*صحابہ آسمانِ ہدایت کے انجم ہیں اور تم کیا ہو؟*

✍🏻 نثار احمد خان (خلیل آباد)

دو دن پہلے ایک شخص کی فیسبک پوسٹ نظر سے گزری جس میں اس نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو “ماحیِ خلافت”(خلافت کو مٹانے والے) کہہ کر اُن کی تنقیص کی ہے۔ اس بیچارے کو یہی شعور نہیں کہ خلافتِ راشدہ کی مدت تیس سال ہی ہونے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دی تھی۔(الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ) اور یہ تیس سال کی مدت پوری ہو جانے کے بعد ہی امیر معاویہ کو امام حسن نے خلیفہ بنایا ہے۔ ایسے میں امیر معاویہ کو –معاذ اللہ– ماحیِ خلافت کیسے کہہ سکتے ہیں؟
اور اگر وہ “ماحیِ خلافت” ہیں تو کیا آپ کے نزدیک سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ بھی اس “جرم” میں شریک ہیں؟ جنھوں نے بشارت نبوی کی تکمیل کرتے ہوئے امیر معاویہ کے ساتھ صلح فرمائی، اور انھیں خلیفہ و امیر المومنین بنا کر ان کے ہاتھ پر بیعت فرما لی؟
افسوس کہ ان لوگوں کی فکری کجی کچھ بھی کہلوا سکتی ہے۔ اس لیے اگر کل کو یہ لوگ معاذ اللہ سیدنا امام حسن کو بھی صراحتا موردِ الزام ٹھہرائیں تو ہمیں حیرانی نہیں ہو گی۔
البتہ مجھے اس بات پر حیرانی ضرور ہے کہ خانقاہی دنیا تو اعتقادی سلامتی اور ادب و روحانیت کی دنیا ہے پھر ایسے بےادب، منحرف اور خشک لوگ خانقاہوں میں اپنے مرشدوں سے کیسی تربیت لے رہے ہیں کہ نہ اہل سنت کے عقیدۂ کفِ لسان کا انھیں کچھ لحاظ ہے اور نہ ادب و روحانیت کا کوئی خیال؟ بلکہ ان میں سے کچھ لوگ تو ایسے بھی نظر آتے ہیں جو مشاجراتِ صحابہ کے بارے میں اہل سنت کے اجماعی عقیدۂ کفِ لسان(لا نذكرهم إلا بخير، و نكف عما شجر بينهم) کا اگر ذکر بھی کرتے ہیں تو پہلے یا تو امیر معاویہ وغیرہ کی خطا گنا کر پھر کفِ لسان اور احترامِ صحابیت کی بات کرتے ہیں، یا پھر کفِ لسان کا اس طرح نام لیتے ہیں گویا وہ کفِ لسان کر کے صحابہ پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ ایسے فرعون صفت اور بےادب افراد سے خیر و ادب کی کیا توقع کی جائے؟
ہم نے تو اپنے جن شیوخ سے صحابہ و اہل بیت کا ادب سیکھا ہے، اور جن مشائخ اہل سنت کی روحانیت سے فیضیاب رہے ہیں ان میں سے بعض نے تو خلافتِ راشدہ کی مدت ختم ہونے اور امیر معاویہ کے حکومت سنبھالنے کو ادب اور روحانیت بھرے انداز میں اس طرح بیان کیا ہے کہ ارشادِ رسول کے بموجب یہ طے تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے وصال اقدس کے ٹھیک تیس سال بعد خلافتِ راشدہ کی مدت پوری ہو جائے گی۔ اور وہ مدت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی لگ بھگ چھ ماہ کی خلافت پر پوری ہو رہی تھی۔ اب دو ہی راستے تھے۔ امام حسن آگے بھی خلیفہ رہیں، یا خلافت ترک فرما دیں۔ اگر وہ آگے بھی خلیفہ رہتے تو ان کی خلافت ارشادِ رسول کے بموجب اب خلافت نہ رہتی بلکہ ملوکیت ہو جاتی۔ اور یہ اُن کے حق میں تنزل اور نقص ہوتا، اس لیے امیر معاویہ نے ملوکیت کا یہ بار اپنے کندھوں پر لے لیا تاکہ سردارِ اہل بیت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا دامن اس نقص و تنزل سے پاک رہے۔
یہ خلافتِ راشدہ کی مدت مکمل ہونے اور ملوکیت آنے کی ایک روحانی توجیہ ہے، جو بعض اہلِ ادب نے سکھائی ہے۔
کیا اس طرح ادب کے سانچے میں بات نہیں کی جا سکتی ہے؟
مگر افسوس کہ جنھیں خانقاہوں میں اپنے شیوخ کی تمام نسبتیں یاد رہتی ہیں اور ان کے لیے توجیہات اور محاملِ حسنہ کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں انھیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی صحابیت جیسی عظیم نسبت اور ان کے صحابہ کے لیے ‘اَحسَنُ المَحامِل ڈھونڈنے’ اور بہترین سے بہترین توجیہ تلاش کرنے کے صوفیانہ ارشادات یاد ہی نہیں رہتے۔
خدا جانے یہ اہلِ سنت کی شاہراہ سے انحراف کی نحوست ہے یا قلبِ سلیم کی تلقین کرنے والے صوفیہ کی طریقت سے بغاوت کا اثر۔
خیر، جو بھی ہے بہر حال یہ بہت برا ہے۔
چوں کہ جس شخص نے فیسبک پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو “ماحیِ خلافت” کا تنقیصی لقب دیا ہے اس کی فکری فرعونیت کو دیکھتے ہوئے اس سے ایسے قول کا صدور کچھ بعید نہیں ہے اس لیے قائل پر ہمیں حیرانی نہیں ہوئی، مگر صحابیِ رسول کی اس تنقیص پر قلب کو اذیت ضرور پہنچی۔ ایسے میں ہمیں دوسری اور تیسری صدی ہجری کے کچھ اکابر ائمہ کے ارشادات یاد آ رہے ہیں، جنھیں یہاں پیش کرنا مناسب ہے، تاکہ سنیوں کے درمیان ایسوں کی پوزیشن مزید نمایاں ہو جائے:

*[ کسی ایک صحابی کی بھی تنقیص کرنے والا زندیق ہے : امام ابو زرعہ رازی ]*

سید الحُفّاظ امام أبو زُرعَہ رازی رَحِمَہُ اللہ(200ھ – 264ھ) حفظِ حدیث میں امام بخاری، امام یحیی بن مَعین اور امام احمد بن حنبل (رحمھم اللہ) کی طرح امام الدنیا تھے۔ لاکھوں احادیث (مع اسانید) کے حافظ تھے۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ وہ روئے زمین پر موجود تمام احادیث کے حافظ تھے۔ امام بخاری کے استاذ امام إسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کی وفات 238ھ میں ہوئی۔ اس وقت امام ابو زرعہ جوان تھے۔ امام ابن راہویہ نے امام ابو زرعہ کے بارے میں کہا ہے:
ابو زرعہ جس حدیث کو نہ جان سکیں وہ بے اصل ہے۔(یعنی گویا وہ حدیث ہی نہیں) (سير أعلام النبلاء، تهذيب التهذيب)
یہ اس شان کے تھے کہ ان کے علاقے میں ان کی محبت و تعظیم سنیت کی پہچان، اور ان کی عداوت و تنقیص بدمذہبی کی علامت تھی۔ ان کے ہم عصر اور ہم وطن امام ابو حاتم رازی رَحِمَہ اللہ (متوفی 277ھ) نے ان کے بارے میں کہا ہے:
“إِذَا رَأَيْتَ الرَّازِيَّ يَنْتَقِصُ أَبَا زُرْعَةَ فَاعْلَمْ أَنَّهُ مُبتَدِعٌ” (تهذيب التهذيب)
یعنی جب تم کسی رازی(یعنی شہر رَے کے رہنے والے) کو ابو زرعہ کی تنقیص کرتے دیکھو تو جان لو کہ وہ بدمذہب ہے۔
یہی عظیم الشان محدث (امام ابو زرعہ رازی) فرماتے ہیں کہ جب تم کسی شخص کو کسی صحابی کی تنقیص کرتے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق ہے!!
وہ فرماتے ہیں:
“إِذَا رَأَيْتَ الرَّجُلَ يَنْتَقِصُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْلَمْ أَنَّهُ زِنْدِيقٌ؛ وَذَلِكَ أَنَّ الرَّسُولَ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَنَا حَقٌّ، وَالْقُرْآنَ حَقٌّ، وَإِنَّمَا أَدَّىٰ إِلَيْنَا هٰذَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَنَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا يُرِيدُونَ أَنْ يَجْرَحُوا شُهُودَنَا لِيُبْطِلُوا الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ، وَالْجَرْحُ بِهِمْ أَوْلَىٰ، وَهُمْ زَنَادِقَةٌ.”

ترجمہ : “جب تم کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کی تنقیص کرتے ہوئے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق ہے؛ اس لیے کہ ہمارے نزدیک رسول اللہ ﷺ حق ہیں اور قرآن حق ہے، اور ہمیں یہ قرآن اور سنتیں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہی نے پہنچائی ہیں۔ پس وہ دراصل ہمارے گواہوں(صحابہ) کو مجروح کرنا چاہتے ہیں تاکہ کتاب و سنت کو باطل ٹھہرائیں، حالانکہ جرح کے زیادہ مستحق وہ خود ہیں، اور وہی زندیق ہیں۔”

(الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي، رقم 104، جلد 1، ص 188، مطبوعة دار الهدى، ميت غمر، مصر، ١٤٢٣/٢٠٠٣)

*[ کسی ایک صحابی کی بھی برائی کرنے والے کا اسلام مشکوک ہے : امام احمد]*

امام ابن عساکر –رحمہ اللہ– “تاریخ دمشق” میں امام احمد بن حنبل –رحمہ اللہ– کا یہ ارشاد سند صحیح کے ساتھ نقل کرتے ہیں:
عبدُ المَلِك بنُ عَبدِ الحميدِ بنِ عبدِ الحميدِ بنِ مَيمُونِ بنِ مِهرَانَ يَقُولُ :
قَالَ لِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: يَا أَبَا الْحَسَنِ، إِذَا رَأَيْتَ رَجُلًا يَذْكُرُ أَحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ بِسُوءٍ فَاتَّهِمْهُ عَلَى الْإِسْلَامِ.

(حضرت میمون بن مہران تابعی علیہ الرحمہ کے پڑپوتے اور لگ بھگ سو سال کی عمر پانے والے محدث و حافظ، امام) عبد الملک الميمونی رَحِمَہُ اللہُ (متوفی 274ھ) کہتے ہیں:
“امام احمد بن حنبل نے مجھ سے فرمایا: اے ابو الحسن! جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ کسی صحابی کی برائی کر رہا ہے تو اس کے اسلام پر شک کرو۔”
(تاريخ دمشق، 59/209)

*[ امیر معاویہ یا کسی صحابی کے بارے میں جسارت کرنے والا بد باطن ہے : امام احمد بن حنبل ]*

یہی امام ابن عساکر اسی “تاریخ دمشق” میں سند متصل کے ساتھ امام احمد بن حنبل کا یہ ارشاد لکھتے ہیں:
الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللہِ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَنَقَّصَ مُعَاوِيَةَ وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ: أَيُقَالُ لَهُ رَافِضِيٌّ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَجْتَرِ عَلَيْهِمَا إِلَّا وَلَهُ خَبِيئَةُ سُوءٍ، مَا انْتَقَصَ أَحَدٌ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلَّا وَلَهُ دَاخِلَةُ سُوءٍ.
(امام احمد بن حنبل کے خاص شاگرد، ثقہ راوی، اور نمازوں میں ان کی امامت کرنے والے حضرت) فضل بن زیاد القطان کہتے ہیں:
میں نے ابو عبد اللہ (امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ) کو سنا، ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو معاویہ اور عمرو بن العاص –رضی اللہ عنہما– کو برا کہتا ہے، کیا اسے رافضی کہا جائے؟
تو انہوں نے فرمایا: ان دونوں کے بارے میں جرأت و جسارت اس نے نہیں کی مگر (اس لیے کہ) اس میں کوئی نہ کوئی بد باطنی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی ایک کی بھی تنقیص کسی شخص نے نہیں کی مگر (اس لیے کہ) اس کے باطن میں خرابی ہے۔ (تاریخ دمشق، 59/210)
یعنی ان دونوں صحابہ یا کسی صحابی کی تنقیص کی جسارت کرنے والے لوگ بدباطن ہیں۔ اور ان کی بدباطنی ہی انھیں ایسی جسارت پر ابھارتی ہے۔

*[ امیر معاویہ دروازہ ہیں : امام نَسائی ]*

سُئِلَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ (رَحِمَهُ اللہُ) عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ صَاحِبِ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:
“إِنَّمَا الْإِسْلَامُ كَدَارٍ لَهَا بَابٌ، فَبَابُ الْإِسْلَامِ الصَّحَابَةُ، فَمَنْ آذَى الصَّحَابَةَ إِنَّمَا أَرَادَ الْإِسْلَامَ، كَمَنْ نَقَرَ الْبَابَ إِنَّمَا يُرِيدُ دُخُولَ الدَّارِ”. قَالَ: “فَمَنْ أَرَادَ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّمَا أَرَادَ الصَّحَابَةَ”.
[تهذيب الكمال للمِزِّي، ١/٣٣٩،٣٤٠، تحقیق بشار عواد معروف.]

ترجمه : امام نسائی –رَحِمہ اللہ– سے رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت معاویہ بن ابو سفیان –رضی اللہ تعالی عنہما– کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا:
اسلام ایک گھر کی مانند ہے جس کا ایک دروازہ ہوتا ہے، اور اسلام کا دروازہ صحابہ ہیں۔ پس جو شخص صحابہ کو اذیت دیتا ہے، وہ درحقیقت اسلام ہی کو نشانہ بنانا چاہتا ہے، جیسے کوئی آدمی دروازے پر ضرب لگائے/دستک دے تو دراصل وہ گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ چنانچہ جو حضرت معاویہ کو نشانہ بناتا ہے، وہ دراصل تمام صحابہ کو نشانہ بناتا ہے۔

*[ امیر معاویہ صحابہ کا پردہ ہیں : امام ابو توبہ ربيع بن نافع الحلبي ]*

امام شافعی اور امام احمد بن حنبل (رحمھما اللہ) کے ہم زمانہ ایک عظیم بزرگ اور محدث، امام ابو توبہ ربیع بن نافع حلبی رحمہ اللہ(150ھ –241ھ)، ہیں۔ یہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن ابو داؤد کے رجال میں سے ہیں. ثقہ اور حُجت ہیں. اولیا کے طبقۂ ابدال میں ان کا شمار ہوتا تھا.(سير أعلام النبلاء للذھبی)
ان کا ایک ارشاد امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ(متوفی 463ھ) نے “تاریخ بغداد” میں سند صحیح متصل کے ساتھ نقل کیا ہے۔
امام ابو توبہ فرماتے ہیں:
مُعَاوِيَةُ سِتْرٌ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ —صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ— فَإِذَا كَشَفَ الرَّجُلُ السِّتْرَ اجْتَرَأَ عَلَى مَا وَرَاءَهُ۔
ترجمہ : حضرت معاویہ صحابۂ کرام کے لیے پردہ ہیں۔ کوئی شخص جب پردے کو ہٹا دیتا ہے(یعنی امیر معاویہ کی تنقیص کرتا ہے) تو وه پردے کے اس پار کی بھی جرأت کرتا ہے۔(یعنی پھر وہ دیگر صحابہ کی بھی بےادبی اور تنقیص کرتا ہے)
[تاريخ بغداد ١/٢٢٣، دار الكتب العلمية، ط ٢، ١٤٢٥/٢٠٠٤]

*[ امیر معاویہ ہمارے نزدیک لوگوں کو پرکھنے کا معیار ہیں: امام عبد اللہ بن مبارک ]*

امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے معروف شاگرد، امیر الأتقیا، شیخ الاسلام امام عبد اللہ بن مبارک مَروَزِی رضی اللہ تعالی عنہ (118ھ – 181ھ) فرماتے ہیں:
مُعَاوِيَةُ عِنْدَنَا مِحْنَةٌ، فَمَنْ رَأَيْنَاهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ شَزْرًا اتَّهَمْنَاهُ عَلَى الْقَوْمِ، يَعْنِي الصَّحَابَةَ۔
یعنی حضرت معاویہ ہمارے نزدیک پرکھنے کا معیار ہیں۔ جسے بھی ہم پاتے ہیں کہ وہ امیر معاویہ کو ترچھی نظر سے دیکھتا ہے، ہم اسے صحابہ کے بارے میں متہم مانتے ہیں۔ (البداية والنهاية لابن کثیر، تاریخ دمشق لابن عساکر)

یہ اساطینِ ملت اور مقتدایانِ امت کے فیصلے ہیں۔ ایسے اور بھی درجنوں ارشاداتِ اکابر ہیں، مگر ہم نے صرف دوسری اور تیسری صدی ہجری کے اکابر کے کچھ ارشادات پر یہاں اکتفا کیا ہے۔
ہمارے قارئین ان ارشادات کی روشنی میں ان اعتدال کے جھنڈا بردار “مُعتَدِین” کی پوزیشن، اور اکابر کے عقیدے سے ان کے انحراف کو خود سمجھ سکتے ہیں۔

والله الهادي وهو يهدي السبيل.

#نثاراحمدخان
24رجب1447ھ

#NM0008