اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِيۡلِؕ سورۃ نمبر 105 الفيل آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Saturday، 17 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِيۡلِؕ ۞
ترجمہ:
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟۔ کیا اس نے ان کے مکر کو باطل نہیں کردیا ؟۔ (الفیل : ٢-١)
” اصحاب الفیل “ کو آپ کا دیکھنا متصو نہیں تھا پھر کیوں فرمایا : کیا آپ نے نہیں دیکھا ؟
الفیل : ١ میں فرمایا ہے : کیا آپ نے نہیں دیکھا حالانکہ یہ واقعہ آپ کی بعثت سے چالیس سال پہلے ہوا تھا، تو جو واقعہ آپ کی پیدائش سے پہلے رونما ہوا ہو، اس کو آپ کیسے دیکھ سکتے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں یہ اشارہ ہے کہ پرندوں کے کنکریاں پھینکنے کا واقعہ تواتر سے ثابت تھا اور اس کا علم عرب میں ہر کس و ناکس کو ہوچکا تھا اور اس کا علم ایسا ہی یقینی تھا جیسا کہ کسی چیز کو دیکھ کر علم ہوتا ہے، پس کیا آپ نے نہیں دیکھا ؟ یہ اس معنی میں ہے : کیا آپ نے نہیں جانا ؟ لیکن چونکہ اس کا علم مشاہدہ کی طرح یقینی تھا، اس لئے فرمایا : کیا آپ نے نہیں دیکھا ؟
پرندوں سے ابرھہ کے لشکر کو فنا کرنا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارہاص تھا
پرندوں کے کنکریاں مارنے کا واقعہ اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت پر دلیل ہے اور اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شرف کا ظہور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت سے پہلے آپ کے لئے ایک خلاف عادت اور خلاف معمول امر ظاہر فرمایا اور نبی کی بعثت سے پہلے بھی معجزہ کا ظہور جائز ہے اور اس کو اصطلاح میں ارہاص کہتے ہیں۔
کفار جو آسمانی عذاب آتے رہے ہیں، مثلاً قوم عاد کو آندھی سے ہلاک کردینا اور کفار کی بعض قوموں کو زلزلوں سے ہلاک کردینا، بعض دہریے ان کا انکار کرت ہیں، لیکن پرندوں نے جو اپنی چونچ اور پنجوں میں کنکریاں لی ہوئی تھیں اور ان کے انہوں نے ابرھہ کی فوج پر اس طرح مارا کہ کنکر جس کے سر پر لگتا اس کی مقعد سے نکل جاتا اور ہر کنکر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا، جس کے سر پر وہ کنکر مارا جاتا تھا اور یہ ایسی چیز ہے کہ اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں کوئی شعبدہ یا کوئی حیلہ ہے، اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ احادیث ضعیفہ کی طرح ہے کیونکہ جس سال ہاتھیوں والا واقعہ ہوا تھا، اسی سال ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت ہوئی تھی اور اس کے چالیس سال بعد آپ نے پانی نبوت کا اعلان کیا اور اس کے چھ دن بعد ہی مکہ میں یہ سورت نازل ہوئی، اگر بالفرض یہ واقعہ نہ ہوا ہوتا تو مکہ میں آپ کے بہت مخالفین تھے، وہ سب آسمان سر پر اٹھا لیتے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا اور جب کسی نے اس سورت کے نازل ہونے کے بعد اس کی تکذیب نہیں کی تو معلوم ہوگیا یہ واقعہ سب کے نزدیک تلیم شدہ اور معروف تھا، لہٰذا یہ واقعہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر زبردست دلیل ہے اور یہ وہ معجزہ ہے جو آپ کے اعلان نبوت سے پہلے ظاہر ہو۔
ہم نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ آپ کی بعثت سے چالیس سال پہلے ہوا تھا، اس کی دلیل یہ حدیث ہے :
حضرت قیس بن مخرمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہاتھیوں کے لشکر والے سال میں پیدا ہوئیت ہے، ہماری پیدائش ایک سال میں ہوئی ہے۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٢١٥ طبع قدیم، مسند احمد ج ٢٩ ص ٤٢٢ رقم الحدیث : ١٧٨٩١، موسستہ الرسالتہ، بیروت ١٤١٩ ھ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦١٩ الاحادو المثانی ج ١ ص ١٤٧٨ المعجم الکبیرج ١٨ رقم الحدیث : ٨٧٢ المستدرک ج ٢ ص ٦٠٣ دلائل انبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث : ٨٥ دلائل انبوۃ للبیہقی ج ١ ص ٧٧-٧٦ الطبقات الکبریٰ ج ١ ص ١٠١)
” اصحاب الفیل “ سے انتقام لینے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت کے نکات
امام رازی لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ نے یا رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ بلکہ لکھا ہے آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کفار مکہ نے دیکھا کہ جو لوگ کعبہ گرانے آئی تھے، ان یس اللہ سبحانہ نے کس طرح انتقام لیا، پھر بھی انہوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی، اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے اس واقعہ کا مشاہدہ نہیں کیا، پھر بھی آپ نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کر کے اس کا شکر ادا کیا اور اس کی اطاعت اور عبادت کی، پس گویا کہ آپ نے اللہ سبحانہ کا یہ انتقام دیکھا، سو آپ ان کفار سے بری ہوگئے اور میں نے سب لوگوں میں سے آپ کو پسند کر کے چن لیا، پس میں کہتا ہوں : ” ربک “ یعنی میں آپ کا رب ہوں اور آپ کا حامی اور ناصر ہوں نہ کسی اور کا اور اس میں دوسرا اشارہ یہ ہے کہ میں نے اصحاب الفیل سے جو یہ اتنقام لیا ہے، وہ محض آپ کے اکرام اور آپ کی تعظیم کے لئے لیا ہے اور آپ کی آمد کی عزت افزائی کے لئے، پس جب میں نے آپ کی آمد سے پہلے آپ کی تکریم کی ہے تو آپ کے ظہور کے بعد میں آپ کی حمایت اور نصرت کیوں نہ کروں گا اور اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے یہ بشارت ہے کہ آپ ضرور فتح مند اور کامیاب اور سرخ رو ہوں گے۔
فرمایا : کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپکے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کعبہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابع ہے، کعبہ صدف اور سیپی کی طرح ہے اور آپ اس میں متوی کی طرح ہیں، سو جب کسی نے کعبہ کو نقصان پہنچانے کا قصد کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے انتقام لیا، تو ولید بن مغیرہ اور اخنس بن شرق جو آپ کو طعنے دے کر اور آپ کے عیب نکال کر آپ کو ایذاء پہنچاتے ہیں اور آپ کا دل دکھاتے ہیں، حالانکہ آپ باعث تخلیق کائنات ہیں تو میں ان کو کیوں نہ سزا دوں گا اور ان کی گرفت کیوں نہ کروں گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ کبہ آپ کی نمازوں کا قبلہ ہے اور آپ کا دل آپ کی معرفت رب کا قبلہ ہے تو جب میں نے آپ کے اعمال کے قبلہ کی دشمنوں سے حفاظت کی ہے تو میں آپ کے عقائد کے قبلہ کی دشمنوں سے حفاظت کیوں نہ کروں گا اور آپ کی ذات سے عداوت رکھنے والوں کو ملیامیٹ کر دوں گا۔
ابرھہ کے لشکر کا ہاتھیوں سے بھی کم درجہ ہونا
اس آیت میں ” اصحاب الفیل “ فرمایا ہے “ ” ارباب الفیل “ (ہاتھویں کے مالکوں) نہیں فرمایا کیونکہ ” اصحاب “ جب کسی چیز کی طرف مضاف ہو تو وہ مضاف الیہ کی جنس سے ہوتا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ ابرھہ اور اس کا لشکر ہاتھیں کی جنس سے تھا یعنی جس طرح ہاتھی حیوان اور بےعقل ہیں، اسی طرح ابرھہ اور اس کا لشکر بھی حیوانوں کی طرح بےعقل تھا، ورنہ وہ اللہ سبحانہ کے گھر کو گرانے کے لئے نہ آتا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جب دو شخصوں میں مصاحبت ہو تو ان میں سے ادنی کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ کا صاحب ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحب ہیں، یہ نہیں کہ جاتا کہ آپ ان کے صاحب ہیں اور جو لوگ آپ کی صحبت میں رہے ان کو صحابہ کہا جاتا ہے، پس ابرھہ اور اس کے لشکر کو ’ داصحاب الفل “ فرمایا یعنی وہ ہاتھیوں سے بھی ادنیٰ درجہ کے ہیں کیونکہ جب انہوں نے ہاتھیوں کو مکہ کی طرف چلانا چاہاتو ہاتھی بیٹھ گئے اور ان کی ہزار کوشش کے باوجود وہ مکہ کی طرف ایک قدم بھی نہیں چلے، اس سے معلوم ہوا کہ ہاتھیوں کو یہ معرفت تھی کہ خالق کی معصیت اور اس کے خلاف بغاوت میں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاتی اور ابرھہ اور اس کا لشکر اس معرفت سے خالی تھے، وہ خالق سے بغاوت کرنے اور اس کا گھر گرانے چلے تھے، اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا :
اولئک کالا نعام بل ھم اصل (الاعراف : ١٧٩) یہ کفار جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے زیادہ گم راہ ہیں۔
کعبہ میں بت پرستی کرنے والوں کو فوراً عذاب نہیں دیا تو ابرھہ کے لشکر کو فواً عذاب کیوں دیا ؟
کفار کعبہ میں بت پرستی کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام نہیں لیا اور ابرھہ نے کعبہ کی دیواروں کو گرانے کا قصد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا، امام رازی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ کعبہ میں بت پرستی کرنے والے اللہ تعالیٰ کے حق میں کمی اور تعدی کرتے ہیں اور کعبہ کی دیواریں گرانے سے مخلوق کے حق میں کمی اور تعدیھی اور بعض اوقات مخلوق کے حق میں کمی اور تعدی کو برداشت نہیں کیا جاتا، جیسے ڈاکو، باغی اور قاتل خواہ مسلمان ہوں، ان کو قتل کردیا جاتا ہے اور جہاد میں جو کافر بوڑھا ہو یا اندھا ہو یا بچہ ہو یا عورت ہو، اس کو قتل نہیں کیا جاتا، کیونکہ وہ مخلوق کو ضرر نہیں پہنچاتے۔
مصنف کے نزدیک اس اعتراض کا یہ جواب ہے کہ جو لوگ کعبہ میں بت پرستی کرتے تھے، وہ لوگ اگرچہ مشرک تھے، لیکن بیت اللہ کی تعظیم کرتے تھے اور اس کا طواف کرتے تھے اور چونکہ ان کی نیت بیت اللہ کی تعظیم تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے عذاب کو آخرت میں رکھا اور دنیا میں مئوخر کردیا اور ابرھہ اور اس کے لشکر کی نیت بیت اللہ کی توہین اور اس کی تخریب تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی ان کو پرندوں سے ہلاک کرا دیا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 105 الفيل آیت نمبر 1