جگر گوشہ تاجدار، حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ اور صلح و بیعت کی شرائط کہ حقیقت!!
ازقلم اسد الطحاوی

امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کتب تاریخ میں بغیر مستند سند کے یہ بات بھی نقل ہوئی ہے کہ چند شرائط امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت امیر معایہ رضی اللہ تعالٰی عنہ  کے سامنے رکھیں جنکی بنیاد پر صلح ہوئی اور بیعت بھی لیکن چونکہ ان شرائط پر عمل نہ کیا گیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ  کی طرف سے تو پھر وہ بیعت و صلح ختم ہو گئی۔

جب کہ کتب احادیث مستند سند کے حوالے سے ایسی کسی روایت کے بارے خاموش نظر آتی ہیں۔ لیکن کتب تاریخ میں اس کے تعلق سے ایک افسانہ گھڑا گیا تاکہ صلح و بیعت کی حقیقت کو دھندلا کر دیا جائے۔۔۔۔
جبکہ یہ بات حقیقت کے بھی منافی ہے اور مقام امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بھی۔ کیونکہ امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کوئی ذاتی شرط نہیں رکھی تھی اس بیعت پر کیونکہ وہ مکمل اللہ اور اپنے نانا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی تعلیمات پر کار فرما تھے۔

ہاں البتہ کتب اثار و حدیث میں جن شرئط کے بارے مستند بات پہنچی ہے وہ اس سے قدرے مختلف ہے۔ بلکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایک ساتھی نے انکے سامنے شرط رکھی اور اس پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ رضا مندی پر بیعت و صلح میں شریک ہو گئے

جیسا کہ امام ابن ابی شیبہ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں:

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ قَيْسُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ عَلِيٍّ مُقَدِّمَتَهُ , وَمَعَهُ خَمْسَةُ آلَافٍ قَدْ حَلَقُوا رُءُوسَهُمْ بَعْدَمَا مَاتَ عَلِيٌّ , فَلَمَّا دَخَلَ الْحَسَنُ فِي بَيْعَةِ مُعَاوِيَةَ أَبَى قَيْسٌ أَنْ يَدْخُلَ , فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: مَا شِئْتُمْ؟ إِنْ شِئْتُمْ جَالَدْتُ بِكُمْ أَبَدًا حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ , وَإِنْ شِئْتُمْ أَخَذْتُ لَكُمْ أَمَانًا , فَقَالُوا لَهُ: خُذْ لَنَا أَمَانًا , فَأَخَذَ لَهُمْ أَنَّ لَهُمْ كَذَا وَكَذَا وَلَا يُعَاقَبُوا بِشَيْءٍ ; وَإِنِّي رَجُلٌ مِنْهُمْ , وَلَمْ يَأْخُذْ لِنَفْسِهِ شَيْئًا , فَلَمَّا ارْتَحَلُوا نَحْوَ الْمَدِينَةِ وَمَضَى بِأَصْحَابِهِ جَعَلَ يَنْحَرُ لَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ جَزُورًا حَتَّى بَلَغَ
حضرت عروہ روایت کرتے ہیں : کہ قیس بن سعد بن عبادہ حضرت علیؓ کے ساتھ ان کے لشکر کی اگلی ٹکڑی میں تھا  اور اس کے ساتھ پانچ ہزار افراد تھے جنہوں نے حضرت علیؓ کی وفات کے بعد اپنے سروں کو منڈوا لیا تھا،(یعنی سوگ میں گنجے ہوگئےتھے)
پس جب سیدنا حسن ؓ حضرت سیدنا معاویہ ؓ کی بیعت میں داخل ہوئے تو قیس نے بیعت کرنے سے انکار کردیا، پھر اپنے ساتھیوں سے کہا تمہاری کیا خواہش ہے؟
اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں لے کر ہمیشہ لڑتا رہوں گا یہاں تک کہ ہم میں سے پہلے مرنے والا مرجائے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے امان طلب کرلوں، وہ کہنے لگے آپ ہمارے لئے امان طلب کرلیں، تو پھر اس نے اپنے ساتھیوں کے لیے کچھ شرائط اور معاوضے کے ساتھ صلح کرلی، اور شرط رکھ دی کہ ان کو کسی قسم کی سزا نہ دی جائے گی، اور یہ بھی کہا کہ میں ان کا ایک فرد ہوں گا، اور اپنے لئے کوئی شرط نہیں لگائی، جب وہ مدینہ کی طرف اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس چلا تو سارے راستے میں روزانہ ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں پہنچ گئے۔
[مصنف ابن ابی شیبہ، برقم:30581، وسندہ جید صحیح]

اور چونکہ امام حسن کے ساتھیوں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو پیسہ و مال لیء بغیر امام حسن کی بات ماننے والے نہ تھے۔

جیسا کہ امام حسن فرماتے ہیں:
فَقَالَ لَهُمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ: إِنَّا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَصَبْنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَدْ عَاثَتْ فِي دِمَائِهَا، قَالَا: فَإِنَّهُ يَعْرِضُ عَلَيْكَ كَذَا وَكَذَا، وَيَطْلُبُ إِلَيْكَ وَيَسْأَلُكَ، قَالَ: فَمَنْ لِي بِهَذَا؟ قَالَا: نَحْنُ لَكَ بِهِ، فَمَا سَأَلَهُمَا شَيْئًا إِلَّا قَالَا نَحْنُ لَكَ بِهِ، فَصَالَحَهُ
حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہم بنو عبدالمطلب کی اولاد ہیں اور ہم کو خلافت کی وجہ سے روپیہ پیسہ خرچ کرنے کی عادت ہو گئی ہے
اور ہمارے ساتھ یہ لوگ ہیں، یہ خون خرابہ کرنے میں طاق ہیں، بغیر روپیہ دئیے ماننے والے” نہیں۔”
وہ کہنے لگے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کو اتنا اتنا روپیہ دینے پر راضی ہیں اور آپ سے صلح چاہتے ہیں۔
فیصلہ آپ کی مرضی پر چھوڑا ہے اور آپ سے پوچھا ہے۔ حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ان دونوں قاصدوں نے کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ حسن نے جس چیز کے متعلق بھی پوچھا، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ آخر آپ نے صلح کر لی،
[صحیح بخاری]

یہی وجہ ہے کہ امام حسن نے منبر پر اعلان فرمایا
کہ یہ خلافت میرا اگر حق تھا تو انکو یعنی حضرت معاویہ کو دیا
یا
حضرت معاویہ مجھ سے زیادہ حق  خلافت رکھتے ہیں۔

جیسا کہ امام حسن کا فرمان واضح موجود ہے:

فقام الحسن فقال: يا أيها الناس إني كنت أكره الناس لأول هذا الحديث وأنا أصلحت آخره لذي حق أديت إليه حقه أحق به مني. أو حق جدت به لصلاح أمة محمد وإن الله قد ولاك يا معاوية هذا الحديث لخير يعلمه عندك أو لشر يعلمه فيك «وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتاعٌ إِلى حِينٍ»  ثم نزل
پھر (صلح کے موقع پر) امام حسن کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اے لوگو! میں اس
معاملے کی ابتدا میں سب سے زیادہ ناپسند کرنے والا تھا،
اور میں نے آج اس شخص کا حق ادا کر دیا ہے جو اس کا مجھ سے زیادہ مستحق تھا، یا یہ” حق اس شخص کا تھا جس کے لیے یہ معاملہ بہتر تھا”
اور اللہ نے تم پر معاویہ کو حاکم بنایا ہے، اب چاہے وہ اس میں خیر کریں یا شر، اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ “وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ (الأنبیاء 111) پھر حسن منبر سے اتر آئے۔
[الطبقات ابن سعد ، برقم: 289 وسندہ صحیح]

اور خلافت کی شرط درج ذیل تھی

قال ابن سعد: وأخبرنا عبد الله بن بكر السهمي، حدثنا حاتم بن أبي صغيرة، عن عمرو بن دينار، قال: وكان معاوية يعلم أن الحسن أكره الناس للفتنة، فراسله وأصلح الذي بينهما، وأعطاه عهدا إن حدث به حدث والحسن حي ليجعلن هذا الأمر إليه.

امام ابن سعد بیان کرتے ہیں عبداللہ کے طریق سے حاتم سے  وہ عمرو بن  دینار سے بیان کرتے ہیں :
کہ حضرت معاویہؓ بات جانتے تھے کہ امام حسنؓ سب سے زیادہ فتنے کو نا پسند کرنے والے تھے لوگوں میں میں ۔ ان سے خط و کتاب کی اور آپس میں صلح کر لی اور یہ معاہدہ کر لیا کہ اگر امام حسنؓ کے جیتے جی میں (یعنی حضرت معاویہؓ) فوت ہوئے گئے تو انہیں ولی عہد بنائیں گے۔
[طبقات ابن سعد، و  الإصابة في تمييز الصحابة، ج۲، ص۶۵]

اس مذکورہ شرط کو مکمل دیکھا جائے تو اس میں تو حضرت امیر معاویہؓ پر کوئی الزام آتا ہی نہیں کیونکہ یہ شرط تو امام حسنؓ کی زندگی کے ساتھ مشروط تھی کہ اگر پہلے حضرت امیر معاویہؓ فوت ہوگئے تو خلافت امام حسنؓ کے پاس جائے گی وگرنہ ہمیشہ کے لیے حضرت امیر معاویہ کے پاس ہی رہے گی ۔
اور ایسا ہی ہوا تو حضرت امیر معاویہؓ سے امام حسنؓ نے اپنی وفات کے بعد اس شرط کے مطابق خلافت امام حسین ؓ کو سونپنے کی شرط نہیں رکھی تھی تو حضرت امیر معاویہؓ یہ فیصلہ کرنے میں آزاد تھے کہ وہ اپنی خلافت کس کو سونپیں ۔

اور یہ بھی ظاہر کر دیں کہ زہر دلانے والے کون تھے

حضرت  امام حسنؓ  و حسینؓ نے  حضرت امیر معاویہؓ سے صلح کرکے انکے ہاتھ بیعت کی تھی۔ تب  حسنین کریمینؓ کے اس فیصلے کے باغی اہل کوفہ تھے۔ اور حسنین کریمینؓ کے اس فیصلے کے باوجود امام حسن کو اہل کوفہ خطوط لکھ کر اپنی خلافت کا اعلان کرنے کے لیے کہتے رہے۔
لیکن امام حسنؓ نے ان اہل کوفہ کو گمراہ اور باطل پر کہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کوفہ اور آج تک کے موتمیوں میں امام حسنؓ کا وہ مقام نہیں ۔ بس امام حسن کا نام بھی برائے ضرورت لیتے ہیں ۔

امام یعقوب بن سفیان الفسوی (المتوفى: 277هـ) اپنی سند سے روایت  کرتے ہیں:
حدثنا ابو بكر ثنا سفيان حدثني عبد الله بن أخي يزيد عن يزيد الأصم قال: أتيت الحسن بن علي فأتي بضارة  كتب وأنا عنده، فما فض منها خاتما ولا نظر في عنوانه حتى قال: يا جارية هات المخضب. قال: فجاءت المخضب فيه ماء، فأخذ تلك الكتب فغسلها في الماء. قال: فقلت: يا أبا محمد كتب من هذه؟ قال: هذه كتب قوم لا يرجعون إلى حق، ولا يقصرون عن باطل، كتب أهل العراق- وربما قال لا ينزعون عن باطل

امام یزید بن الاصم کہتے ہیں :
میں حضرت حسن بن علیؓ کے پاس گیا اور میں ان کے پاس تھا جب ایک نقصان دہ خطوط ان کے سامنے لائی گئے۔ انہوں نے اس کا مہر نہیں توڑا اور نہ ہی عنوان پر نظر ڈالی، یہاں تک کہ کہا: اے لونڈی، حوض لے آؤ۔ وہ حوض لائی جس میں پانی تھا، انہوں نے ان خطوط کو پانی میں دھو دیا۔ میں نے کہا: اے ابو محمد، یہ خطوط کس کی ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ ان لوگوں کے خطوط ہیں جو حق کی طرف نہیں پلٹتے اور باطل سے باز نہیں آتے، اہل عراق کے خطوط ہیں – اور کبھی کبھی کہا کہ باطل سے باز نہیں آتے۔
[المعرفة والتاريخ،ج2، ص756وسندہ صحیح]

اسی طرح امام طبرانی علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں:
حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا عبد الله بن الحكم بن أبي زياد، ثنا أبو أسامة، عن سفيان بن عيينة، عن عبيد الله بن عبد الله بن الأصم، عن عمه يزيد بن الأصم، قال: خرجت مع الحسن، وجارية تحت شيئا من الحناء عن أظفاره، فجاءته إضبارة من كتب، فقال: يا جارية هات المخضب. فصب فيه ماء، وألقى الكتب في الماء، فلم يفتح منها شيئا، ولم ينظر إليه، فقلت: يا أبا محمد، ممن هذه الكتب؟ قال: «من أهل العراق، من قوم لا يرجعون إلى حق، ولا يقصرون عن باطل، أما إني لست أخشاهم على نفسي، ولكني أخشاهم على ذلك. وأشار إلى الحسين

امام یزید بن الاصم فرماتے ہیں :
میں امام حسنؓ  کے ساتھ نکلا، اور ایک لونڈی ان کے ناخنوں سے مہندی کے کچھ حصہ کو صاف کر رہی تھی، تو ان کے پاس خطوط کا ایک پلندہ آیا۔ انہوں نے کہا: اے لونڈی، حوض لے آؤ۔ اس نے حوض میں پانی ڈالا اور انہوں نے خطوط کو پانی میں ڈال دیا، نہ کچھ کھولا اور نہ دیکھا۔ میں نے کہا: اے ابو محمد، یہ خطوط کس کی ہیں؟ انہوں نے کہا: “اہل عراق کی ہیں، ایسے لوگوں کی جو حق کی طرف نہیں پلٹتے اور باطل سے باز نہیں آتے۔ میں ان سے اپنی ذات کے لئے نہیں ڈرتا، لیکن میں ان سے اس (اپنے ھائی حسینؓ) کے لئے ڈرتا ہوں۔(  راوی امام یزید کہتے ہیں) :اورانکا  امام حسینؓ کی طرف اشارہ کیا۔
[المعجم الكبير، برقم: 2691و سند ہ صحیح]

نوٹ: امام طبرانی کی سند میں امام یزید بن الاصم سے روایت کرنے والے عبید اللہ ہیں جبکہ امام فسوی کی سند عالی ہیں اس میں عبداللہ ہے ۔ تو یہ سند میں تصحیف ہے ۔ یا اگر یہ عبید اللہ ہے تو یہ بھی عبداللہ بن الاصم کے بھائی تھے۔ اور ثقہ اور صحیح مسلم کے احتجاج بہ راوی ہیں۔

ان کے علاوہ جو دعوے شروط کے نام پر کیے جاتے ہیں وہ بس دعوے ہیں

دعاگو: اسد الطحاوی