وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ۙ حُنَفَآءَ وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ وَذٰلِكَ دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ سورۃ نمبر 98 البينة آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Saturday، 27 December 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ۙ حُنَفَآءَ وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ وَذٰلِكَ دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ ۞
ترجمہ:
اور ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اخلاص کے ساتھ اطاعت کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں، ملت حنیفہ پر قائم رہتے ہوئے اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور یہی دین مستقیم ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اخلاص کے ساتھ اطاعت کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں، ملت حنیفہ پر قائم رہتے ہوئے اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور یہی دین مستقیم ہے۔ بیشک اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے وہ تمام مخلوق میں بہترین ہیں۔ ان کی جزاء ان کے رب کے پاس ہے، جو دائمی جنتیں ہیں، جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے، یہ (جزائ) اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا رہا۔ (البینہ : ٨-٥)
اخلاص کی اہمیت
البینہ : ٥ میں فرمایا : اور ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اخلاص کے ساتھ اطاعت کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں، ملت حنیفہ پر قائم رہتے ہوئے اور نماز قائم کریں اور زکواۃ ادا کریں اور یہی دین مستقیم ہے۔
یعنی ان کفار کو تورات اور انجیل میں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کو واحد مانیں اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، جیسا کہ ان آیات میں فرمایا ہے :
(الذاریات : ٥٦) اور میں نے جن اور انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔
للہ الذین الخالص (الزمر : ٣) اللہ ہی کے لئے دین خالص ہے۔
(الزمر : ١١) آپ کہیے کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلصا کے ساتھ اطاعت کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کروں۔
” حنفاء “ کا معنی
اس آیت میں ” حنفائ “ فرمایا ہے ” حنفائ “ کا معنی ہے : مائل ہوتے ہوئے، یعنی تمام ادیان اور مذاہب سے انحراف کرتے ہوئے دین اسلام کی طرف مائل ہوتے ہوئے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر سعید بن جبیر نے کہا : حنیف کا معنی ہے جو شخص ختنہ کرے اور حج کرے، اہل لغت نے کہا : جو شخص اسلام کی طرف مئال ہ۔
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے ” حنفائ “ کی تفسیر میں کہا : مجاہد نے کہا : ” حنفائ “ کا معنی ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی اتباع کرتے ہوئے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
(النحل : ١٢٣) پھر ہم نے آپ کی طرف یہ وحی کی کہ آپ ابراہیم حنیف کی ملت کی پیروی کریں، اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔
گویا اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ تم لوگوں کے مزاج میں تقلید کرنے کا عنصر ہے، سو اگر تم نے تقلید کرنی ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کرو، جن کے متعلق تمام اہل مذاہب کا اجماع ہے کہ وہ ان کے اصحاب نیک اور پاکیزہ تھے، قرآن مجید میں ہے :
(الممتحنہ : ٤) تمہارے لئے ابراہیم اور ان کے اصحاب میں بہترین نمونہ تھا۔
سو اگر تمہیں کسی کی پیروی کرنے کا شوق ہے تو حضرت ابراہیم کی پیروی کرو، جنہوں نے تمام بتوں سے بیزاری کا اظہار کیا ہے، بتوں سے بیزاری کی پاداش میں انہیں آگ میں ڈالا گیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوئے اور جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی یہ تسبیح سنی ” سبوح قدوس “ تو وہ ان کو بہت اچھی لگی اور اس کو دوبارہ سننے کے لئے انہوں نے اپنا تمام مال اللہ کی اہ میں دے دیا، خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی رضا میں اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنے مال کو خرچ کردیا، سو تم اگر عبادت کرنا چاہتے ہو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح عبادت کرو، اور اگر تم پوری طرح حضرت ابراہیم کی پیروی نہیں کرسکتے تو ان کے فرزند حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی پیروی کرو، جنہوں نے کم سنی میں اللہ کی رضا اور اپنے والد کے حکم کی اطاعت میں سرتسلیم خم کردیا اور اپنی گردن چھری کے نیچے رکھ دی اور تم اس مرد کامل کی اتباع بھی نہ کرسکو تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ کی اتباع کرو، انہوں نے کس طرح اپنے غم اور غصہ کے گھونٹ پئے، اپنے بچہ کی ولادت کی مشقت اور تکلیف برداشت کی، پھر جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ ان کو مکہ کی بےآب وگیاہ زمین میں اکیلا چھوڑ کر جانے لگے اور اشارہ سے بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسا کر رہے ہیں تو وہ اس پر رضائی ہوگئیں اور اس مصیبت پر صبر کرلیا، غرض حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے فرزند حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ حضرت باجر سب کے سب تسلیم و رضا کے پیکر تھے اور ان سب کی زندگیوں میں ہمارے عمل کے لئے بہترین نمونہ ہے۔
اخلاص اور عبادت کا معنی
اس آیت میں ” مخلصین “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” اخلاص “ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ انسان جو نیک کام کرے، اس کا باعث اس فعل کی نیکی ہو اور جو فرض یا واجب ادا کرے، اس کا باعث اس فعل کی فرضیت یا وجوب ہو، وہ محض اپنے رب کی رضا کے لئے اس فعل کو کرے، نہ وہ فعل کسی کو دکھانا مقصود ہو نہ کسی کو سنانا مقصود ہو، اصل مقصود بالذات اللہ عزو جل کی رضا ہو، جنت کا حصول بھی بالتبع مطلوب ہو اور دو زخ سے نجات بھی بالتبع مطلوب ہو۔ تو رات میں لکھا ہوا ہے، جس فعل سے میری رضا کا ارادہ کیا گیا وہ فعل کم بھی ہو تو اللہ کے نزدیک بہت ہے اور جس فعل سے میری رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا وہ فعل اگر بہت بھی ہو تو میرے نزدیک کم ہے۔
اگر کوئی شخص اپنے والد کی خوشی کے لئے کوئی عبادت کرے یا اپنی اولاد کی خوشی کے لئے کوئی عبادت کرے تو اس میں اخلاص نہیں ہے، اس طرح اگر اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے کوئی عبادت کرے تو اس میں اخلاص کہاں سے ہوگا۔
بعض مفسرین نے ” مخلصین “ کی تفسیر میں کہا : وہ عبدات کا اقرار کرتے ہوئے نیک کام کریں اور بعض مفسرین نے کہا وہ اپنے دلوں سے بادت میں اللہ کی رضا کا ارادہ کریں، زجاج نے کہا : وہ صرف اللہ وحدہ، کی عبادت کریں، کسی اور کو اس میں شریک نہ کریں اور اس پر قرآن مجید کی یہ آیت دلیل ہے :
(التوبہ : ٢١) اور ان کو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں۔
عبادت کا معنی تذلل ہے اور اصطلاح شروع میں اس کا معنی ہے : اللہ کے لئے انتہائی تعظیم اور اپنی انتہائی عاجزی اور تذلل سے کی ہوئی اطاعت، جس سے اللہ کے کسی حکم پر عمل ہو، بچہ کی نماز کو عبادت نہیں کہتے کیونکہ وہ اللہ کی عظمت کو نہیں جانتا، اس لئے اس کے فعل میں انتہائی تعظیم ہوگی، اسی طرح یہودی کی نماز بھی عیادت نہیں ہوگی کیونکہ اس میں انتہائی تعظیم تو ہے لیکن اس کی نماز اللہ کا حکم نہیں ہے، کیونکہ اسلام کے علاوہ باقی تمام شرائع منسوخ ہوچکی ہیں، اسی طرح جو لوگ جلدی جلدی نماز پڑھتے ہیں اور پوری طرح رکوع اور سجود نہیں کرتے، ان کی نماز بھی عبادت نہیں ہے کیونکہ ان کی نماز میں نہ انتہائی تعظیم ہے اور نہ اس طرح نماز پڑھنے کا حکم ہے۔
وضو میں نیت کی فرضیت کی دلیل اور اس کا جواب
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں :
اخلاص کا معنی ہے : نیت خلاصہ اور ہر عبادت میں نیت خلاصہ ضروری ہے یعنی وہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کی جائے اور چونکہ تمام لوگوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ عبادت کریں، اس لئے ہر عبادت میں نیت کرنا ضروری ہو، اس لئے امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ وضو کرنا بھی عبادت ہے، اس لئے وضو میں نیت کرنا فرض ہے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص ٢٤٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ عبادات میں نیت واجب ہے کیونکہ اخلاص قلب کا عمل ہے، اس سے صرف اللہ کی رضا کا ارادہ کیا جاتا ہے اور کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا جاتا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص ١٢٧ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)
علاہم ابوبکر احمد بن علی رازی حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں :
اس آیت میں عبادت میں الخصا کا حکم دیا گیا ہے، یعنی عبادت میں اللہ کے غیر کو شریک نہ کیا جائے کیونکہ اخلاص شر کی ضد ہے اور اس کا نیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے نہ نیت کے ہونے میں، اس لئے نیت کو واجب کرنے میں اخلاص سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ جو شخص ایمان لے آیا، اس نے اپنی عبادت میں اخلاص کرلیا اور شرک کی نفی کردی۔ (احکام القرآن ج ٣ ص ٤٧٤، سہیل اکیڈمی، لاہور)
علامہ عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں :
نیت طہارت کی شرائط میں سے ہے، بغیر نیت کے وضو صحیح ہے نہ تمیم اور غسل، امام مالک اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے، اور فقہاء احناف نے یہ کہا ہے کہ پانی سے طہارت کے حصول میں نیت شرط نہیں ہے، نیت صرف تیمیم میں شرط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(المائدہ : ٦) جب تم نماز میں قیام کا ارادہ کرو تو اپنے چہروں کو دھوئوں۔
اس آیت میں وضو کی شرائط کا ذکر کیا ہے اور نیت کا ذکر کیا، اگر نیت وضو کی شرط ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی ذکر فرماتا کیونکہ امر کا تقاضا یہ ہے کہ جس چیز کا امر کیا گیا ہے، اس پر عمل کرنے سے مامور بہ حاصل ہوجاتا ہے، لہٰذا چہرہ اور ہاتھوں اور پیروں کو دھونے اور سر کا مسح کرنے سے وضو حاصل ہوجاتا ہے، نیز یہ پانی سے طہارت کو حاصل کرنا ہے اور اس میں نیت کی ضرورت نہیں ہے، جس طرح نجاست کو پانی سے زائل کرنے کے لئے نیت کی ضرورت نہیں ہے، (علامہ ابن قدامہ حنبلی فرماتے ہیں) ہماری دلیل یہ ہے : حدیث میں ہے : اعمال کا مدار صرف نیت پر ہے۔ (صحیح البخاری : ١) لہٰذا بغیر نیت کے وضو صحیح نہیں ہوگا۔ (المعنی مع الشرح الکبیر ج ١ ص 119-120 ملحضاً ، دارالفکر، بیروت)
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ اعمال کی صحت کا مدار نیت پر ہے، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اعمال کی فضیلت کا مدار نیت پر ہے کیونکہ بہت سارے اعمال بغیر نیت کے بھی ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ہوتے ہیں، مثلاً کسی چیز کو خریدنا، بیچنا، واپس کرنا، کسی چیز کو کرائے پر دینا، کسی کو ملازم رکھنا، نکاح کرنا، طلاق دینا، منگنی کرنا، ایلاء کرنا، ظہار کرنا، بیوی بچوں کو خرچ دینا اور اس طرح کے بہت اعمال بغیر نیت کے بھی صحیح ہیں، لہٰذا وضو کرنا بھی بغیر نیت کے صحیح ہے، البتہ فضیلت اسی میں ہے کہ وضو کرنے سے پہلے اس میں طہارت کی نیت کی جائے۔
البینہ : ٥ کے لطائف اور نکات
اس آیت میں حسب ذیل لطائف اور نکات ہیں :
(١) اس آیت سے پہلی چار آیتوں میں کفر کو ترک کرنے اور عقائد صحیحہ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس آیت میں اخلاص ہے عبادت کرنے، نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم ہے، پھر اس مجمعہ کے متعلق فرمایا کہ یہی دین قیمہ ہے یعنی دین مستقیم ہے اور اس میں یہود اور نصاریٰ اور مرجند کا رو ہے، کیونکہ یہود اور نصاریٰ عمل تو بہت کرتے تھے لیکن اللہ عزوجل کی توحید اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت پر ان کا ایمان نہیں تھا اور مرجنہ کا عقائد صحیحہ پر ایمان تو تھا مگر وہ اعمال صالحہ کو ضروری نہیں مانتے تھے، پس ان میں سے کوئی بھی دین قیمہ اور دین مستقیم کا حامل نہیں ہے، دین قیمہ کے حامل صرف اہل سنت و جماعت ہیں۔
(٢) اس آیت میں مسلمانوں کی فرشتوں پر فضیلت ظاہر کی گئی ہے کیونکہ فرشتے تسبیحات پڑھتے ہیں، رکوع اور سجود کرتے ہیں لیکن وہ محنت اور مشقت سے مال کما کر اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور مسلمان نماز پڑھتے ہیں یہ صوف فرشتوں میں بھی ہے اور مسلمان زکوۃ بھی ادا کرتے ہیں اور یہ وصف فرشتوں میں نہیں ہے، اس لئے فرشتوں سے آخرت میں کہا جائے گا کہ تم مسلمانوں کی عظمتوں کو سلام کرو کیونکہ انہوں نے محنت اور مشقت سے مال کما کر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر صبر کیا اور انہوں نے روزے رکھے اور بھوک اور پیاس کو برداشت کر کے صبر کیا، قرآن مجید میں ہے :
(الرعد : ٢٤-٢٣) اور فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے داخل ہوں گے۔ اور کہیں گے : تم پر سلام ہو کیونکہ تم نے صبر کیا۔
(٣) نفس کا مل تب ہوتا ہے، جب اس کو علم بھی ہو اور قدرت بھی، اگر اس کو علم ہو اور قدرت نہ ہو تو وہ اپاہج کی طرح عاجز اور ناقص ہے، اگر اس کو قدرت اور علم نہ ہو تو وہ مجنون کی طرح ناقص ہے اور نماز دین کے لئے علم کے منزلہ میں ہیں اور زکوۃ دین کے لئے قدرت کے مرتبہ میں، پس جس طرح نفس علم اور قدرت سے کامل ہوتا ہے، اسی طرح دین نماز اور زکوۃ سے کامل ہوتا ہے اور یہی دین قیمہ ہے۔
(٤) پہلے ” مخلصین “ فرمایا، اس میں دین کے عقائد کی طرف اشارہ ہے، پھر نماز اور زکوۃ کا فرمایا اور ان عبادات کی مشقت سے مسلمان علم اور عمل کے لحاظ سے کامل ہوگئے اور وہ دین قیمہ کے حامل ہوگئے۔
(٥) اس آیت میں عقائد اور اعمال کا ذکر ہے اور ایمان کامل تصدیق اور اعمال صالحہ کا مجموعہ ہے، سو اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 98 البينة آیت نمبر 5