أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِىۡۤ اَطۡعَمَهُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ۙ وَّاٰمَنَهُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ  ۞

ترجمہ:

جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور ان کو خوف سے امن میں رکھا  ؏

القریش : ٤ میں فرمایا : جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور ان کو خوف سے امن میں رکھا۔

قریش کو کھانا کھلانے اور امن میں کھنے کے اسباب

(١) اللہ تعالیٰ نے قریش کو حرم میں مامون کردیا تو ان کو اپنے تجارتی سفر میں کوئی خطرہ نہ رہا، وہ امن اور چین کے ساتھ تجاری سفر کرتے اور شام اور یمن سے غلہ خرید کر لاتے اور اپنی معیشت اور خوردو نوش کا انتظام کرتے۔

(٢) کلبی نے کہا : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب انہوں نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی تو آپ نے ان کے خلاف یہ دعا کی : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ لوگ آپ کی دعوت ایمان سے رو گردانی کر رہے ہیں تو آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ان کے اوپر قحط کے ایسے سات سال مسلط کر دے، جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں سات سال قحط آیا تھا، پھر ان پر ایسا قحط آیا، جس نے ہر چیز کو ختم کردیا حتیٰ کہ انہوں نے جانوروں کی کھالیں، مردے اور مردار کھا لیے، پھر آپ کے پاس ابوسفیان آیا اور اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اللہ کی اطاعت اور صلہ رحم کا حکم دیتے ہیں اور آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے آپ ان کے لئے اللہ سے دعا کیجیے۔ الحدیث (پھر آپ کی دعا سے مکہ میں بہت بارش ہوئی۔ ) (صحیح البخاری رقم الحدیث، ١٠٠٧ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٥٤ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٨١) لیکن اس استدلال پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے اور یہ سورت مکی ہے۔

(و) اللہ تعالیٰ نییہ ظاہر فرمایا ہے کہ اگر جانوروں کو بھی کوئی شخص کھلائے اور پلائے تو جانور اسی کی اطاعت کرتے ہیں، گویا مشرکین مکہ جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھوک میں کھلایا اور یہ پھر بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت نہیں کرتے۔

(٤) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ قریش جہالت کی بھوک میں مبتلا تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے نبی پر وحی نازل فرمائی، جس سے ان کی جہالت دور ہوگئی گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے قریش مکہ ! تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے جاہل لوگ تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی پر وحی نازل فرمائی، جنہوں نے تم کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دی تحی کہ اب تم کو اہل علم کہا جاتا ہے پھر کھانا کھلانا جسم کی غذا ہے جو کھانا کھلانے والے کے شکر کو واجب کرتا ہے تو جو طعام روح کی غذا ہے، اس طعام کا شکر ادا کرنا کیوں کر شکر کا سبب نہیں ہوگا !

اللہ تعالیٰ نے قریش مکہ کو خوف سے امن میں رکھا، اس کی بھی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) قریش، مکہ سے مختلف شہروں کا سفر کرتے تھے اور ان کو اپنے سفر میں کسی ڈاکے یا لوٹ مار کا خطرہ نہتھ ا، ان کو اپنے سفر میں کسی خطرے کا سامنا نہیں ہوتا تھا جب کہ دوسرے لوگ جو دور دراز کے شہروں کا سفر کرتے تھے، ان کو بہت خطرات پیش آتے تھے، اس معنی میں یہ آیت نازل ہوئی ہے :

(العنکبوت : ٦٧) کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو پرامن بنادیا ہے حالانکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لئے جاتے ہیں (یعنی قتل و غارت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ )

(٢) اللہ تعالیٰ نے ” اصحاب الفیل “ کو ہلاک کر کے ان کے شہر کو اور ان کے سفر کو مامون بنادیا ہے۔

(٣) ضحاک اور ربیع نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان کو جذام کی بیماری سے مامون کردیا، اسی وجہ سے مکہ مکرمہ کے باشندوں پر کبھی جذام نہیں آیا۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 295-300 ملحضاً و موضحاً و محرجاً داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 106 قريش آیت نمبر 4