہ سے فضیلت ہے یا فی نفسہ اس رات میں فضیلت رکھی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بعض مقامات پر عبادت کرنے کی فضیلت رکھی ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسجد حرام میں ایک نماز پڑھنا دوسری جگہ ایک لاکھ نمازیں پڑھنے کے برابر ہے اور میری مسجد، مسجد نبوی میں ایک نماز پڑھنا، دوسری جگہ سوا مسجد حرام کے ایک ہزار نمازیں پڑھنے کے برابر ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث :1406) ان مقامات اور جگہوں کو عبادات کے لئے خاص کرلیا گیا اور ان مقامات پر عبادات کرنے کے ثواب کو بڑھا دیا گیا، اسی طرح بعض اوقات کو بھی عبادات کے لئے خاص کرلیا گیا اور ان اوقات میں عبادات کے اجر وثواب کو بڑھا دیا گیا، جیسے رمضان کے مہینہ میں نوافل کا ثواب فرائض کے برابر ہے اور فرائض کے ثواب کو ستر درجہ بڑھا دیا گیا، اسی طرح لیلتہ القدر کی عبادت کو ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ کردیا گیا۔
لیلتہ القدر میں ” قدر “ کے معانی
اس رات کو لیلتہ القدر اس لئے فرمایا ہے کہ ” قدر “ کا معنی تقدیر ہے :” خلق کل شیء فقدرہ تقدیراً ۔ “ (الفرقان : ٢)
اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کا مناسب اندازہ کیا اس رات میں اللہ تعالیٰ آئندہ سال کے لئے جو امور چاہتا ہے وہ مقدر فرما دیتا کہ اس سال میں کتنے لوگوں پر موت آئے گی، کتنے لوگ پیدا ہوں گے اور لوگوں کو کتنا رزق دیا جائے گا، پھر یہ امور اس جہان کی تدبیر کرنے والے فرشتوں کو سونپ دیئے جاتے ہیں اور وہ چار فرشتے ہیں : اسرافیل، میکائیل، عزرائیل اور جبریل (علیہم السلام) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : لوح محفوظ سے لکھ دیا جاتا ہے کہ اس سال کتنا رزق دیا جائے گا اور کتنی بارشیں ہوں گی، کتنے لوگزندہ رہیں گے اور کتنے مرجائیں گے، عکرمہ نے کہا : لیلتہ القدر میں بیت اللہ کا حج کرنے والوں کے نام اور ان کے آباء کے نام لکھ دیئے جاتے ہیں، ان میں سے کسی نام کی کمی کی جاتی ہے اور نہ کسی نام کا اضافہ کیا جاتا ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی شب میں مستقبل میں ہونے والے امور کے متعلق فیصلے فرماتا ہے اور ان فیصلوں کو ان فرشتوں کے حوالے کردیتا ہے جو ان کو نافذ کرتے ہیں۔
اس رات کو لیلتہ القدر فرمانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ’ دقدر “ کا معنی عظمت اور شرف ہے ” وما قدرواللہ حق قدرہ (الانعام : ٩١) انہوں نے اللہ کی ایسی قدر نہیں کی جیسی قدر کرنی چاہیے تھی، جیسے کہتے ہیں کہ فلاں آدمی کی بہت قدر و منزلت ہے، زہری نے کہا : اس رات میں عبادت کرنے کی بہت قدر و منزلت ہے اور اس کا بہت زیادہ اجر وثواب ہے، ابو وراق نے کہا : جس شخص کی کوئی قدر و منزلت نہ ہو، جب وہ اس رات کو عبادت کرتا ہے تو وہ بہت قدر اور عظمت والا ہوجاتا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس رات کو لیلتہ القدر اس لئے فرمایا ہے کہ اس رات میں بہت قدر و منزلت والی کتاب، بہت عظیم الشان رسول پر، بہت عظمت والی امت کے لئے نازل کی گئی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس رات کو لیلتہ القدر اس لئے فرمایا ہے کہ اس رات میں بہت قدر و منزلت والے فرشتے نازل ہوتے ہیں او ایک قول یہ ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ بہت خیر اور برکت اور مغفرت نازل فرماتا ہے، سہل نے کہا : اس رات کو لیلتہ القدر فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ نے مئومنین کے لئے رحمت کو مقدر کردیا ہے۔
خلیل نے کہا، ” قدر “ کا معنی تنگی بھی ہے، جیسا قرآن مجید کی اس آیت میں ہے :
ومن قدر علیہ رزقہ (الطلاق : ٧) جس شخص پر اس کا رزق تنگ کردیا گیا۔ اس رات میں اتنی کثرت سے فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ زمین ان سے تنگ ہوجاتی ہے۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ٢٠ ص ١١٦ دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 97 القدر آیت نمبر 1