اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَـكَنُوۡدٌ سورۃ نمبر 100 العاديات آیت نمبر 6
sulemansubhani نے Monday، 29 December 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَـكَنُوۡدٌ ۞
ترجمہ:
بیشک انسان اپنے رب کا ضرور ناشکرا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کا ارشاد ہے : بیشک انسان اپنے رب کا ضرور ناشکرا ہے۔ اور بیشک وہ اس پر ضرور گواہ ہے۔ اور بیشک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ جو قربوں میں ہیں وہ اٹھا لئے جائیں گے۔ اور سینوں کی باتوں کو ظاہر کردیا جائے گا۔ بیشک ان کا رب اس دن ان کی ضرور خبر رکھنے والا ہے۔
” الکنود “ کا معنی اور انسان کا اپنے ” الکنود “ ہونے پر گواہ ہونا
سابقہ پانچ آیتوں میں جو قسم کھائی تھی، العادیات : ٦ میں اس کا جواب ہے، اس آیت میں ” لکنود “ کا لفظ ہے، اس آیت کا معنی ہے : بیشک انسان اپنے رب کا ضرور ناشکرا ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : انسان طبعی طور پر ناشکرا ہے اور ” لکنود “ کا معنی ہے :” لکفور “ یعنی وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا، حسن بصری نے کہا : انسان مصائب کا ذکر کرتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔
حکیم ترمذی نے حضرت ابوامامہ باہلی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” الکنود “ وہ شخص ہے جو خود کھاتا ہے اور اپنے رفقاء کو نہیں کھلاتا۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :7778)
حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! کیا میں تم میں سب سے برے شخص کے بارے میں نہ بتائوں، صحابہ نے کہا : کیوں نہیں، یا رسول اللہ ! فرمایا : جو عطیہ کو صرف اپنے پاس رکھے اور اپنے خادم کو مارے۔ (نوادر الاصول ص 267)
نیز حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : کندہ اور حضرموت کی لغت میں ’ دالکنود “ کا معنی ہے : نافرمان اور ربیعہ اور مضر کی لغت میں اس کا منی ہے :” الکفور “ یعنی بہت ناشکرا اور کنانہ کی لغت میں اس کا معنی ہے، بہت بخیل، نیز حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس آیت میں اس سے مراد کافر ہے۔
ابوبکر الواسطی نے کہا :” الکنود “ وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں خرچ کرے اور ابوبکر الوراق نے کہا :” الکنود “ وہ شخص ہے جو سمجھتا ہے کہ اس کو نعمت اس کی اور اس کے دوستوں کی وجہ سے ملی ہے، امام ترمذی نے کہا :” کنود “ وہ شخص ہے جو نعمت کو دیکھے اور نعمت دینے والے کو نہ دیکھے “ ھلوع “ اور ” کنود “ وہ شخص ہے جس پر مصیبت آئے تو گھبرا جائے اور راحت آئے تو ناشکری کرے، ایک قول یہ ہے کہ وہ کینہ رکھنے والا اور حسد کرنے والا ہے، ایک قول ہے کہ وہ تقدیر سے جاہل ہے اور حکمت میں ہے : جو تقدیر سے جاہل ہے، اس نے اپنی عزت کا پردہ چاک کردیا۔
علامہ قرطبی فرماتے ہیں : ان تمام اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ ” الکنود “ ناشکرا اور منکر ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تفسیر صفات مذمومہ غیر محمودہ کے ساتھ کی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص 142-143 دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 100 العاديات آیت نمبر 6