یہ غوث پاک کے دھوبی والی بات  قبر سے کیسے لیک ہوگئی؟
جواب:(بر صدقِ واقعہ)
” یہ ایسے لیک ہوگئی جیسے #ابولہب کی #قبر کی بات #لیک ہوگئ تھی۔۔۔”

یہ کوئی بات ہے کہ بندہ عالم برزخ کے معاملات کو یا کسی کامل ولی کی کرامات کو تفریح کا ذریعہ بنائے
الامان والحفیظ۔۔۔
دراصل  جو لوگ اللہ کے ولیوں کی کرامات کو مانتے ہی نہیں وہی اس قسم کی احمقانہ بات کرتے ہیں۔۔۔
چونکہ وہ اپنی عقل کو معیار بناتے ہیں  اس لئے انکو یہ باتیں سمجھ نہیں آتیں
حالانکہ کرامت کہتے ہی اس کو جو عقل میں نہ آئے اور جو ظاہری عقل میں آئے  وہ کرامت کہاں؟

دوسری بات ہر شخص اپنے قول  کا خود جواب دہ ہے،اگر کوئی شخص کوئی بات کرے تو اسکا ذمیدار وہ خود ہے ؟  یا کوئی اور؟
ظاہر ہے وہ خود ہی ہے۔
لہذا اگر کسی مقرر نے یہ بیان کیا تو اسکا الزام پورے مذھب اھلسنت پر کیسے آسکتا ہے؟
ویسے وہ لوگ جو  سرکار غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے ہماری طرح  عقیدت و محبت نہیں رکھتے انہوں نے اس واقعہ کو نہ صرف لکھا ہے بلکہ اس کا دفاع  بھی کیا ہے اس لئے نہیں کہ اس کا تعلق غوث پاک سے ہے بلکہ اس لئے کہ ک انکے بڑوں نے لکھا ہے
جبکہ ہم اھلسنت کے بڑے مرکز میں حضرت فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدين امجدی علیہ الرحمہ سے اس دھوبی والے واقعے کا سوال ہوا تو آپ نے جواب دیا:
“روایت مذکورہ بے اصل ہے۔ اس کا بیان کرنا درست نہیں۔ لہٰذا جس نے اسے بیان کیا وہ اس سے رجوع کرے اور آئندہ اس روایت کے نہ بیان کرنے کا عہد کرے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو کسی معتمد کتاب سے اس روایت کو ثابت کرے۔”
واللہ تعالیٰ اعلم
[ماخوذ از فتاویٰ فقیہ ملت المعروف بہ فتاویٰ مرکز تربیت افتاء، ج:2، ص:411]
اور جب دارالعلوم دیوبند میں سوال ہوا تو جواب دیاگیا کہ:
جی ہاں ! حضرت غوث اعظم کے دھوبی کا واقعہ حضرت تھانوی کے ملفوظات کا مجموعہ : الافاضات الیومیة ( جلد دوم ، صفحہ :۹۱، ط: ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان) پر موجود ہے ، مگر حضرت تھانوی نے جس توجیہ اور وضاحت کے ساتھ یہ واقعہ بیان فرمایا ہے ، اسی طرح سمجھنا چاہیے ، اپنی طرف سے اس میں کمی زیادتی نہیں کرنا چاہیے ،حضرت تھانوی فرماتے ہیں : میں نے حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب گنج مراد آبادی رحمة اللہ علیہ سے خود عجیب حکایت سنی ہے
(Fatwa:390-326/sd=4/1439)
اسی طرح بنوری ٹاؤن والوں نے بھی اسے سچا مانا اور اسکی تاویل کی۔۔۔
( ملاحظہ ہو فتویٰ نمبر : 144507100265
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)

فقیر کی رائے:
فقیر کی رائے یہ ہے کہ جس طرح حضرت فقیہ ملت نے فرمایا کہ کسی معتمد کتاب سے اس روایت کو ثابت کرے ورنہ بیان نہ کرے۔۔۔
پتہ چلا کہ حضرت فقیہ ملت نے اس واقعے کو نامکمن یا غیر شرعی نہیں کہا بلکہ بے اصل لکھا
اور ساتھ میں یہ بھی لکھا کہ کسی معتمد کتاب سے ثابت کرے۔۔۔
کیا مطلب؟
یعنی اگر کسی معتمد کتاب سے اس کا ثبوت ملے تو بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔۔
اب معاملہ سند پہ ہے عدم امکان پر نہیں۔۔۔
اس لئے ہم نے لکھا کہ اگر یہ واقعہ سچا ہے تو  یہ بات اسی طرح لیک ہوئی جس طرح ابولہب کی بات  اسکی مرگھٹ(قبر) سے لیک ہوئی۔۔۔
یعنی جس طرح حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو خواب میں ابولہب کا  معاملہ دکھایا گیا اور وہ  مشھور ہوگیا۔۔۔
اسی طریقے سے برصدق واقعہ کسی بزرگ کو خواب میں وہ شخص نظر آیا ہوگا اور اس نے اپنا واقعہ بتایا ہوگا اور پھر یہ مشھور یعنی لیک ہوگئی۔۔۔
خواب سے قبر کا حال پتہ چلنا:
اس قسم کے کئی واقعات  احادیث میں بھی ہیں اور بزرگوں کی کتب میں
مثلا ایک مشھور واقعہ ہے کہ:
ایک آدمی دریا کے کنارے بیٹھا وضو کر رہا تھا۔ اتنے میں حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ وہاں آئے اور کچھ فاصلے پر بیٹھ کر وضو کرنے لگے۔
اس آدمی نے دیکھا کہ اس کے وضو کا پانی بہہ کر امام صاحب کی طرف جا رہا ہے۔ یہ دیکھ کر اس کے دل میں خیال آیا کہ یہ اللہ کے بہت بڑے نیک بندے اور ولی ہیں، ان کی طرف میرا استعمال شدہ پانی جانا بے ادبی ہے۔
چنانچہ وہ آدمی اپنی جگہ چھوڑ کر امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دوسری طرف جا کر بیٹھ گیا، تاکہ اب امام صاحب کے وضو کا پانی اس کی طرف آئے، نہ کہ اس کا پانی امام صاحب کی طرف جائے۔
اس نے یہ کام ادب اور احترام کی وجہ سے کیا تھا۔
بعد میں جب اس آدمی کا انتقال ہو گیا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا:
اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟
اس نے جواب دیا:
اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی تعظیم اور ادب کی برکت سے بخش دیا۔(تذکرة الاولیاء جلد١صفحہ١٩٦)
لہذا اگر دھوبی والی بات کسی مستند کتاب میں ہے تو اسی طرح لیک ہوئی جیسے اور قبروں کی بات لیک ہوجاتی ہے
لہذا بر صدق واقعہ کسی بزرگ نے اپنے کشف سے معلوم کیا ہوگا یا پھر  کسی  نیک بندے نے اس دھوبی کو خواب میں دیکھا ہوگا کہ اللہ والوں کی خدمت گذاروں کو بڑی برکتیں ملتی ہیں تو تم تو غوث پاک کا لباس دھوتے تھے تو تمھیں کچھ برکت ملی تب اس نے یہ معاملہ بتایا ہوگا۔۔(برصدق و ثبوت)
لہذا اس میں کونسا محال ہے؟
✍️ذوالقرنین قادری