اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ اُولٰٓئِكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡبَرِيَّةِ – سورۃ نمبر 98 البينة آیت نمبر 7
sulemansubhani نے Saturday، 27 December 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ اُولٰٓئِكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡبَرِيَّةِ ۞
ترجمہ:
بیشک جو لوگ امیان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے، وہ تمام مخلوق میں بہترین ہیں
مئومنین صالحین کی فرشتوں پر فضیلت کے دلائل
البینہ : ٧ میں فرمایا : بیشک جو لوگ ایمان لائی اور انہوں نے نیک اعمال کئے، وہ تمام مخلوق میں بہترین ہیں۔
اس آیت سے علماء اہل سنت نے یہ استدلال کیا ہے کہ مئومنین صالحین ملائکہ سے افضل ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے، وہ تمام مخلوق میں بہتر ہیں اور تمام مخلوق میں ملائکہ بھی دخل ہیں، لہٰذا مئومنین صالحین ملائکہ سے افضل ہیں، تاہم اس میں تفصیل یہ ہے کہ رسل بشر، رسل ملائکہ سے افضل ہیں اور رسل ملائکہ عام مئومنین صالحین سے افضل ہیں اور عام مئومنین صالحین عام ملائکہ سے افضل ہیں اور معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ رسل ملائکہ، رسل بشر سے افضل ہیں اور عام ملائکہ عام مئومنین صالحین سے افضل ہیں۔
اہل سنت و جماعت کے مئوقف پر اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے :
امام عبدالرحمان بن حمد بن ادریس ابن ابی حاتم رازی متوفی 327 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتوں کا اللہ کے نزدیک جو مرتبہ ہے، کیا تم اس پر تعجب کرتے ہو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، قیامت کے دن بندہ مئومن کا جو اللہ کے نزدیک مرتبہ ہوگا، وہ فرشتوں کے مرتبہ سے ضرورت بہت زیادہ عظیم ہوگا اور تم چاہو تو اس آیت کو پڑھو :
(البینہ : ٧) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے، وہ تمام مخلوق میں بہتر ہیں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٩٤٣٢ تفسیر کبیرج ١١ ص 248، الدرالمنثور ج ٨ ص 538، روح المعانی جز 30 ص 370 اس کے علاوہ درج ذیل حدیث ہے : مخلوق میں سب سے زیادہ کون مکرم ہے آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! کیا تم یہ آیت نہیں پڑھتیں ؟ ” ان الذین امنوا و عملوا الصلحت اولئک ھم خیرا البریۃ۔ “ (البینہ : ٧) (الدرا المنثور ج ٨ ص 538، روح المعانی جز 30 ص 370)
مئومنین صالحین کی فرشتوں پر فضیلت کے مسئلہ میں امام رازی کے اعتراضات اور مصنف کے جوابات
امام فخر الدین حمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے اس پر حسب ذیل اعتراضات کئے ہیں :
(١) یزید نحوی سے مروی ہے کہ ” بریۃ “ ” برا “ سے ماخوذ ہے، اس کا معنی ہے : مٹی اور اس سے مراد بنو آدم ہیں، لہٰذا ” بریۃ “ میں فرشتے داخل ہی نہیں ہیں حتیٰ کہ مئومنین صالحین کا فرشتوں سے افضل ہونا لازم آئے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص ٢٤٨ داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)
میں کہتا ہوں کہ صحیح یہ ہے کہ ” بریۃ “ ” برا “ سے ماخوذ ہے بلکہ ” برئ “ سے ماخوذ ہے، امام ابن جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :
امام ابن قتیبہ نے کہا کہ ” البریۃ “ کا معنی ہے :” الخلق “ اکثر عرب اور قراء اس کو رتک ہمزہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور بعض لوگوں کا گمان یہ کہ یہ ” البریٰ “ سے ماخوذ ہے، جس کا معنی مٹی ہے یعنی جن کو مٹی سے پیدا کیا گیا، انہوں نے کا : اسی وجہ سے اس پر ہمزہ نہیں ہے، الزجاج نے کہا : اگر یہ ” البریٰ “ سے ماخوذ ہوتا، جس کا معنی مٹی ہے تو اس پر ہمزہ نہ آتا، یہ لفظ صرف ” برء اللہ الخلق “ (اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا) سے ماخوذ ہے۔ الخطابی نے کہا کہ ” البریۃ “ کی اصل میں ہمزہ ہے، لیکن اس میں ہمزہ کو ترک کرنے پر اصطلاح ہوگئی۔ (زاد المسیرج ٩ ص ١٩٩ مکتب اسلامی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)
خود امام رازی البینہ : ٦ میں ” شرالبریۃ “ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
پانچواں سوال یہ ہے کہ لفظ ” البریۃ “ کی قرأت کس طرح ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ امام نافع نے ” البرئیۃ “ کو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی نے بغیر ہمزہ کے ” البریۃ “ پڑھا ہے، جیسے ” النبی، الذریۃ “ اور ’ دالخابیۃ “ پڑھا جاتا ہے، جب اس کو اصل کی طرف لوٹایا جائے تو پھر اس پر ہمزہ آتا ہے، جیسا کہ لفظ ” النبی “ میں بھی ہمزہ اسی طرح ہے اور اس میں ہمزہ کو ترک کرنا عمدہ ہے اور اس تفصیل سے یہ ظاہر ہوگیا کہ جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ” البریۃ “ ” الریٰ “ سے ماخوذ ہے، جس کا معنی مٹی ہے، ان کا قول فاسد ہے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 247، داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)
لیجیے ! امام رازی نے خود تصریح کردی ہے کہ ” البریۃ “ ” البریٰ “ سے ماخوذ نہیں ہے اور یہ قول فاسد ہے، پھر حیرت ہے کہ فرشتوں کی بشر پر فضیلت ثابت کرنے کے لئے انہوں نے ایک صفحہ بعد یہ لکھ دیا کہ ” خیر البریۃ “ میں ” البریۃ “ ” الربیٰ “ نہ کہ مئومنین صالحین تمام مخلوق میں افضل ہیں، حتیٰ کہ وہ فرشتوں سے افضل ہوں اور امام رازی جس کی یہاں پیروی کر رہے ہیں، وہ متزلہ کا مذہب ہے اور ہم جس کی پیروی کر رہے ہیں، وہ اہل سنت کا مذہب ہے۔
(٢) امام رازی کا اس پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت “ بشر کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اس میں فرشتے بھی داخل ہیں۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 248-249)
میں کہتا ہوں کہ یہ قول قرآن مجید کے اسلوب اور خرف دونوں کے خلاف ہے۔ قرآن مجید میں جہاں بھی ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت “ آیا ہ، اس سے مراد بشر ہی ہوتے ہیں، فرشتے مراد نہیں ہوتے۔ حیرت ہوتی ہے کہ امام رازی نے معتزلہ کی تایید میں کیسی عجیب و غریب بات کہی ہے، قرآن مجید میں ہے۔
(البقرہ : ٢٥) اور ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں کی بشارت دیجیے جن کے نیچے دریا بہ رہے ہیں، جب بھی ان کو جنت کے پھلوں سے رزق دیا جائے گا تو وہ کہیں گے : یہ تو وہ ہے جو ہم کو اس سے پہلے دیا گیا تھا حلاان کہ ان کو اس سے پہلے اس سے مشابہ پھل دیا گیا تھا، اور ان مئومنین صالحین کے لئے جنتوں میں پاکیزہ بیویاں بھی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ا
اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ مئومنین صالحین کے لئے جنتوں میں پایکزہ بیویاں بھی ہوں گی تو اگر مئومنین صالحین میں فرشتے بھی داخل ہیں تو کیا فرشتوں کے لئے بھی پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔
مئومنین صالحین پر فرشتوں کی فضیلت کے متعلق امام رازی کے تفصیلی دلائل
امام رازی نے استدلال پر تیسرا اعتراض یہ کیا ہے کہ فرشتے ” البریۃ “ سے خارج ہیں اور اس پر بہت دلائل ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فضیلت وہبی ہوتی ہے یا کسبی اگر وہبی فضیلت کی طرف دیکھو تو فرشتوں کی اصل نور ہے اور تمہاری اصل سڑی ہوئی کیچڑ ہے اور ان کا مسکن وہ دار ہے جس میں تمہارے باپ کو لغزش کی وجہ سے رہنے نہیں دیا گیا اور تمہارا مسکن زمین ہے جو شیاطین کی آما جگاہ ہے، نیز ہماری مصلحتوں کا فرشتے انتظام کرتے ہیں اور ہمارا رزق ان میں سے بعض (حضرت میکائیل) کے ہاتھ میں ہے اور ہماری روح بعض دوسرے فرشتوں کے ہاتھ میں ہے، پھر وہ علماء ہیں اور ہم متعلم ہیں، پھر انکی عظیم ہمت کو دیکھو، وہ حقیر گناہوں کی طرف مائل نہیں ہوتے، اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب سے سوائے ا الوہیت کے دعویٰ کے اور کسی چیز کی حکایت نہیں کی، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے فضائل بیان کرنے کے بعد فرمایا :
(الانبیائ : ٢٩) اور ان میں سے جش فرشتے نے یہ کہا کہ اللہ کے سوا میں مستحق عبادت ہوں تو ہم اس کو جہنم میں جھونک دیں گے، ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیتے ہیں۔
یعنی اگر فرشتے کسی گناہ کا اقدام کرتے تو ان کی ہمت اس قدر بلند تھی کہ سوائے دعوائے ربوبیت کے اور کوئی گناہ ان کے لائق نہ تھا اور تم ہمیشہ پیٹ اور شرم گاہ کی غلامی میں رہتے ہو اور جاں تک عبادت کا معاملہ ہے تو وہ نبی سے زیادہ عبادت کرتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کی عبادت کی اس طرح مدح فرمائی ہے کہ وہ دو تہائی رات میں عبادت کرتے تھے اور فرشتوں کی عبادت کے متعلق اس طرح فرمایا ہے :
(الانبیائ : ٢٠) وہ دن رات تسبیح کرتے رہتے ہیں اور تھکتے نہیں ہیں۔ اور ایک مقام پر اس طرح فرمایا :
(حم السجدہ : ٣٨) پس جو فرشتے آپ کے رب کے پاس ہیں وہ رات اور دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور وہ کبھی نہیں اکتاتے۔
(امام رازی فرماتے ہیں :) عنوان پر مفصل گفتگو سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص ٢٤٩، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
نبیوں اور مئونین صالحین پر فرشتوں کی فضیلت کے مسئلہ میں امام رازی کے تفصیلی دلائل کے جوابات
امام رازی نے فرمایا کہ فرشتوں کی وہی فضیلت یہ ہے کہ ان کی اصل نور ہے اور انسانوں کی اصل سڑی ہوئی کیچڑ ہے۔
الجواب : میں کہتا ہوں کہ ہر مرکب کی چار علتیں ہوتی ہیں : (١) علت مادی (٢) علت صوری (٣) علت فاعلی (٤) علت غائی، علت مادی کے اعتبار سے فرشتے افضل ہیں کیونکہ ان کا مادہ تخلیق نور ہے اور بشر کا مادہ تخلقی مٹی، لیکن باقی تین علتوں کے اعتبار سے مئومنین صالحین فرشتوں سے افضل ہیں، علت صوری کے لحاظ سے اس لئے افضل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنی صورت پر بنایا، حدیث میں ہے :
عن ابی ہریرہ عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خلق اللہ آم علی صورتہ الحدیث۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث ٦٢٢٧، الاستبذان رقم الحدیث : ١ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤١، مسند احمد ج ٢ ص 315)
علت فاعلی کے اعتبار سے اس لئے افضل ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا، قرآن مجید میں ہے :
یا بلیس مامنعک ان تسجد لما خلقت بیدی (ص : ٧٥) اے ابلیس ! تجھے اس کو سجدہ کرنے سے کس نے منع کیا، جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔
اور علت غائی کے اعتبار سے اس لئے حضرت آدم افضل ہیں کہ ان کا مقصد تخلیق اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اور نائب ہونا ہے۔
نیز اللہ تعالیٰ نے بشر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا :
ولقد کرمنا بنی ادم (بنی اسرائیل : ٧٠) بیشک ہم نے اولاد آدم کو ضرور مکرم بنایا ہے۔
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ (التین : ٤) بےشہم نے انسان کو حسین ترین ساخت میں بنایا ہے۔
مئومنین صالحین کے فرشتوں سے افضل ہونے پر خصوصی دلیل یہ ہے کہ تمام فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا، نیز اللہ تعالیٰ نے بعض فرشتوں کو بشر اور انسان کی خدمت پر مامور کیا ہے، حضرت جبریل انبیاء کرام پر وحی لاتے ہیں، حضرت میکائیل انسانوں کے لئے رزق فراہم کرتے ہیں، حضرت عزرائیل ان کی روح قبض کرتے ہیں، ملائکہ سیا چین انکے ذکر کو اللہ تعالیٰ کے پاس پیش کرتے ہیں، کچھ فرشتے ان کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پڑھے ہوئے صلوۃ وسلام کو روضہ انور میں پہنچاتے ہیں، کچھ فرشتے بناتے ہیں اور تقدیر کے امور لکھتے ہیں اور لیلتہ القدر کے عبادوں پر وہ حضرت جبریل (علیہ السلام) کے ساتھ آ کر شب قدر کے عابدوں کی عظمتوں پر طلوع فجر تک سلام پڑھتے رہتے ہیں، ان کے علاوہ وہ مئومنین صالحین کے لئے اور بھی بہت خدمات انجام دیتے ہیں اور ان شواہد سے آفتاب نیم روز سے زیادہ واضح ہوجاتا ہے کہ مئومنین صالحین فرشتوں سے بدرجہا افضل ہیں۔
امام رازی نے فرمایا : ان کا مسکن وہ دار ہے جس میں تمہارے باپ کو لغزش کی وجہ سے رہنے نہیں دیا گیا اور تمہارا مسکن زمین ہے، جو شیاطین کی آما جگاہ ہے۔
الجواب : میں کہتا ہوں کہ فرشتے صرف جنت میں نہیں ہیں، وہ دوزخ میں بھی بہ طور محافظ ہیں، وہ آسمانوں میں بھی ہیں اور زمین پر بھی ہیں اور ہمارے باپ سیدنا آدم (علیہ السلام) کا جنت میں پہلے عارضی قیام تھا، ان کا مقصد تخلیق زمین پر اللہ تعالیٰ کی نیابت اور خلافت کرنا تھا، وہ اس لئے زمین پر آئے اور اپنا مشن پورا کرنے کے بعد وہ دائمی قیام کے لئے اپنی بیشمار ذریات کے ساتھ جنت میں جائیں گے، اس لئے مئومنین صالحین کا دائمی گھر جنت ہی ہے اور دنیا تو ان کے امتحان اور آزمائش کی جگہ ہے، یہاں پر وہ شیاطین سے جہاد کرتے ہیں اور ان کو رسوا کرت یہیں اور یہ ان کی فضیلت کی وجہ ہے نہ کہ مذمت کی۔
امام رازی نے فرمایا : ہماری مصلحتوں کا اتنظام فرشتے کرتے ہیں اور ہمارا رزق ان میں سے بعض کے ہاتھ میں ہے اور ہماری رح بعض دوسرے فرشتوں کے ہاتھ میں ہے۔
الجواب : ہمارا رزق اور ہماری روح فرشتوں کے ہاتھ میں ہے، ان کے اختیار میں نہیں ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہماری خدمت پر مامور ہیں، یہ ان کی فضیلت نہیں ہے، بلکہ ہماری فضیلت ہے۔
امام رازی نے فرمایا : پھر و علماء ہیں اور ہم متعلم ہیں۔
الجواب : میں کہتا ہوں کہ فرشتوں کا معلم اور ہمارا متعلم ہونا بالکل ثابت نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس ثابت ہے کیونکہ ہمارے باپ سیدنا آدم (علیہ السلام) نے تمام فرشتوں کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، قرآن مجید میں ہے :
(البقرہ : ٣٣-٣١) اور اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے، پھر ان چیزوں کو فرشتوں پر پیش کیا، پس فرمایا : مجھے ان چیزوں کے نام بتائو اگر تم سچے ہو۔ فرشتوں نے کہا : تو پاک ہے، ہمیں صرف اسی کا علم ہے جس کا تو نے ہمیں علم دیا ہے اور کوئی علم نہیں، بیشک تو بہت جاننے والا بےحد حکمت والا ہے۔ اللہ نے فرمایا : اے آدم ! ان فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتائو، پس جب آدم نے ان چیزوں کے نام سکھا دیئے تو اللہ نے فرمایا : کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمینوں کے غیب کو میں ہی جانتا ہوں اور میں جانت ہوں جس کو تم ظاہر کرتے ہو اور جس کو تم چھپاتے تھے۔
جب ہمارے باپ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی تمام فرشتوں پر فضیلت علمی ثابت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں، پس تمام فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا، قرآن مجید میں ہے : فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون۔ (الحجر ٣٠ ص : ٧٣) سو تمام فرشتوں نے اکٹھے ہو کر (آدم کو) سجدہ کیا۔
اور ظاہر ہے کہ جس کو سجدہ کیا جائے، وہ سجدہ کرنے والوں سے افضل ہوتا ہے۔
امام رازی نے فرمایا : پھر ان کی عظیم ہمت یہ ہے کہ وہ حقیر گناہوں کی طرف مائل نہیں ہوتے، اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب سے سوائے الوہیت کے دعویٰ کے اور کسی چیز کی حکایت نہیں کی، اگر فرشتے کسی گناہ کا اقدام کرتے تو ان کی ہمت اس قدر بلند تھی کہ سوائے دعویٰ ربوبیت کے اور کوئی گناہ ان کے لائق نہ تھا اور تم ہمیشہ پیٹ اور شرم گاہ کی غلامی میں رہتے ہو۔
الجواب : میں کہتا ہوں کہ پھر تو فرعون اور نمرود کو بھی بلند ہمت ماننا پڑے گا کیونکہ انہوں نے بالفعل ربوبیت کا دعویٰ کیا تھا، رہا یہ کہ فرشتے پیٹ اور شرم گاہ کے حقیر گناہوں کی طرف مئال نہیں ہوتے، سو اس میں ان کی کوئی فضیلت نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں بھوک، شہوت اور غضب کا مادہ رکھا ہی نہیں ہے، فضیلت تو مئومنین صالحین کی ہے، جن میں بھوک، شہوت اور غضب کو رکھا گیا ہے، اس کے باوجود وہ حرام کھاتے ہیں نہ حرام طریقوں سے شہوت کو پورا کرتے ہیں اور نہ غب میں آ کر قتل و غارت گری کرتے ہیں اور امام رازی نے فرمایا ہے : تم ہمیشہ پیٹ اور شرم گاہ کی غلامی میں رہتے ہ، اس کا جواب یہ ہے کہ مئومنین صالحین کبھی بھی پیٹ اور شرم گاہ کی غلامی میں گناہ نہیں کرتے اور ہم فرشتوں پر ان ہی صالحین کی فضیلت کے قائل ہیں۔ جیسا کہ زیر تفسیر آیت میں ہے :
(البینہ : ٧) بیشک جو لوگا یمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے وہ تمام مخلوق میں بہترین ہیں۔
اور جو لوگ پیٹ اور شرم گاہ کی غلامی میں ہمیشہ گناہ کرتے ہیں، وہ کفار اور فساق فجار ہیں، ہم ان کو فرشتوں سے افضل نہیں مانتے بلک ہفرشتے ان سے افضل ہیں، صرف انبیاء علہیم السلام اور مئومنین صالحین فرشتوں سے افضل ہیں۔
امام رازی نے فرمایا : جہاں تک عبادت کا معاملہ ہے تو فرشتے نبی سے زیادہ عبادت کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بنبی کی عبادت کی اس طرح مدح فرمائی ہے وہ دو تہائی رات میں عبادت کرتے تھے اور فرشتوں کی عبادت کے متعلق اس طرح فرمایا ہے :
(الانبیائ : ٢٠) وہ رات دن تسبیح کرتے رہتے ہیں اور تھکتے نہیں ہیں۔
الجواب : میں کہتا ہوں کہ فرشتوں کے دن رات عبادت کرنے اور نہ تھکنے اور نہ اکتانے میں ان کا کوئی کمال نہیں اور نہ ان کی کوئی فضیلت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں نیند رکھی ہے نہ بھوک اور پیاس رکھی ہے، نہ شہوت اور غضب رکھا ہے، کمال تو انبیاء (علیہم السلام) کا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں نیند رکھی ہے، اس کے باوجود وہ نیند کو ترک کر کے دو تہائی رات تک بادت کرتے تھے علاوہ ازیں انبیاء (علیہم السلام) کی فضیلت ہے کہ وہ اپنے اختیار سے نیند کو ترک کر کے دوتہائی رات تک عبادت کرتے تھے، اور فرشتوں کی عبادت اختیاری نہیں ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے جس کام پر لگا دیا وہ اس کام کو کسی اختیار کے بغیر کر رہے ہیں، جس طرح سورج کا روشنی پہنچانے میں کوئی اختیار اور کمال نہیں ہے، اسی طرح جن فرشتوں کو دن رات عبادت کرنے کا حکم دیا، ان کا بھی دن رات عبادت کرنے میں کوئی اختیار اور کمال نہیں ہے۔
اس کے بعد امام رازی نے فرمایا : اس عنوان پر مفصل گفتگو سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔
میں کہتا ہوں کہ سورة البقرہ میں امام رازی نے فرشتوں کی انبیاء (علیہم السلام) پر فضیلت کے جو دلائل دیئے ہیں، ہم نے ان کا جواب سورة التکویر، ٢١-١٩ میں لکھ دیا ہے، وہ جوابات بھیا سی جلد میں ہیں، قارئین کرام انکو نکال کر پڑھ لیں۔
مفتی محمد شفیع کا پوری تفسیر کبیر کا امام رازی کی تفسیر نہ قرار دینا
امام رازی نے چونکہ اس سورت میں سورة البقرہ کا حوالہ دیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس آخری پارہ کی تفسیر بھی امام رازی ہی کی لکھی ہوئی ہے، بعض علماء نے بغیر تحقیق کے لکھ دیا ہے کہ امام رازی نے تفسیر کبیر کو مکمل نہیں کیا۔ یہ صحیح نہیں ہے، پوری تفسیر امام رازی ہی کی لکھی ہوئی ہے۔
مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی 1396 ھ لکھتے ہیں :
امام رازی نے سورة فتح تک تفسیر خود لکھی ہے، اس کے بعد وہ اسے پورا نہ کرسکے چناچہ سورة فتح سے آخر تک کا حصہ قاضی شہاب الدین الدمشقی متوفی 639 یا شیخ نجم الدین قمولی متوفی ٧٧٧ ھ (صحیح ٧٢٧ ھ ہے) نے مکمل فرمایا۔ (معارف القرآن جۃ مقدمہ ص ٥٧، ادارۃ المعارف، کراچی، ١٤ ر ١ ھ)
ابو الکامآزاد کی تفسیر کبیر پر مبہم تنقید
ابوالکلام آزاد نے ترجمان القرآن ج ١ ص 8-16 میں امام رازی پر رد کیا ہے، میں نے ان صفحات کو پڑھا، ان میں کوئی بات جواب کے قابل نہیں ہے، ابوالکلام آزاد نے قدیم تفاسیر پر مبہم تبصرہ اور تنقید کی ہے۔ کسی تفسیر کے متعق معین بات نہیں لکھی کہ اس تفسیر میں یہ لکھا ہوا ہے اور یہ اس وجہ سے غلط ہے۔
مثلاً وہ لکھتے ہیں :
اسلام کی ابتدائی صدیوں سے لے کر قرون اخیرہ تک جس قدر مفسر پیدا ہوئے، ان کا طریق تفسیر ایک روبہ تنزیل معیار فکر کی مسلسل زنجیر ہے، جس کی ہر پچھلی کڑی پہلی سے پست تر اور ہر سابق لاحق سے بلند تر واقع ہوئی ہے۔ (ترجمان القرآن ج ١ ص ٩)
آزاد صاحب نے کوئی مثال نہیں دی، کوئی دلیل نہیں قائم کی، کوئی حوالہ نہیں دیا کہ فلاں کتاب کی فلاں تفسیر روبہ تنزل معیار کی حامل ہے اور اگر یہ کلیہ ہے تو ان کی تفسیر ترجمان القرآن جو ١٩٣٠ ء میں لکھی گی ہے، وہ تو بہت زیادہ بعد کی تفسیر ہے، اس لیء وہ ان کے اپنے کلیہ کے مطابق بہت زیادہ روبہ تنزل ہے۔
امام رازی پر مبہم تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
جب امام رازی نے تفسیر کبیر لکھی اور پوری کوشش کی کہ قرآن کا سراپا اس مصنوعی لباس و ضعیت سے آرساتہ ہوجائے۔ اگر امام رازی کی نظر اس حقیقت پر ہوتی تو ان کی پوری تفسیر نہیں تو دو تہائی حصہ یقیناً بےکار ہوجاتا۔ (ترجمان القرآن ج ١ ص ١١)
آزاد صاحب نے کوئی حوالہ نہیں دیا کہ امام رازی کی فلاں تفسیر وضعی ہے، جب دو تہائی تفسیر وضعی ہے تو کم از کم آٹھ دس حوالے تو اس کے ثبوت میں دینے چاہیے تھے، شکر ہے کہ انہوں نے امام رازی کی ایک تہائی تفسیر کو غیر وضعی مان لیا ہے، اگر وہ اس کا بھی انکار کردیتے تو ہم کیا کرسکتے تھے، خود آزاد صاحب نے جو تفسیر لکھی ہے، وہ بھی انہوں نے اپنے مخصوص نظریات کے مطابق لکھی ہے، چونکہ آزاد صاحب وہابی فکر کے ترجمان تھے، اس لئے انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشریت اور بندگی پر بہت زور دیا ہے اور آپ کی عظمت اور تکریم کا کوئی ذکر نہیں کیا، آزاد صاحب لکھتے ہیں :
سب سے زیادہ اہم مسئلہ مقام نبوت کی حد بندی کا تھا، یعنی معلم کی شخصیت کو، اس کی اصلی جگہ میں محدود کردینا تاکہ شخصیت پرستی کا ہمیشہ کے لئے سدباب ہوجائے، اس بارے میں قرآن نے جس طرح صاف اور قطعی لفظوں میں جا بجا پیغمبر اسلام کی بشریت اور بندگی پر زور دیا ہے، محتاج بیان نہیں (الی قولہ) پیغمبر اسلام کی بندگی اور درجہ رسالت کا اعتقاد اسلام کی اصل و اساس بن جائے اور اس کا کوئی موقع ہی باقی نہ رہے کہ عبدیت کی جگہ معبودیت اور رسالت کی جگہ اوتار کا تخیل پیدا ہو (الی قولہ) یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد مسلمانوں میں بہت سے اختلافات پیدا ہوئے لیکن ان کی شخصیت کے بارے میں کبھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوا، ابھی ان کی وفات پر چند گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ حضرت ابوبکر نے برسر منبر اعلان کردیا تھا، جو کوئی تم میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پرستش کرتا تھا، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد نے وفات پائی، اور جو کوئی تم میں سے اللہ کی پرستش کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کی ذات ہمیشہ زندہ ہے، اس کے لئے موت نہیں۔ (ترجمان القرآن ج ١ ص 166-167)
آزاد صاحب نے جو کچھ لکھا ہے، یہ وہابی نظریہ کے مطابق لکھا ہے اور قرآن مجید کو اپنے نظریہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے، لہٰذا یہ تفسیر وضعی بھی ہے اور تفسیر بالرائے بھی ہے کیونکہ انہوں نے تفسیر بالرائے کے متعلق لکھا ہے :
جب باب عقائد میں رد و کد شرع ہوئی تو مختلف مذاہب کلامیہ پیدا ہوگئے، ہر مذہب کے مناظر نے چاہا، اپنے مذہب پر نصوص قرآنیہ کو ڈھالے، وہ اس کی جستجو میں نہ تھے کہ قرآن کیا کہتا ہے ؟ ب ل کہ ساری کاوش اس کی ساتھی کہ کس طرح اسے اپنے مذہب کا مئوید دکھا دیں، اس طرح کی تفسیر تفسیر بالرائے تھی۔ (ترجمان القرآن ج ١ ص ١٥)
وہابی فکر کی ایک خصوصی یہ ہے کہ قرآن مجید میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور آپ کی فضیلت کی جو آیات ہیں، ان میں آپ کی فضیلت کے پہلو کا ذکر نہیں کرتے اور آپ کی فضیلت کو حذف کردیتے ہیں، ابوالکام آزاد نے اسی فکر کے مطابق قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کیا ہے :” وما ارسلنک الارحمۃ للعلمین۔ “ (الانبیائ : ١٠٧) کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں :
(اے پیغمبر ! ) ہم نے تمہیں نہیں بھیجا ہے، مگر اس لئے کہ تمام جہان کے لئے ہماری رحمت کا ظہور ہے۔ (ترجمان القرآن ج ١ ص ٨٩)
تمام علماء مفسرین بلکہ تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رحمۃ للعلمین “ فرمایا ہے، لیکن آزاد صاحب نے اپنے نظریہ میں ڈھال کر اس آیت کا ترجمہ کیا ہے اور ” رحمۃ للعلمین “ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت نہیں بنایا اور اجماع مسلمین کی مخالفت کی، اور آزاد صاحب صاحب کی تعریف کے مطابق یہی تفسیر بالرائے ہے اور یہی تفسیر وضعی ہے کہ قرآن مجید کی آیات کو اپنی بدعقیدگی میں ڈھال دیا جائے۔
امام رازی کی تفسیر کبیر کے محسان
ابوالکلام آزاد نے امام فخر الدین رازی کی دو تہائی تفسیر کو بےکار قرار دیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ابو الکلام آزاد میں یہ اہلیت ہی نہیں تھی کہ وہ امام رازی کی تفسیر کے نکات اور دقائق کو سمجھ سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ امام رازی کی تفسیر کبیر اس قدر عمدہ ہے کہ متقدمین میں اس کی کوئی مثال ہے نہ متاخرین میں اس کی کوئی نظریہ ہے، امام رازی سے پہلے کی جو تفاسیر ہیں، ان میں صرف صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے اقوال نقل کئے گئے ہیں اور کہیں کہیں احادیث کا بھی ذکر کیا گیا ہے، اور الماوروی اور ابوبکر بن العربی نے مذہب کا ذکر کیا ہے اور ابوبکر جصاص نے اپنے مذہب پر دلائل دیئے ہیں، زمخشری نے لغت اور فصاحت و بلاغت کا ذکر کیا ہے، لیکن امام رازی نے ان تمام امور کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے اسرار اور نکات بیان کئے ہیں، قرآن مجید کی متعدد آیات سے اللہ تعالیٰ کی توحید پر استدلال کیا ہے، سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت پر متعدد آیات سے استنباط کیا ہے، قیامت، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے، حشر اور نشر کو بہت دلائل سے ثابت کیا ہے، قرآن مجید کی کئی آیات سے شفاعت کو ثابت کیا ہے اور منکرین شفاعت کے اعترضا ات کے جوابات دیئے ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افضل الرسل ہونے پر بہت دلائل پیش کئے ہیں اور قرآن مجید کی متعدد آیات سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا استنباط کیا ہے، حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی فضیلت کو متعدد آیات سے واضح کیا ہے اور روافض کے شبہات کے مسکت جوابات دیئے ہیں، قیاس اور اجماع کی حجیت کو ثابت کیا ہے، ان کے زمانہ میں معتزلہ کا زور تھا جو کہتے تھے کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے، وہ جن آیات سے استدلال کرتے تھے، ان آیات کا صحیح محمل بیان فرمایا ہے، اور جگہ جگہ ان کا ردل فرمایا ہے، جو مسلمان گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو اور بغیر توبہ کے مرجائے، اس کی مغفرت کو بہت آیات سے ثابت کیا ہے، قرآن مجید کے قدیم ہونے کو بہت دلائل سے ثابت کیا ہے، انبیاء (علیہم السلام) کے معصوم ہونے کو متعدد آیات سے ثابت کیا ہے اور منکرین عصمت انبیاء کے شبہات کے وزنی اور تسلی بخش جوابات دیئے ہیں اور تفسیر کبیر کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ امام رازی اس میں قرآن مجید کی آیات کا باہمی ربط بیان کرتے ہیں، یوں لگتا ہے کہ پورا قرآن ایک ہی سلسلہ میں منسلک ہے اور وہ قرآن مجید کی آیات کے بہت لطیف اسرار اور نکات بیان کرتے ہیں، جن سے متقدمین اور متاخرین کی تفاسیر خالی ہیں، امام رازی کی تفسیر زیادہ تر ان ہی عنوانوں پر مشتمل ہے، بتایئے ان میں سے کون سا عنوان ایسا ہے جسے بےکار کہا جاسکتا ہے ؟ ابو الکلام آزاد کا امام رازی کی دو تہائی تفسیر کو بےکار کہنا انتہائی ظلم ہے، چاند پر تھوکنے سے چاند کے حسن میں کوئی فرق نہیں پڑتا، صرف تھوکنے والے کی پستی کا اظہار ہوتا ہے۔
بعد کے بعض مفسرین نے امام رازی کے بعض نکات کو اپنی تفسیروں میں درج کیا ہے، ان میں قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی 685 ھ علامہ علی بن محمد خازن متوفی 741 ھ علامہ ابوالحیان اندلسیم توفی 754 ھ علامہ اسماعیل حقی متوفی 1137 ھ اور علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ شامل ہیں۔ امام شافعی نے فرمایا تھا : تمام فقہاء عیال ابوحنیفہ ہیں، یعنی بعد کے تمام فقہاء نے امام ابوحنیفہ کی فقہ سے استفادہ کیا ہے اور میں کہتا ہوں کہ امام رازی کے بعد کے تمام مفسرین عیال امام رازی ہیں، سب بعد والوں نے ان کی تفسیر کے نکات اور دلائل سے استفادہ کیا ہے۔
خود را اقم الحروم نے امام رازی کی تفسیر سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے، میں نے تقریباً پوری تفسیر کبیر کا مطالعہ کیا ہے اور تفسیر کبیر کو سامنے رکھ کر تبیان القرآن کو لکھا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ بحمدہ تعالیٰ جتنا میں نے تفسیر کبیر کو پڑھا ہے، اتنا اس کو کسی نے نہیں پڑھا ہوگا، یہی وجہ ہے کہ بہت علماء نے یہ لکھ دیا کہ امام رازی نے پوری تفسیر کبیر نہیں لکھی، ان میں علامہ ابن خلکان متوفی 681 ھ علامہ ذہبیم توفی 748 ھ تاج الدین سبکی متوفی 771 ھ حافظ عسقلانی متوفی 852 ھ حاجی خلیفہ متوفی 1067 ھ ایسے محقق علماء شامل ہیں، جب کہ میں نے باقاعدہ تفسری کبیر کے حوالہ جات سے واضح کیا ہے کہ پور تفسیر حضرت امام رازی قدس سرہ کی ہی لکھی ہوئی ہے۔ (دیکھیے : تبیان القرآن ج ١ ص 32-34)
ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ اور کسی کا یہ مقام نہیں ہے کہ اس کی کہی ہوئی یا لکھی ہوئی ہر بات صحیح یا حجت ہو، اس لئے بعض مقامات پر میں نے امام رازی کی تفسیر سے نہایت ادب اور شائستگی سے اختلاف بھی کیا ہے، اس کے باوجود میرے نزدیک تفسیر میں امام رازی کا جو مقام ہے، وہ کسی اور مفسر کا نہیں ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 98 البينة آیت نمبر 7