أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ مُنۡفَكِّيۡنَ حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ ۞

ترجمہ:

اہل کتاب میں سے بعض کفار اور مشرکین (اپنے دین کو) چھوڑنے والے نہیں ہیں حتیٰ کہ ان کے پاس واضح دلیل آجائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اہل کتاب میں سے بعض کفار اور مشرکین (اپنے دین کو) چھوڑین والے نہیں ہیں حتیٰ کہ ان کے پاس واضح دلیل آجائے۔ وہ اللہ کی طرف سے رسول ہیں جو پاک صحیفوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ ان میں معتدل احکام ہیں۔ اہل کتاب میں اسی وقت تفرقہ ہوا جب ان کے پاس واضح دلیل آچکی تھی۔ (البینہ : ٤-١)

امام ابو منصور ماتریدی کی تقریر

ان آیات کی مفسرین نے کئی تقریریں کی ہیں۔

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :

البینہ : ١ میں اہل کتاب سے پہلے ” من “ تبعیضیہ کا ذکر ہے اور مشرکین سے پہلے نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کے متعدد فرقے تھے، ان میں سے بعض کافر تھے اور بعض کافر نہیں تھے اور مشرکین تمام کے تمام کافر تھے۔

اہل کتاب میں سے بعض وہ تھے، جو ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے آپ پر ایمان رکھتے تھے اور جب آپ مبعوث ہوگئے تو پھر بھی وہ آپ پر ایمان لے آئے اور بعض وہ تھے جو آپ کی بعثت کے بعد آپ پر ایمان نہیں لائے اور بعض وہ تھے جو پہلے بھی کافر تھے اور بعد میں بھی کافر رہے اور جب ان کے متعدد فرقے تھے تو اہل کتاب سے پہلے ” من “ تبعیضیہ کا ذکر کیا یعنی اہل کتاب میں سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور رہے مشرکین تو ان کی ایک ہی قسم تھی اور وہ سب کافر تھے۔

اس آیت میں ” بینۃ “ کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، جیسا کہ البینہ : ٢ میں فرمایا : وہ اللہ کی طرف سے رسول ہیں جو پاک صحیفوں کی تلاوت کرتے ہیں، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ” بینۃ “ اس لئے فرمایا ہے کہ حق اور باطل کو آپ نے ہی بیان فرمایا ہے اور دنیا اور آخرت کی ہر اہم چیز آپ نے بیان فرمائی اور اپنی نبوت اور اسلام کی صداقت پر آپ نے ہی معجزات پیش کئے، سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے، اس کو بھی آپ نے پڑھ کر سنایا، سو اللہ تعالیٰ کی توحید اور آپ کی نبوت پر حجت قاطعہ اور واضح دلیل آپ کی ذات گرامی ہے، اس لئے ان دونوں آیتوں کا معنی یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جن بعض لوگوں نے کفر کیا، وہ اور مشرکین اپنے دین کو چھوڑنے والے نہیں ہیں، حتیٰ کہ ان کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آجائیں اور آپ ان پر قرآن مجید کی تلاوت کریں، جس میں معتدل احکام ہیں اور اہل کتاب میں اسی وقت تفرقہ ہوا، جب آپ مبعوث ہوگئے، ان میں سے بعض آپ پر ایمان لے آئے اور ان میں سے بعض نے عناداً آپ کا انکار کیا اور کافر ہوگئے۔

البینہ : ١ کا دوسرا محمل یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے بعض کفار اور مشرکین دنیا سے اس وقت تک نکلنے والے نہیں ہیں، جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آجائے اور واضح دلیل سے مراد یہ ہے کہ موت کے وقت ان کو عذاب کے فرشتے دکھائے جائیں گے اور وہ عذاب کا مشاہدہ کرلیں گے اور اس وقت دنیا سے نکل جائیں گے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 98 البينة آیت نمبر 1