نئے سا ل کی خوشی يا گزرے سال کا افسوس؟

محمد شاھد بركاتى میرٹھی
خطیب وامام مدینہ جامع مسجد، ممبئی

• آپ کا پچھلا سال گناہوں کے ساتھ گزرا یا نیکیوں کے ساتھ، گناہ زیادہ ہوئے یا نیکیاں؟ اگر نیکیاں زیادہ ہوئیں تو آپ خوش نصیب اور کامیاب ہیں اور اگر گناہ زیادہ ہوئے تو آپ خود سوچیں کہ آپ کو افسوس کرنا چاہیئے یا خوشی منانا چاہیئے۔
• کیا گزرے سال میں صرف ایک دن بھی ایسا گزرا جس میں آپ نے کوئی فرض کوئی واجب یا کوئی مؤکدہ سنت نہ چھوڑی ہو؟  کوئی جھوٹ نہ بولا ہو، کسی کی چغلی نہ کی ہو، والدین کی نافرمانی نہ کی ہو، بیوی کو بے خطا نہ مارا ہو، کوئی گناہ کی چیز نہ دیکھی نہ سنی ہو؟ اگر نہیں تو آپ خود سوچیں کہ آپ کو افسوس کرنا چاہیئے یا خوشی منانا چاہیئے؟
• اگر گزرے سال ایک دن میں صرف ایک فرض یا صرف ایک واجب یا صرف ایک مؤکدہ سنت ہی چھوڑی ہو، یا صرف ایک ہی ناجائز اور گناہ کا کام کیا ہو تو سوچیں کہ ایک سال میں کتنے گناہ ہوئے؟ تین سو پینسٹھ دن میں کم از کم تین سو پینسٹھ گناہ تو ہوئے ناں؟ آپ خود سوچیں یہ افسوس کرنے کی بات ہے یا خوشی منانے کی؟
• آئیے توبہ کریں گزرے سال میں ہوئے گناہوں سے،پکا ارادہ کریں کہ نئے سال میں گناہ کم سے کم کرنے کی کوشش کریں گے۔
• آئیے پکا ارادہ کریں کہ نئے سال میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی کوشش کریں گے۔
• یاد رہے جو کام اسلام میں حرام وگناہ ہیں وہ نئے سال کے موقعہ پر بھی حرام وگناہ ہی رہیں گے جیسے ناچ، گانا، میوزک، زناکاری، شراب نوشی، آتشبازی وغیرہ بلکہ جو کام قصدًا غیر مسلموں کی نقل میں کئے جائیں گے وہ بھی ناجائز ٹھہریں گے۔

10 رجب المرجب، 1447 ھ
31 دسمبر، 2025 بدھ