أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِىۡ خُسۡرٍۙ ۞

ترجمہ:

بیشک ہر انسان ضرور نقصان میں ہے

العصر : ٢ میں فرمایا : بیشک ہر انسان ضرور نقصان میں ہے۔

تمام انسانوں کا خسارے میں مبتلا ہونا

اس آیت میں ” الانسان “ پر الف لام کے دو محمل ہیں : ایک یہ کہ یہ الف لام استغراق کے لئے ہے جیسا کہ حضرت علی (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا : بیشک ابن آدم ہلاکت اور نقصان میں ہے۔ (جامع البیان جز ٣٠ ص 371) دوسرا محمل یہ ہے کہ یہ الف لام عہد کا ہے اور متھود کفار ہیں۔

امام ابواسحقٰ احمد بن ابراہیم الثعلبثی متوفی ٣٢٧ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس سورت کو پڑھا اور آپ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں، اس آیت کی کیا تفسیر ہے ؟ آپ نے فرمایا :” والعصر “ سے مراد ہے دن کا آخری حصہ “” ان الانسان لفی خسر “ سے مراد ہے : ابوجہل بن ہشام “ ” الا الذین امنوا “ سے مراد ہے : ابوبکر صدیق اور ” عملوا الصلحت “ سے مراد ہے : عمر بن الخطاب “ ” وتوا صوا بالحق “ سے مراد ہے : عثمان بن ابوبکر صدیق اور ” عملوا الصلحت “ سے مراد ہے : عمر بن الخطاب ” وتواصوابالحق “ سے مراد ہے : عثمان بن عفان ” وتو اصوابالصبر “ سے مراد ہے : علی بن ابی طالب۔

امام ثعلبی نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے بھی بعینہ یہی تفسیر نقل کی ہے۔ (الکشف والبیان ج ١٠ ص 284، داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤٢٢ ھ)

امام الحسن بن مسعود بغوی متوفی ٥١٦ نے لکھا ہے : اس آیت میں ” الانسان “ سے مراد کافر ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد مئومنین کا استثناء فرمایا ہے، فرمایا ہے : بیشک انسان خسارہ میں ہے، اور خسارہ کا معنی ہے : انسان کا اصل مال ضائع ہوجائے یعنی انسان خود بھی ہلاک ہوجائے اور اس کی تمام عمر گناہوں میں ضائع ہوجائے۔ (معالم التنزیل ج ٥ ص 302 داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

امام عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ فرماتے ہیں :

انسان خسارہ سے الگ نہیں ہوسکتا، کیونکہ خسارہ کا معنی ہے : اصل مال کا ضائع ہوجانا اور انسان کا اصل مال اس کی عمر ہے اور وہ بہت کم اپنی عمر کے ضائع ہونے سے بچ سکتا ہے کیونکہ انسان کے اوپر جو ساعت بھی گزر رہی ہے، اس میں اگر وہ گناہوں میں مصروف ہے تو اس کے نقصان میں کوئی شک نہیں ہے اور اگر اس کی وہ ساعت مباح کاموں میں گزر رہی ہے، پھر بھی اس کا نقصان اس لحاظ سے ہے کہ اس کو ان کاموں پر ثواب نہیں ملا، اور اگر اس کی وہ ساعت اطاعت اور عبادت میں گزر رہی تو وہ جس کیفیت سے عبادت کر رہا ہے، اس سے عمدہ اور اعلیٰ کیفیت سے بھی عبادت کرنا ممکن ہے کیونکہ خشوع اور خضوع کے درجات غیر متناہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے جلال اور قہر کے مراتب بھی غیر متناہی ہیں تو انسان کو اللہ تعالیٰ کی جس قدر زیادہ معرفت ہوگی، اس کو اللہ تعالیٰ کا اتنا زیادہ خوف ہوگا اور جتنا زیادہ خوف ہوگا، وہ اتنی زیادہ تعظیم سے کی عبادت کرے گا اور اعلیٰ عبادت کو ترک کرنا اور ادنیٰ عبادت کو اختیار کرنا یہ بھی ایک قسم کا نقصان ہے، پس واضح ہوگیا کہ ہر انسان کسی نہ کسی قسم کے خسارے اور نقصان میں مبتلا ہے۔

تمام انسانوں کا خسارے میں مبتلا ہونا

اس آیت میں ” الانسان “ پر الف لام کے دو محمل ہیں : ایک یہ کہ یہ الف لام استغراق کے لئے ہے جیسا کہ حضرت علی (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا : بیشک ابن آدم ہلاکت اور نقصان میں ہے۔ (جامع الباین جز ٢٠ ص ٣٧١) دوسرا محمل یہ ہے کہ یہ الف لام معہد کا ہے اور متھود کفار ہیں۔

امام ابو اسحقٰ احمد بن ابراہیم الثعلبثی متوفی 327 ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس سورت کو پڑھا اور آپ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں، اس آیت کی کیا تفسیر ہے ؟ آپ نے فرمایا :” والعصر “ سے مراد ہے دن کا آخری حصہ ” ان الانسان لفی خیر “ سے مراد ہے : ابوجہل بن ہشام ” الا الذین امنوا “ سے مراد ہے : ابوبکر صدیق اور ” عملوا الصلحت “ سے مراد ہے : عمر بن الخطاب ” وتو اصوا بالحق “ سے مراد ہے : عثمان بن عفان ” وتواصوا بالصبر “ سے مراد ہے : علی بن ابی طالب۔

امام ثعلبی نے حضرت عبداللہ عبا (رض) ما سے بھی بعینہ یہی تفسیر نقل کی ہے۔ (الکشف والبیان ج ١٠ ص ٢٨٤ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٢ ھ)

امام الحسین بن مسعود بغوی متوفی 516 ھ نے لکھا ہے، اس آیت میں ” الانسان “ سے مراد کافر ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد مئومنین کا استثناء فرمایا ہے، فرمایا ہے : بیشک انسان خسارہ میں ہے اور خسارہ کا معنی ہے، انسان کا اصل مال ضائع ہوجائے یعنی انسان خود بھی ہلاک ہوجائے اور اس کی تمام عمر گناہوں میں ضائع ہوجائے۔ (معالم التنزیل ج ٥ ص ٣٠٢ داراحیائالتراث العربی، بیروت ١٤٢٠ ھ)

امام عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں :

” خسر “ کا معنی ہے، اصلی مال کا ضائع ہوجانا یا کم ہوجانا، پس انسان نے جب اپنے نفس کو ان کاموں میں استعمال نہیں کیا، جن سے دائمی نفع ہوتا ہے تو وہ خسارہ میں ہے کیونکہ اس نے اپنے نفس کو ہلاک کرنے کا عمل کیا۔ (زاد المسیرج ٩ ص ٢٢٥ المکتب الاسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں :

انسان خسارہ سے الگ نہیں ہوسکتا، کیونکہ خسارہ کا معنی ہے : اصل مال کا ضائع ہوجانا اور انسان کا اصل مال اس کی عمر ہے اور وہ بہت کم اپنی عمر کے ضائع ہونے سے بچ سکتا ہے کیونکہ انسان کے ا پر جو ساعت بھی گزر رہی ہے، اس میں اگر وہ گناہوں میں مصروف ہے تو اس کے نقصان میں کوئی شک نہیں ہے اور اگر اس کی وہ ساعت مباح کاموں میں گزر رہی ہے، پھر بھی اس کا نقصان اس لحاظ سے ہے کہ اس کو ان کاموں پر ثواب نہیں ملا، اور اگر اس کی وہ ساعت اطاعت اور عبادت میں گزر رہی تو وہ جس کیفیت سے عبادت کر رہا ہے، اس سے عمدہ اور اعلیٰ کیفیت سے بھی عبادت کرنا ممکن ہے کیونکہ خشوع اور خضوع رہی تو وہ جس کیفیت سے عبادت کر رہا ہے، اس سے عمدہ اور اعلیٰ کیفیت سے بھی عبادت کرنا ممکن ہے کیونکہ خشوع اور خضوع کے درجات غیر متناہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے جلال اور قہر کے مراتب بھی غیر متناہی ہیں تو انسان کو اللہ تعالیٰ کی جس قدر زیادہ کے درجات غیر متناہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے جلال اور قہر کے مراتب بھی غیر متناہی ہیں تو انسان کو اللہ تعالیٰ کی جس قدر زیادہ معرفت ہوگی، اس کو اللہ تعالیٰ کا اتنا زیادہ خوف ہوگا اور جتنا زیادہ خوف ہوگا، وہ اتنی زیادہ تعظیم سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا اور اعلیٰ عبادت کو ترک کرنا اور ادنیٰ عبادت کو اختیار کرنا یہ بھی ایک قسم کا نقصان ہے، پس واضح ہوگیا کہ ہر انسان کسی نہ کسی قسم کے خسارے اور نقصان میں مبتلا ہے۔

اس آیت میں تنبیہ کی گئی ہے کہ ہر انسان اصل میں خسارے اور نقصان میں مبتلا ہے، کیونکہ انسان کی سعادت اس میں ہے کہ وہ آخرت سے محبت رکھے اور دنیا سے اعراض کرے اور وہ اسباب جو آخرت کے داعی اور محرک ہیں، وہ مستور اور غیر ظاہر ہیں اور وہ اسباب جو دنیا کی محبت کے داعی ہیں، وہ ظاہر ہیں، وہ انسان کے حواس خمسہ اور شہوت اور غضب ہیں، اس وجہ سے زیادہ لوگ دنیا کی محبت اور اس کو طلب کرنے میں مستغرق ہیں، اس لئے سب لوگ خسارے اور نقصان میں ہیں سوائے مئومنین صالحین کے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص ٢٨٠ داراحیاء التراث الربی بیروت ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 103 العصر آیت نمبر 2