أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَالۡمُغِيۡرٰتِ صُبۡحًا ۞

ترجمہ:

پھر صحب کے وقت دشمن پر حملہ کرتے ہیں

” المعغیرات صبحاً “ کا معنی

” المغیرات “ جمع مئونث اسم فاعل ہے، اس کا مصدر ” اغار ١“ ہے، اس کا معنی ہے : مال غنیمت لوٹنے والے، چھاپہم ارنے والے، اکثر مفسرین نے کہا، اس سے مراد ہے : گھوڑوں پر سواروں کے دستے جو صبح کے وقت دشمنوں پر حملہ کرتے ہیں۔

اور علامہ القرظی نے کہا : اس سے مراد اونٹوں کی وہ جماعتیں ہیں جو اپنے سواروں کو لے کر قربانی کے دن صبح کے وقت منیٰ کی طرف تیز تیز جاتی ہیں اور سنت یہی ہے کہ صبح سے پہلے روانہ نہ ہوا جائے، اور ” اغارۃ “ کا معنی ہے، بہت تیزی سے روانہ ہونا۔ (معالم التنزیل ج ٥ ص 296، داراحیاء التراث العربی، بیروت 1420 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 100 العاديات آیت نمبر 3