أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِؕ ۞

ترجمہ:

اور پہاڑ دھنی ہوئی رنگ برنگی اون کی طرح ہوجائیں گے

قیامت کے دن پہاڑوں کے احوال

القارعۃ : ٥ میں فرمایا : اور پہاڑ دھنی ہوئی رنگ برنگی اون کی طرح ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ پہاڑ مختلف رنگوں کے ہیں :

(فاطر : ٢٧) اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں، سفید اور سرخ، ان کے رنگ مختلف ہیں اور بہت گہرے سایہ۔

قیامت کے کھٹکھٹانے سے جو مہیب آواز پیدا ہوگی، اس کے اثر سے سر بہ فلک پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر غبار کی طرح ہوجائیں گے تو سوچنا چاہیے کہ اس دل دہلانے والی آواز کو سن کر انسان کا حال ہوگا۔

قیامت کے دن پہاڑوں میں جو تغیرات ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کے حسب ذیل احوال بیان فرمائے ہیں :

(ۃ) ایک حال یہ ہے کہ پہاڑوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے :

(الحاقہ : ٤ ۃ) اور زینوں کو اپہاڑوں کو اٹھا لیا جائے گا اور ایک ضرب میں ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر یدئے جائیں گے۔

(٢) پہاڑ قیامت کے دن بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے :

النمل : ٨٨) (اے مخاطب ! ) تم ہپاڑوں کو دیکھ کر اپنی جگہ جما ہوا خیال کرتے ہو، حالانکہ (قیامت کے دن) وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے۔

(٣) قیامت کے دن پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے :

(الزمل : ١٤) قیامت کے دن زمینیں اور پہاڑ تھرتھرائیں گے اور پہاڑ ریٹ کے ٹیلے ہوجائیں گے۔

(٤) قیامت کے دن پہاڑ دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون کی طرح ہوجائیں گے، جیسا کہ القارعۃ : ٥ میں ہے۔

(٥) قیامت کے دن پہاڑ فریب نظر ہوجائیں گے۔

وسیرت الجبال فکانت سراباً ۔ (النبائ : ٢٠) اور پہاڑ چلائے جائیں گے پھر وہ سراب (فریب نظر) ہوجائیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 101 القارعة آیت نمبر 5