١٥ – بَابُ تَخْلِيلِ الشَّعَرِ، حَتَّى إِذَا ظَنَّ إِنَّهُ قَدْ أَرْوى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ

بالوں میں خلال کرنا اور جب یہ یقین ہوگیا کہ کھال تک پانی پہنچ گیا تو اس پر پانی بہادینا

اس باب میں بالوں میں خلال کرنے کا حکم بیان کیا گیا ہے اور باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں بالوں میں خوشبودار تیل لگانے کا بیان تھا اور اس باب میں بالوں تک پانی پہنچانے کا بیان ہے۔

-۲۷۲- حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ للَّهِ قَالَ  أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، غَسَلَ يَدَيْهِ ، وَتَوَضَّاَ وُضُوءَهُ لِلصَّلوة ثُمَّ اغْتَسَلَ ، ثُمَّ يُخَلِلُ بِيَدِهِ شَعَرَهُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوى بَشَرَتَهُ ، أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے خبر دی از والد خود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے اور نماز کا وضوء کرتے پھر غسل (شروع) کرتے، پھر اپنے ہاتھ سے اپنے بالوں میں خلال کرتے اور جب یقین ہوجاتا کہ کھال تک پانی پہنچ گیا ہے تو پھر اپنے اوپر تین مرتبہ پانی ڈالتے، پھر تمام جسم کو دھوتے ۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۲۴۸ میں گزر چکی ہے وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: غسل سے پہلے وضوء کرنا اور یہاں اس کا عنوان ہے: بالوں میں خلال کرنا اور یہ دونوں مسئلے اس حدیث سے ثابت ہیں