أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَحُصِّلَ مَا فِى الصُّدُوۡرِۙ ۞

ترجمہ:

اور سینوں کی باتوں کو ظاہر کردیا جائے گا

العدیث : ١٠ میں فرمایا : اور سینوں کی باتوں کو ظاہر کردیا جائے گا۔

صحیفوں کے مندرجات کو ظاہر کرنے کے محامل

اس آیت کی حسب ذیل تفسیریں ہیں :

(١) ان کے صحیفوں میں جو کچھ لکھا ہوا ہے، اس کو ظاہر کردیا جائے گا۔

(٢) جن احکام پر انہوں نے عمل کیا اور جن احکام پر انہوں نے عمل نہیں کیا، ان سب کو بتادیا جائے گا کہ انہوں نے کتنے فرائض اور واجبات پر عمل کیا اور کتنے فرئاض اور واجبات کو ترک کیا۔ اسی طرح کتنے حرام اور مکروہ تحریمی کاموں کو کیا اور کتنوں کو ترک کیا۔

(٣) دنیا میں اکثر اوقات انسان کا ظاہر اس کے باطن کے خلاف ہوتا ہے، لیکن قیامت کے دن اس کے سینے کی تمام چھپی ہوئی باتیں اور اس کے پردے چاک کردیئے جائیں گے۔

اے رب کریم ! قیامت کے دن ہم مسلمانوں کو رسوا نہ کرنا اور جس طرح دنیا میں ہماری برائیوں کو چھپا کر ہماری عزت اور آبرو کو قائم رکھا ہے، اسی طرح قیامت میں بھی ہماری عزت اور آبرو کو قائم رکھنا۔ (آمین)

ظاہری اعضاء کے مقابلہ میں دل کے افعال کا معیار ہونا

العدیث : ١٠ پر یہ سوال ہوتا ہے کہ اس میں فرمایا ہے : اور سینوں کی باتوں کو ظاہر کردیا جائے گا، اس میں دل کے افعال کا ذکر کیا گیا ہے اور ظاہری اعضاء کے افعال کا ذکر نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ظاہری اعضاء دل کے افعال کے تابع ہیں کیونکہ اس کے دل میں پہلے کسی کام کا شوق ہوتا ہے، پھر اس کام کی تحریک پیدا ہوتی ہے، پھر وہ اس کا ارادہ کرتا ہے، پھر اس کے بعد ظاہری اعضاء حرکت میں آتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے مذمت اور مدح میں دل کے اعفال کو اصل قرار دیا ہے۔ مذمت کے اعتبار سے یہ آیت ہے :

اثم قلبہ (البقرہ : ٢٨٣) اس کا گناہ گار ہے۔

اور مدح کے اعتبار سے یہ آیت ہے :

وجلت قلوبھم (الانفال : ٢) ان کے دل اللہ سے خوف زدہ ہیں۔

نیز اس آیت میں سنیوں کا ذکر فرمایا ہے اور مراد اس سے دل ہیں، اس کی وجہ ظاہر ہے کہ دل سینوں میں ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 100 العاديات آیت نمبر 10