لِاِيۡلٰفِ قُرَيۡشٍۙ سورۃ نمبر 106 قريش آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Saturday، 17 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لِاِيۡلٰفِ قُرَيۡشٍۙ ۞
ترجمہ:
قریش کو رغبت دلانے کے لئے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قریش کو رغبت دلانے کے لئے۔ انہیں سردی اور گرمی کے (تجارتی) سفر سے مانوس کیا۔ پس انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور ان کو خوف سے امن میں رکھا۔ (القریش : ٤-١)
قریش کے فضائل
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دین میں لوگ قریش کے تابع ہیں، مسلمان مسلمان کے تابع ہیں اور کافر کافر کے تابع ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٩٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨١٨ مسند حمد ج ١ ص ١٠١)
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگخیر اور شر میں قریش کے تابع ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨١٩، مسند احمد ج ٣ ص ٣٧٩)
حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہفرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام بارہ خلفاء تک مسلسل غالب رہے گا، وہ کل خلفاء قریش سے ہوں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٢٢٢ صحیح مسلم الحدیث : ١٨٢١ مسند احمد ج ٥ ص ١٠١)
حضرت عسد (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نیقریش کو ذلیل کرنے کا ارادہ کیا، اللہ اس کو ذلیل کر دے گا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث، ٣٩٠٥، مسند حمد ج ١ ص ١٧١)
حضرت ام ہانیء بنت ابی طالب (رض) ہما بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سات وجوہ سے قریش کو فضیلت دی ہے : (١) میں قرش میں ہوں (٢) نبوت ان میں سے ہے (٣) حجابت ان میں ہے (٤) زمزم سے پانی پلانے کا منصب ان میں ہے (٥) ” اصحاب الفیل “ کے خلاف اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی (٦) انہوں نے دس سال اللہ سبحانہ کی عبادت کی، اس وقت ان کے علاوہ اور کوئی عبادت نہیں کرتا تھا (٧) اللہ سبحانہ نے ان کے متعلق قرآن مجید کی ایک سورت نازل کی، پھر آپ نے اس کی تلاوت کی :” بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لایلف قریش۔ الفھم رحلۃ ایشتآء والصیف۔ فلیعبدوا رب ھذا البیت۔ الذی اطمعھم من جوع وامنھم من خوف۔ “ (القریش ٤-١) حاکم نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے، مگر شیخان نے اس کو روایت نہیں کیا، ذہبی نے کہا : اس کی سند میں یعقوب ضعیف راوی ہے اور ابراہیم کی روایات منکر ہیں (المستدرک ج ٢ ص ٥٣٦ طبع قدیم المستدرک رقم الحدیث، ٣٩٧٥ المکتبۃ العصریہ، کنز الاعمال ج ١٢ ص ٢٧ )
القریش کا الفیل کے ساتھ مربوط ہونا
زجاج اور ابوعبیدہ نے کہا : ” لایلف قریش ‘ پہلی سورت کے ساتھ مربوط ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ” اصحاب الفیل “ کو اس لئے ہلاک کیا تاکہ قریش باقی رہیں، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اصحاب الفیل کو ہلاک کردیا اور ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا تو وہ ان کے کفر کی سزا تھی، نہ اس لئے کہ اس سے قریش کی حمایت مقصود تھی، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ان کے کفر کی سزا نہیں تھی کیونکہ کفر کی سزا تو اللہ تعالیٰ نے روز قیامت تک کے لئے مئوخر کی ہوئی ہے، اگر یہ کوئی سزا ہوتی تو اللہ تعالیٰ تمام کافروں کو یہ سزا دیتا، اللہ تعالیٰ نے ابرھہ کے لشکر کو جو ہلاک کیا تھا وہ قریش کی قدر افزائی کے لئے کیا تھا۔
القریش اور الفیل الگ الگ سورتیں ہیں یا نہیں ؟
بعض علماء نے کہا کہ ” لایلف قریش “ اس سیپ ہلی سورت ” الم ترکیف “ کے ساتھ مربوط ہے کیونکہ سورة القریش الگ سورت نہیں ہے، بلکہ الفیل اور القریش دونوں مل کر ایک سورت ہیں اور القریش مستقل سورت نہیں ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابی بن کعب کے مصحف میں ان دونوں کو ایک سورت قرار دیا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن بن کعب کے مصحف کا اعتبار نہیں ہے بلکہ حضرت عثمان (رض) کے مصحف کا اعتبار ہے اور اس پر اجماع ہے، دوسری دلیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر نے مغرب کی پہلی رکعت میں والتین پڑھی اور دوسری رکعت میں الفیل اور القریش ملا کر پڑھیں، اس سے معلوم ہو کہ یہ دونوں ایک سورت ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ امام کے لئے جائز ہے کہ وہ ایک کعت میں دو سورتوں کو ملا کر پڑھے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ دونوں ایک سورت ہیں۔
قریش کو تجارتی سفر پر راغب کرنے کی توجیہ
اس میں دوسری بحث یہ ہے کہ قریش کو تجارتی سفر پر راغب کرنے کے لئے ” اصحاب الفیل “ کو ہلاک کیا گیا، اس کا کیا سبب ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مکہ مکرمہ غیر زرعی شہر تھا اور مکہ کے سردار سردی اور گرمی میں تجارتی سفر کیا کرتے تھے اور اسی تجارت پر ان کا معاشی انحصار تھا، وہ اس تجارت کے ذریعہ اہل مکہ کی ضرورت کی چیزیں خرید کر لاتے تھے اور مکہ کے گرد و نواح کے لوگ اہل مکہ کی بہت تعظیم کرتے تھے، وہ کہتے تھے : یہ بیت اللہ کے پڑوسی اور حرم کے رہنے والے ہیں اور کعبہ کے متولی ہیں اور ان کو اہل اللہ کہا جاتا تھا، اگر ابھہ کا لشکر کعب کو گرا دیتا تو ان کی یہ عزت اور حرمت جاتی رہتی اور اہل حبشہ مکہ میں لوٹ مار مچا دیتے اور یہ شہر ویران اور کھنڈر ہوجاتا اور چونکہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی شہر میں پیدا ہونا تھا اور اسی شہر میں مبعوث ہونا تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی شہر میں آپ کی بعثت کی دعائیں کی تھیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے قریش کے دلوں کو سردی کے موسم میں یمن کے سفر کی طرف مائل کیا اور گرمی کے موسم میں شام کے سفر کی طرف مائل کیا۔
قریش کی وجہ تسمیہ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نسب
قریش کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ قرش سمندر کے ایک بڑے جانور کا نام ہے جو کشتیوں سے کھیلتا ہے، حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ (رض) نے ان سے قریش کی وجہ تسمیہ دریافت کی تو انہوں نے کہا : قریش قرش کی تصفیر ہے، قرش سمندر کا ایک طاقتور جانور ہے، جو دوسرے جانوروں کو کھا جاتا ہے لیکن اس کو کوئی نہیں کھاتا، وہ ہمیشہ غالب رہتا ہے اور کبھی مغلوب نہیں ہوتا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی قبیلہ قریش میں پیدا ہوئے تھے، حدیث میں ہے :
حضرت واثلتہ بنالاسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہفرماتے ہوئے سنا ہے بیشک اللہ عزوجل نے حضرت اسماعیل کی اولاد سے کنانہ کو چن لیا اور کنانہ کی اولاد میں سے قریش کو چن لیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو چن لیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے چن لیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2276)
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو چن لیا اور حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے بنو کنانہ کو چن لیا اور بنو کنانہ سے قریش کو چن لیا اور قریش سے بنو ہاشم کو چن لیا اور بنو ہاشم سے مجھے چن لیا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٠٥ مسند احمد ج ٤ ص ١٠٧)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 106 قريش آیت نمبر 1
[…] تفسیر […]