أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنَةُ ۞

ترجمہ:

اہل کتاب میں اسی وقت تفرقہ ہوا جب ان کے پاس واضح دلیل آچکی تھی

البینہ : ٤ میں فرمایا : اہل کتاب میں اسی وقت تفرقہ ہوا، جب ان کے پاس واضح دلیل آچکی تھی۔ اس آیت کے دو محمل ہیں :

(١) بعض اہل کتاب نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں اس وقت اختلاف کیا، جب ان کے نزدیک دلیل سے آپ کی نبوت ثابت ہوگئی، حالانکہ اس سے پہلے وہ اس پر متفق تھے کہ آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہے اور ان کے وسیلہ سے اپنے دشمنوں کے خلاف فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے، ان کا خیال تھا کہ وہ بنی بنو اسرائیل سے مبعوث ہوں گے، لیکن جب وہ بنی بنو اسماعیل سے مبعوثہوئیت و ضد، عناد اور تعصب کی وجہ سے انہوں نے آپ کی نبوت کا انکار کردیا۔

(٢) جس چیز میں انہوں نے اختلاف کیا، وہ یہ ہے کہ ہر شخص کی خلقت میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ربوبیت کی نشانیاں ہیں، اگر وہ ان نشانیوں میں غور و فکر کرتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے، اس جگہ ” البینۃ “ سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں یا قرآن مجید یا انسان کی نفس خلقت ہے۔ (تاویلات اہل السنتہ ج ٥ ص 499-500 مئوسستہ الرسالتہ ناشرون ١٤٢٥ ھ)

البینہ : ١ اور البینہ : ٤ میں تعاضر کے امام رازی کی طرف سے جوابات

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ نے ان آیات کی تقریر اس طرح کی ہے :

البینہ : ١ کا خلاصہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے، وہ اپنے کفر کو اس وقت تک چھوڑنے والے نہیں ہیں جب تک کہ ان کے پاس حجت واضحہ نہ آجائے اور حجت واضح سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، یعنی جب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوجائیں گے تو وہ اپنے کفر کو چھوڑ دیں گے۔

البینہ : ٤ کا خلاصہ یہ ہے کہ جب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہو گئیت و ان کا کفر زیادہ ہوگیا اور ان دونوں آیتوں میں تعارض ہے اور یہ ان آیتوں پر قوی اشکال ہے، اس اشکال کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) صاحب کشاف نے اس اشکال کا یہ جواب دیا ہے کہ کفار کے دو فریق تھے، اہل کتاب اور بت پرست، سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبعوث ہونے سے پہلے اہل کتاب یہ کہتے تھے کہ ہم اپنے دین کو ترک نہیں کریں گے حتیٰ کہ وہ نبی مبعوث ہوجائیں، جن کا ہم سے وعدہ کیا گیا ہے اور یہ وعدہ تو رات اور انجیل میں لکھا ہوا ہے اور جو نبی مبعوث ہونے والے تھے وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ حکایت کی کہ جب وہ رسول آگئے تو انہوں نے حق کو قبول نہیں کیا اور وہ اپنے کفر پر برقرار رہے، اس کی نظیر یہ ہے کہ ایک تنگ دست شخص بدکار ہو، اس سے کوئی دوسرا شخص کہے : تم بدکاری چھوڑدو، تو وہ کہے : اگر مجھے اللہ تعالیٰ نے مال دیا تو میں بدکاری چھوڑ دوں گا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اسے مال دے دیا تو اس نے پھر بھی بدکاری نہیں چھوڑی، خلاصہ یہ ہے کہ البینہ ١ میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اہل کتاب اپنے کفر کو اس وقت تک چھوڑنے والے نہیں ہیں جب تک کہ وہ آخری نبی مبعوث نہ ہوجائیں، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے قول کی حکایت کی ہے اور البینہ : ٤ کا خلاصہ یہ ہے کہ واقع میں اہل کتاب نے اس رسول کے آنے کے بعد بھی اپنے کفر کو نہیں چھوڑا، سو البینہ : ١ میں اہل کتاب کے قول کی حکایت ہے اور البینہ : ٤ میں واقع کی حکایت ہے، سو ان دونوں آیتوں میں کوئی تعاضر نہیں ہے۔

امام رازی کے جوابات پر مصنف کاتبصرہ اور تجزیہ

میں کہتا ہوں کہ امام رازی نے اس جواب کو سب سے عمدہ جواب قرار قرار دیا ہے، لیکن میرے نزدیک یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ البینہ : ١ میں مشرکین کا بھی ذکر ہے اور مشرکین سے اس نبی کی بعثت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور نہ وہ یہ کہتے تھے کہ جب وہ نبی آجائیں گے تو اپنے کفر کو ترک کردیں گے، سو امام رازی کے اس جواب پر یہ اشکال ہے کہ البینہ : ١ میں مشرکین کے ذکر کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس امام ماتریدی نے ان آیتوں میں یہ فرق نہیں کیا کہ البینہ : ١ میں ان کے قول کی حکایت ہے اور البینہ : ٤ میں واقع کی حکایت ہے، بلکہ دونوں میں واضع کا ذکر ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین دونوں اپنے کفر کو اس وقت تک چھوڑنے والے نہ تھے، جب تک کہ حجت واضحہ نہ آجائے، لہٰذا البینہ : ٤ میں فرمایا کہ جب وہ حجت واضحہ آگئی یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوگئے تو اہل کتاب میں تفرقہ ہوگیا کیونکہ بعض اہل کتاب آپ پر ایمان لے آئے تھے اور بعض آپ پر ایمان نہیں لائے تھے۔

(٢) امام رازی نے دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ البینہ : ١ کا معنی یہ ہے کہ یہ کفار اپنے کفر کو ترک نہیں کریں گے خواہ ان کے پاس حجت واضح آجائے، لیکن امام رازی نے اس جواب کو خود یہ کہہ کر رد کردیا ہے کہ اس آیت میں لفظ ” حتیٰ “ ہے اور لفظ ” حتیٰ “ سے یہ معنی نہیں بنتا۔

(٣) امام رازی نے تیسرا جواب یہ دیا ہے کہ ” منفکین “ کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ اپنے دین اور اپنے کفر کو ترک کردیں گے بلکہ اس سے مراد ہے : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل اور مناقب کو ترک کرنا، اور البینہ : ١ کا معنی یہ ہے کہ یہ کفار سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فاضل اور مناقب کے ساتھ ذکر اس وقت تک ترک نہیں کریں گے، جب تک حجت واضحہ نہ آجائے یعنی پہلے اہل کتاب اور مشرکین آپ کا ذکر فضائل اور مناقب کے ساتھ کرتے تھے، لیکن جب آپ مبعوث ہوگئے تو انہوں نے عناد کی وجہ سے آپ کے فضائل کا ذکر کرنا ترک کردیا۔ میرے نزدیک امام رازی کا یہ جواب درست ہے۔

(٤) امام رازی کا چوتھا جواب یہ ہے کہ البینہ : ١ میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین کا مجموعہ اپنے کفر کو ترک نہیں کرے گا، حتیٰ کہ حجت واضح آجائے یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوجائیں اور البینہ : ٤ میں یہ بتایا ہے کہ آپ کے مبعوث ہونے کے بعد یہ مجموعہ اپنے کفر پر قائم نہیں رہا بلکہ ان میں سے بعض ایمانلے آئے اور بعض اپنے کفر پر قائم رہے اور ان کا تفرقہ ظاہر ہوگیا۔ امام رازی کا یہ جواب بھی درست ہے۔

(٥) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے ان کفار کو اپنے کفر میں تردد نہیں تھا بلکہ اپنے کفر پر جزم اور یقین تھا اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوگئے تو ان کا کفر پر جزم اور یقین زائل ہوگیا اور وہ اپنے کفر میں متردد اور حیران رہ گئے۔ امام رازی کا یہ جواب بھی صحیح ہے۔

البینہ : ١ میں ” من “ تبعیضیہ پر ایک اشکال کا جواب

امام رازی فرماتے ہیں : کفار کی دو قسمیں ہے : ایک اہل کتاب ہیں جیسے یہود اور نصاریٰ یہ کافر ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دین میں کفر کو اختیار کرلیا، یہود نے کہا :” عزیز ابن اللہ “ (التوبہ : ٣٠) اور عیسائیوں نے کہا :” المسیح ابن اللہ “ (التوبہ : ٣٠) طرف منسوب نہیں کرتے تھے، وہ بت پرستی کرنے کی وجہ سے کافر تھے، اس طرح یہ کافروں کی دو جنسیں ہیں، اب البینہ : ١ پر یہ سے تو بعض کافر تھے اور بعض کافر نہیں تھے، اس لئے اہل کتاب پر تو ” من “ تبعیضیہ کا داخل ہونا صحیح ہے اور مشرکین تو تمام کافر ہیں، اسلئے مشرکین پر ” من “ تبعیضیہ کا داخل ہونا صحیح نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ” من “ تبعیضیہ اہل کتاب اور مشرکین کے مجموعہ پر داخل ہے اور اس مجموعہ کا بعض کافر ہے نہ کہ کل۔

مجوس اہل کتاب میں داخل ہیں یا نہیں

اس میں اختلاف ہے کہ مجوس اہل کتاب میں داخل ہیں یا نہیں، بعض علماء نے کہا کہ مجوس اہل کتاب میں داخل ہیں کیونکہ حدیث میں ہے : جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک مجلس میں کہا : مجھے نہیں معلوم کہ میں مجوس کے ساتھ کیا معاملہ کروں، وہ اہل کتاب نہیں ہیں تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان کے ساتھ اہل کتاب کا معاملہ معاملہ کرو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٢٢٤ طبع کراچی، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٠٠٢٥ السنن الکبری للبیہقی ج ٩ ص ١٨٩ کنز العمال رقم الحدیث : ١١٤٩٠) اور بعضعلماء نے کہا کہ مجوس اہل کتاب میں داخل نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کفار کا ذکر فرمایا ہے، جو بلاد عرب میں تھے اور وہ یہود اور نصاریٰ ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(الانعام : ١٥٦) کہیں تم لوگ یہ (نہ) کہو کہ کتاب تو صرف ہم سے پہلے فرقوں پر نازل ہوئی تھی۔

ان دو فرقوں سے مراد یہود اور نصاریٰ ہیں (تفسیر کبیرج ١١ ص 237-239 ملحضاً (دار احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 98 البينة آیت نمبر 4