أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَلَّا‌ لَيُنۡۢبَذَنَّ فِى الۡحُطَمَةِ ۞

ترجمہ:

ہرگز نہیں ! وہ چورا چورا کردینے والی (آگ) میں جھونک دیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہرگز نہیں ! وہ چورا چورا کردینے والی (آگ) میں جھونک دیا جائے گا۔ اور آپ کیا سمجھے کہ چورا چورا کردینے والی (آگ) کیا ہے ؟۔ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی (آگ) ہے۔ جو دلوں پر چڑھ جائے گی۔ وہ (آگ) ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی۔ لمبے لمبے ستونوں میں۔ (الھمزۃ ٩-٤)

” الحطمۃ “ کا معنی

الھمزۃ : ٤ میں ” الحطمۃ “ کا لفظ ہے، جس کا ترجمہ ہم نے چورا چورا کرنے والی کیا ہے۔

کتب لغت میں اس کے یہ معنی مذکور ہیں : ریزہ ریزہ چورا چورا جو چیز ٹوٹ پھوٹ کر چورا چورا ہوجائے یہ ” حطم “ سے بنا ہے، جس کا معنی ہے : کسی چیز کو توڑنا اور کوٹنا ” الحطمۃ “ دوزخ کے ایک بقہ کا نام ہے۔ (القاموس المحیط ص ١٠٩٥ مئوسستہ الرسالتہ، بیروت، ٤٤٤ ھ مختار الصحاح ص ٩٦ داراحیاء التراث العربی الاسلامی بیروت ١٤١٩ ھ)

اس آیت میں فرمایا ہے : ہرگز نہیں ! اس میں اس کافر کے مزعوم کا رد فرمایا ہے یعنی نہ وہ خود دنیا میں ہمیشہ رہے گا نہ اس کا جمع کیا ہوا مال باقی رہے گا اور اس کو رسوا کرتے ہوئے ” الحطمۃ “ میں جھونک دیا جائے گا ” الحطمۃ “ دوزخ کی آگ کا وہ طبقہ ہے جہاں اس کو توڑ پھوڑ کر پیس ڈالا جائے گا، اس طبقہ کو ” احطمۃ “ اس لئے فرمایا ہے کہ اس میں جو کچھ بھی ڈالا جائے وہ اس کو توڑ پھوڑ کر چورا چورا کردیتا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 104 الهمزة آیت نمبر 4