وَيۡلٌ لِّـكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ سورۃ نمبر 104 الهمزة آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Saturday، 17 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَيۡلٌ لِّـكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ۞
ترجمہ:
ہر طعنہ زن عیب جو کے لئے ہلاکت ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہر طعنہ زن عیب جو کے لئے ہلاکت ہے۔ جس نے مال جمع کیا اور اسے گن گن کر رکھا۔ وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ (زندہ) رکھے گا۔ (الھمزہ : ٣-١)
سورۃ الھمزۃ کا شان نزول
امام الحسین بن مسعود الفراء البغوی المتوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :
اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ اس سورت میں طعنہ زن اور عیب جو کے لئے جو وعید ذکر کی گئی ہے وہ ہر طعنہ زن اور عیب جو کے لئے ہے، یا مخصوص طعنہ دینے والوں کے لئے ہے، محققین نے کہا : یہ وعید ہر طعنہ زن عیب جو کے لئے ہے، کیونکہ کسی آیت کے سبب کی خصوصیت عام حکم سے مانع نہیں ہوتی۔
دوسرے علماء نے کہا ہے : یہ وعید اخنس بن شریق کے متعلق نازل ہوئی ہے، جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بالخصوص طعنے دی تا تھا اور آپ کی عیب جوئی کرتا تھا اور یدگر لوگوں کی بالعموم عیب جوئی کرتا تھا اور انہیں طعنے دیتا تھا، اور امام محمد بن احساق نے کا : ہم ہمیشہ سے یہ سنتے رہے ہیں کہ سورة الھمزۃ امیہ بن خلف جمحی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
مقاتل نے کہا : یہ سورت الولید بن المغیرہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، جو پس پشت آپ کے عیب نکالتا تھا اور آپ کے منہ پر آپ کو طعنے دیتا تھا۔ (تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٥١٧، دارالکتب العلمیہ، بیروت ١٤١٤ ھ)
مجاہد نے کہا : یہ آیت ہر اس شخص کے متعلق عام ہے، جس میں یہ صوف پایا جائے۔ (معالم التنزیل ج ٥ ص ٣٠٣ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢٠ ھ)
” الھمزۃ “ اور ” المزۃ “ کے معانی
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ان دونوں لفظوں کا معنی ہے : چغلی کھانے والے اور دوستوں کے درمیان فساد ڈالنے والے اور بےعیب لوگوں میں عیب تلاش کرنے والے۔
حضرت اسماء بنت یزید بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تم کو ان لوگوں کی خبر نہ دوں جو تم میں سب سے اچھے ہیں ؟ مسلمانوں نے کہا : کیوں نہیں، یا رسول اللہ ! ، آپ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کی یاد آجائے، پھر فرمایا : کیا میں تم کو ان لوگوں کی خبر نہ دوں جو تم میں سب سے برے ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو چغلی کھاتے ہیں اور دوستوں کے درمیان پھوٹ اور فساد ڈالتے ہیں اور جو لوگ عیب سے بری ہوں ان میں عیب نکالتے ہیں۔ (مسند احمد ج ٦ ص ٤٥٩ طبع قدیم، مسند احمد ج ٤٥ ص ٥٧٥ رقم الحدیث : ٢٧٥٩٨ مئوسستہ الرسالتہ، بیروت ١٤٢١ ھ یہ حدیث اپنے شواہد کے ساتھ حسن ہے، المعجم الکبیرج ٢٤ رقم الحدیث : ٤٢٣، الادب المفرد للبخاری رقم الحدیث : ٣٢٣ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٤١٩ حلیتہ اولیاء ج ١ ص ٦ شعب الایمان رقم الحدیث : ١١١٠٧ حافظ الہیثمی نے کہا : اس حدیث کی متعدد ائمہ نے توثیق کی ہے اور شہر بن حوشب کے علاوہ تمام رجال صحیح ہیں، مجمع الزوائد ج ٨ ص ٩٣)
اور حضرت ابن عباس سے ایک روایت یہ ہے کہ ” ھمزۃ “ چغل خور ہے اور ” لمزۃ “ عیب نکالنے والا ہے اور ابوالعالیہ، انسان کے پس پشت اس کی برائی بیان کرے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص ١٦٤ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)
کفار کی عام روش یہ تھی کہ جب وہ کسی کمزور اور غریب آدمی سے بات کرتے تو اس کے منہ پر اس کو برا کہتے تھے اور جب کرتے تھے، غرض وہ ” ھمزۃ “ بھی تھے اور ” لمزۃ “ بھی تھے، چونکہ کسی کے سامنے اس کی برائی بیان کرنے میں یہ امکان تھا کہ وہ اپنی مدافعت کرے گا اور پس پشت اس کی برائی بیان کرنے میں یہ خطرہ نہ تھا، اس لئے وہ پس پشت برائی زیادہ کرتے تھے۔ غیب کے متعلق ہم نے الحجرات کی تفسیر میں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 104 الهمزة آیت نمبر 1