أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡعٰدِيٰتِ ضَبۡحًا ۞

ترجمہ:

ان گھوڑوں کی قسم جو بہت تیز دوڑتے ہیں ہانپتے ہوئے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان گھوڑوں کی قسم جو بہت تیز دوڑتے ہیں ہانپتے ہوئے۔ پتھر پر سم مار کر چنگاریاں اڑاتے ہیں۔ پھر صبح کے وقت دشمن پر حملہ کرتے ہیں۔ پھر اس وقت وہ گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ پھر دشمن کی فوج میں گھس جاتے ہیں اللہ تعالیٰ (العدیت : ٥-١)

” العادیات ضبحا “ کا معنی

” عادیات “ کا لفظی معنی ہے : دوڑنے والایں، اس سے مراد تیز رفتار گھوڑے یا اونٹنیاں ہیں ” عادیات “ ” عادیۃ “ کی جمع ہے اور ” عدو “ سے مشتق ہے، جس کا معنی دوڑنا ہے، یہ اصل میں ” عادوات “ تھا وائو کو ماقبل مکسور ہونے کی وجہ سے یا سے بدل دیا تو ” عادیات “ ہوگیا، جیسے ” غزو “ سے ” غازیات “ ہوگیا۔

حضرت ابن عباس (رض) عطاء مجاہد، عکرمہ، حسن بصری، قتادہ اور مقاتل وغیرہم کا قول ہے کہ یہ مجاہدین کے گھوڑوں کی صفت ہے اور حضرت علی اور حضرت ابن مسعود (رض) کا قول ہے کہ اس سے مراد اونٹ ہیں، محمد بن کعب اور سدی کا بھی یہی قول ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں حجر اسود کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے ” العدیت ضبحا “ کے متعلق سوال کیا، میں نے کہا، اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں بہت تیز دوڑتے ہیں اور سرشام اس وقت واپس آتے ہیں جب لوگ کھانے کے لئے آگ جلاتے ہیں، وہ شخص میرے پاس سے ہو کر حضرت علی (رض) کے پاس گیا، اس نے حضرت علی سے بھی یہی سوال کیا اور آپ کو حضرت ابن عباس کا جواب بھی بتایا، آپ نے بتا ای : جائو حضرت ابن عباس کو میرے پاس لے آئو، پھر حضرت علی نے حضرت ابن عباس سے فرمایا : تم لوگوں کو ایسی بات کیوں بتاتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ہے اللہ کی قسم ! اسلام کا سب سے پہلا غزوہ، غزوہ بدر تھا، اس وقت ہمارے پاس صرف دو گھوڑے تھے، ایک حضرت زبیر بن العوام (رض) کے پاس تھا اور دوسرا حضرت مقدار بن الاسود کے پاس تھا، اس صورت میں ” العدیت ضبحا “ کو گھوڑوں پر محمول کرنا کس طرح صحیح ہوگا، لہذٰا اس سے مراد وہ اونٹنیاں ہیں جو عرفات سے مزدلفہ تک دوڑتی ہیں، پھر جب لوگ مزدلفہ میں ٹھہرتے ہیں تو وہ آگ جلاتے ہیں اور ” فالمغیرت صبحاً ۔ “ (العدیت : و) سے مراد وہ اونٹنیاں ہیں جو صبح کو مزدلفہ سے منی کی طرف دوڑتی ہیں اور فاثرن بہ نقعاً ۔ “ (العدیث : ٤) سے مراد وہ غبار ہے جو ان اونٹینوں کے قدموں تلے روند نے سے اٹھتا ہے۔

امام ابن جریر نے کہا، پھر حضرت ابن عباس نے اپنے قول سے رجوع کر کے حضرت علی کے قول کی طرف رجوع کرلیا، اور امام ابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت علی نے یہ فرمایا کہ غزوہ بدر میں دو سے زیادہ گھوڑے نہ تھے تو حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد گھوڑوں پر سواروں کا ایک خاص دستہ ہے، جو کسی جنگی مہم پر روانہ کیا گیا تھا، شعبی نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس میں غبار اڑنے کا ذکر ہے اور غبار گھوڑوں کے دوڑنے سے ہی اڑتا ہے، نیز امام عبدالرزاق نے کہا ہے کہ اس میں ان کے ہانپنے کا ذکر ہے اور چوپایوں میں سے سوائے کتے اور گھوڑے کے اور کوئی جانور نہیں ہانپتا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس کے قول کو راجح قرار دیا ہے کیونکہ ’ دضبحا “ کا معنی ہے : ہانپنا اور چوپایوں میں سے کتوں اور گھوڑوں کے سوا اور کوئی جانور نہیں ہانپتا۔ (جامع البیان جز 30 ص 345-348 ملحضات تفسیر امام ابن ابی حاتم ج 10 ص 3457 ملحضاً تفسیر امام عبدالرزاق ج ٢ ص 317-318 ملحضاً فتح الباری ج ٩ ص 750-751)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 100 العاديات آیت نمبر 1