نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ – سورۃ نمبر 104 الهمزة آیت نمبر 6
sulemansubhani نے Saturday، 17 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ ۞
ترجمہ:
وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی (آگ) ہے
الھمزۃ : ٦ میں فرمایا : وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی (آگ) ہے۔
دوزخ کی آگ کی شدت
یعنی یہ وہ آگ ہے جو کبھی سرد نہیں ہوتی۔ یہ دنیا کی جلائی ہوئی آگ کی طرح نہیں ہے، جو بالاخر بجھ جاتی ہے، اس کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جلایا گیا ہے، حدیث میں ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری آگ جہنم کی آگ کا ستر واں حصہ ہے، کہا گیا : یا رسول اللہ ! یہ آگ بھی کافی تھی، آپ نے فرمایا : جہنم کی آگ تمہاری آگ پر انہتر درجہ زیادہ ہے۔ الحدیث (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٦٥ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٨٩ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣١٨ مسند احمد ج ٢ ص ٣١٣ سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٨٤٧ )
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑ کایا گیا، حتیٰ کہ وہ سرخ ہوگئی، اس کو پھر ایک ہزار سال تک بھڑ کایا گیا حتیٰ کہ وہ سفید ہوگئی، اس کو پھر ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا حتیٰ کہ وہ سیاہ ہوگئی، پس وہ سیاہ اندھیری ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٩٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٢٠ )
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فمایا : دوزخ میں صرف شقی داخل ہوگا، پوچھا گیا : یا رسول اللہ ! شقی کون ہے ؟ فرمایا : جو اللہ (کی رضا) کے لئے کوئی طاعت نہ کرے اور اللہ (کے خوف سے) کوئی گناہ ترک نہ کرے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٩٨ مسند احمد ج ٢ ص ٣٤٩ )
القرآن – سورۃ نمبر 104 الهمزة آیت نمبر 6