أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَئِذٍ لَّخَبِيۡرٌ  ۞

ترجمہ:

بیشک ان کا رب اس دن ان کی ضرور خبر رکھنے والا ہے  ؏

العادیات : ١١ میں فرمایا : بیشک ان کا رب اس دن ان کی ضرور خبر رکھنے الا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے علم پر ایک اشکال کا جواب

اس آیت پر یہ سوال ہوتا ہے کہ اس آیت سے یہ وہم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی خبریں دی جائیں گی تو اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی خبر ہوگی اور اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کو علم نہیں ہوگا، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی خبر رکھنے والا ہے، اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس کو از خود خبر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا علم تو ازلی اور ابدی ہے اور انسان کے صحائف اعمال میں جو کچھ فرشتے لکھتے ہیں، وہ انسان پر حجت قائم کرنے کے لئے ہے۔

اس آیت پر دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ کو خبر ہوگی حالانکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اس کو ہر وقت ہر چیز کا علم ہوتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس دن کی تخصیص اس لئے ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا حکم جاری نہیں ہوگا اور اس دن کسی کے علم کا اظہار نہیں ہوگا، گویا اس دن وہی عالم ہوگا اور اس کے سوا اور کوئی عالم نہیں ہوگا۔

القرآن – سورۃ نمبر 100 العاديات آیت نمبر 11