حالیہ دنوں ایک واقعہ سوشل میڈیا اور دینی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنا، جب برطانیہ کے معروف عالمِ دین شیخ اسرار رشید نے پنجاب کے نام نہاد “شف شف پیر” کے بارے میں اس کے ماننے والوں سے براہِ راست سوال کیا کہ وہ آخر کیا اعمال کرتے ہیں، اور کیا ان کے طریقوں میں کوئی غیر شرعی پہلو تو شامل نہیں۔ ماننے والوں کی جانب سے جواب دیا گیا کہ شیخ صاحب خود آ کر پیر سے پوچھ لیں۔

اسی دعوت پر شیخ اسرار رشید شف شف پیر کی محفل میں پہنچ گئے۔ تاہم ان کے پہنچتے ہی پیر وہاں سے فرار ہو گیا۔ بعد ازاں پیر کی انتظامیہ نے پولیس کو بلا لیا، حالانکہ شیخ اسرار رشید کا مقصد محض سوال و جواب اور وضاحت حاصل کرنا تھا، نہ کہ کوئی ہنگامہ یا تصادم۔ صورتِ حال اس حد تک بگڑ گئی کہ پروگرام بالآخر ختم کرنا پڑا۔

میرا سوال ہے کہ:
کیا شیخ اسرار رشید کا یہ اقدام درست تھا؟
بظاہر اس کا جواب اثبات میں ہے۔ دین کے نام پر لوگوں کو لوٹنے والے، جعلی کرشمات دکھانے والے اور غیر شرعی طریقوں سے عوام کو متاثر کرنے والے افراد کے سامنے خاموشی اختیار کرنا خود ایک بڑا نقصان ہے۔ اگر اہلِ علم براہِ راست سوال نہ کریں اور ان کے دعوؤں کو بے نقاب نہ کریں تو عام لوگ حق و باطل میں تمیز کیسے کریں گے؟

افسوس ناک پہلو
یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ڈھونگی افراد کو کھلے مواقع فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں سادہ لوح عوام فریب کا شکار ہوتے ہیں۔ پھر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو اس کا ردِعمل صرف ان جعلی پیروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ لوگ پورے دین اور دیندار طبقے سے بدظن ہو جاتے ہیں۔

یہ واقعہ علما کرام کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ
غیر شرعی، فریبی اور استحصالی رویّوں کے خلاف علمی، باوقار اور جرات مندانہ انداز میں آواز بلند کی جائے۔ امت کی فکری حفاظت کے لیے ایسے اقدامات نہ صرف درست بلکہ وقت کی ضرورت ہیں۔

شعیب مدنی
2 Jan 2025
Asrar Rashid