۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کون ہے؟ ایک خوبصورت مکالمہ

محمد شاہد برکاتی میرٹھی
خطیب وامام مدینہ جامع مسجد، ممبئی

بچہ: بابا! اللہ کون ہے؟ میرا مطلب، وہ کہاں سے وجود میں آیا؟
والد: پہلے میرے سوال کا جواب دو! سورج کہاں سے وجود میں آیا؟
بچہ: خلاء (اسپیس) سے، کائنات (یونیوَرس) سے، میرا خیال ہے۔
والد: اور یہ خلاء (اسپیس) یا کائنات (یونیوَرس) کہاں سے آئے؟
بچہ: بِگ بینگ سے۔
والد: بِگ بینگ کا سبب کیا تھا؟
بچہ: اوہ، یہ مجھے نہیں معلوم، شاید، کچھ نہیں/عدم/لاشیئ۔
والد: کیا کچھ نہیں/عدم/لاشیئ پھٹ سکتا/دھماکہ کر سکتا ہے؟
بچہ: (ہنستے ہوئے) نہیں، یہ تو عجیب بات ہو جائیگی۔
والد: بالکل، لہٰذا، جو سب کچھ کی شروعات کا سبب بنے وہ ’کچھ نہیں/عدم/لاشیئ‘ تو نہیں ہو سکتا، وہ تو ہر شیئ سے بالاتر ہونا چاہیے۔ کوئی ایسا جو کسی آغاز کا محتاج نہ ہو۔
بچہ: لیکن ہر چیز کا آغاز ہوتا ہے، یہانتک کہ میرے گیم (کھیل) کو کھیلنے سے پہلے لوڈ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
والد: ہاں، مگر یہ گیم (کھیل) کے اندر کی بات ہے، جس نے گیم بنایا وہ گیم کا حصہ نہیں کہ لوڈ ہونے کے انتظار میں ہو، صحیح ہے ناں؟
بچہ: اوہ! تو اللہ کی مثال ایسی ہے کہ کوئی گیم سے باہر ہے، گیم کا حصہ نہیں۔
والد: صحیح کہا، اللہ نے زمان ومکان (وقت اور خلاء) اور ہر اس قانون کو وجود بخشا جو تمہارے گیم اور اس کائنات کو چلاتا ہے۔ وہ وقت کے اندر کسی انتظار میں نہیں، وہ خود وقت کے وجود کا سبب ہے۔
بچہ: یعنی اس کا کوئی آغاز وانجام/ابتداء وانتہاء نہیں؟
والد:  صحیح! آغاز وانجام، ابتداء وانتہاء، قبل وبعد، شروع اور ختم، یہ سب الفاظ وقت کے اندر کی چیزوں کیلئے ہیں، اللہ کہانی کا حصہ نہیں، کہانی کا مصنف وموجد ہے۔
بچہ: پھر، اگر اس نے سب کچھ بنایا ہے تو کیا اس نے ’کچھ نہیں/عدم/لاشیئ‘ کو بھی بنایا ہے؟
والد: (ہنستے ہوئے) ہاں، یہانتک کہ خالی پن بھی اس کا ڈیزائن/اس کی کاریگری ہے، آواز سے پہلے کی جو خاموشی ہوتی ہے وہ وقفہ بھی اسی نے بنایا ہے۔
بچہ: یہ بڑی بات ہے! لیکن اگر میں اس کو دیکھ نہیں سکتا تو کیسے معلوم ہو کہ وہ حقیقت میں ہے؟
والد: کیا تم اپنے خیالات، مقناطیس (چمبک) کی کشش اور محبت کے جذبات کو دیکھ سکتے ہو؟
بچہ: نہیں، مگر میں ان چیزوں کو محسوس کر سکتا ہوں۔
والد: ایکدم صحیح! تم ان چیزوں کے اثرات اور نتائج کو دیکھتے ہو، کائنات کی ترتیب وتنظیم، بنانے میں حکمت ودانائی، کاریگری اور فنکاری، جس طریقے سے تمہارا دل صحیح اور غلط کے فرق کو سمجھتا ہے، یہ سب علامتیں اور نشانیاں ہیں۔ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے لیکن ہماری آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں وہ سب کچھ اسی کے نام کی سرگوشی کرتا ہے۔
بچہ: یعنی، اللہ بس ہے۔
والد: ہاں! اور اسی لئے وہ اللہ ہے، جو کبھی کسی کا بنایا ہوا نہیں، جس نے باقی سب کچھ کو ممکن بنایا۔
بچہ: اگر اس نے وقت کو تحریر کیا ہے تو اسے میری پوری کہانی پہلے سے معلوم ہونی چاہیے۔
والد: وہ جانتا ہے، اور وہ پھر بھی تمہیں اپنی لائنیں چننے کا اختیار دیتا ہے، یہی تو خوبصورتی ہے کہ مصنف نے آپ کو بھی قلم دیا ہے۔
بچہ: شاید مجھے میرے پہلے بڑے سوال کا جواب تو مل گیا ہے مگر ابھی مجھے لگتا ہے کہ ایک سوال اور آ رہا ہے۔
والد: اچھی بات ہے، آنے دو، سوالات دروازے ہیں، اور اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو دستک دیتے رہتے ہیں۔

8 رجب المرجب، 1447 ھ
29 دسمبر، 2025 ء دوشنبہ (پیر)