أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذَا زُلۡزِلَتِ الۡاَرۡضُ زِلۡزَالَهَا ۞

ترجمہ:

جب پوری زمین زلزلہ کی شدت سے ہلاک دی جائے گی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب پوری زمین زلزلہ کی شدت سے ہلا دی جائے گی۔ اور زمین اپنا تمام بوجھ باہر نکال دے گی۔ اور انسان کہے گا : اسے کیا ہوا ؟۔ اس دن وہ زمین اپنی تمام خبریں بیان کر دے گی۔ (الزلزال : ٤-١)

زلزلہ کا لغوی اور عرفی معنی

زلزلہ کا معنی ہے : بھونچال، ہلا ڈالنا “ ” زلزال “ کا معنی ہے، بہت زور سے جھڑجھڑانا، لرزا دینا، ہلا ڈالنا، امام راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے، اس میں تکرار حروف تکرار معنی کے لئے ہے یعنی بار بار جھڑجھڑانا اور ہلا ڈالنا۔ (المفردات ج ١ ص 283 مکتہب نزار مصطفیے، مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

زلزلہ کا عرفی اور اصطلاحی معنی ہم نے اس سورت کے مقدمہ میں بہت تفصیل سے لکھ دیا ہے۔

زمین پر قناعت کے زلزلہ کی کیفیت

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا، جس وقت حضرت اسرافیل پہلی بار صور میں پھنکیں گے، اس وقت زمین میں زبردست زلزلہ آئے گا، جس سے ہر چیز تہس نہس اور الٹ پلٹ ہوجائے گی۔

امام ابو منصور ماتریدی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ نے کہا ہے : اس آیت میں ایک سوال کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ لوگوں نے کہا : جس قیامت سے ہمیں ڈرایا جا رہا ہے وہ کب آئے گی ؟ اس کے جواب میں فرمایا : جب زمین پوری شدت سے ہلا دی جائے گی اور اونچے اونچے پہاڑ زمین بوس ہوجائیں گے اور زمین کہیں بھی اونچی نہیں رہے گی، قرآن مجید میں ہے :

(طہ :106-107) پس وہ زمین کو بالکل ہموار صاف میدان کر دے گا۔ جس میں (اے مخاطب ! ) نہ تو کوئی کجی دیکھے گا نہ اونچ نیچ۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 99 الزلزلة آیت نمبر 1