اڈیالہ جیل کے فضائل انجنئیر محمد علی مرزا کی زبان سے
اڈیالہ جیل کے فضائل انجنئیر محمد علی مرزا کی زبان سے
103 دن نا حق قید گزارنے کے بعد انجینئر محمد علی مرزا نے کئی یوٹیوبرز اور نیوز چینل کو انٹرویو دیئے ۔ استاد محترم انجینئر محمد علی مرزا کا حق تھا کہ وہ انٹرویوز دے ویسے بھی اب انکو کون نہیں جانتا
انکی پہچان انکا نعرہ ہے
بابے تے شے ای کوئی نئیں
مجھے بھی زندگی میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع انجینئر محمد علی مرزا سے ہی ملا یہ ان کا مجھ پر احسان رہے گا
ایک بار ملاقات اور ایک مرتبہ آن لائن ملاقات بھی ہو چکی ہے
اب بات کرتے ہیں اڈیالہ جیل کے فضائل کے حوالے سے جو انجینئر نے اپنے انٹرویوز میں شد و مد سے بیان کیئے
پچھلے 14 ماہ سے میرے والد محترم ایک جعلی بے بنیاد مقدمے میں ( جو کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیئے تفصیلات میں نہیں جاؤنگا) اڈیالہ جیل میں قید ہے
کم و بیش 20 بار اڈیالہ جیل کے چکر لگا چکا ہو اور 50 مرتبہ استعمال کا سامان جیل بھجوا چکا ہو نگا
سب سے پہلے پی سی او سروس کی بات کرتے ہیں تو ہاں ہر قیدی کو 20 منٹ ہفتے میں دیئے جاتے ہیں نہ کہ 40 منٹ انجینئر صاحب ویڈیوز میں بار بار 40 منٹ کا بتا رہے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر قیدی کو ہفتے میں ایک دن 20 منٹ کال کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور پی سی او تک جانے کیلئے آپ کو چیف کوجو بیرک کا بادشاہ ہوتا ہے اس کو 1000 روپے رشوت آن لائن دینی ہوتی ہے رسیدیں میرے پاس موجود ہے
پی سی او کا ٹھیکہ بھی جیل میں ایک طاقتور قیدی کے پاس ہوتا ہے 500 روپے اس کو رشوت الگ سے دینا ہوتی ہے
جیل کے کھانے کے حوالے سے استاد محترم محمد علی مرزا صاحب نے ایسا منظر نامی پیش کیا گویا کوئی فائیو اسٹار ہوٹل ہو جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں اڈیالہ جیل میں کھانا جو بنتا ہے وہ انسان تو دور جانور بھی نہیں کھا سکتے پتا نہیں انجینئر صاحب کو صاف ستھرا معیاری کھانا کون سا big brother فراہم کررہا تھا جیل میں معیاری کھانے کی رشوت الگ سے دینا پڑتی ہے پھر ہی سب اچھا کی آواز آتی ہے فری میں اچھا کھانا انسانوں والی خوراک کسی کو نہیں ملتی
استاد محترم بتا رہے تھے کہ جیل میں استعمال کا سامان آسانی سے قیدی کو مل جاتا ہے جو کہ ایک جھوٹ ہے سامان اندر بیرک میں موجود قیدی تک سامان پہنچانے کی ایک الگ رشوت 2000 روپے تک ہے جیل میں انٹری کی رشوت 500 ہے اور سامان کو تلاشی سے بچانے مطلب کہ سیکیورٹی اہلکار سامان نکال لیتے ہیں ان سامان نکالنے والی مخلوق سے بچنے کی رشوت 2000 فکس ہے
صفائی کے حوالے سے استاد جی فرما رہے تھے تو ذرا صرف 2023 24 اور 25 کا ریکارڈ نکال کر دیکھیں کہ کتنے قیدی صحت و صفائی کے مسائل کی وجہ سے انتقال کر چکے ہیں میرے پاس 35 قیدیوں کی تعداد ہے
اسکے علاؤہ قیدیوں سے بستر کمبل چھین لیئے جاتے ہیں اور واپسی کی رشوت 5000 تک ہے جو بادشاہ سلامت یعنی بیرک چیف کو ملتی ہے
جیل بیرک میں سونے کی جگہ حاصل کرنے کیلئے آپکو ماہانہ 15000 ہزار رشوت دینی ہوتی ہے کیونکہ 60 قیدیوں کی جگہ 180 قیدی جانور سمجھ کر اندر ڈالے جاتے ہیں
انجینئر صاحب آپ جس چکی میں تھے اس میں اور عام بیرک جہاں انسانوں کو جانوروں کی طرح رکھا جاتا ہے بہت فرق ہے
جس جگہ آپ قید تھے اور جہاں عام پاکستانی سمیت میرا باپ اسیر ہے وہ دونوں الگ جہان ہے بلکہ وکھراں جہان ہے
آپ میرے اور لاکھوں پاکستانیوں کے استاد ہے مجھے یہ کہنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا کہ میرے والد بھی آپکو سنتے تھے اور آج بھی جیل سے تو کبھی پیشی پر آپ کا پوچھتے ہیں
بس انجینئر بھائی میں صحافت کا ایک ادنیٰ سا اسٹوڈنٹ ہوں آپ کو ایک نصیحت تو کرسکتا ہوں کہ اپنی بات اور دعوے کو حرف آخر نہ سمجھا کریں
آپ جس جیل کو دیکھ کر آئے ہیں وہ کوئی اور جیل ہے اور جس جیل میں میرے والد اور ہمارے پاکستانی قید ہے وہ والا اڈیالہ الگ ہے
رشوت کا بازار گرم ہے حرامخوری عروج پر ہے ہر چیز پر ہر لمحے اور ہر سیکنڈ کی رشوت ہے
محمد علی مرزا صاحب اڈیالہ میں سب اچھا نہیں ہے
آپ بہت خوش نصیب ہے اللہ نے آپکو جلد مشکل سے نکال دیا اور اب آپ ویڈیوز انٹرویوز میں جیل کے فضائل سنا رہے ہیں یہ فضائل سنا کر آپ میرا اور ہزاروں پاکستانیوں کا جن کے عزیز پابند سلاسل ہے انکے زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں
علی بھائی کبھی کبھی مان جایا کریں کہ آپ غلط ہے غلطی تو ہر انسان سے ہو جاتی ہے بڑی عظیم ہستیوں کی غلطیوں کو قرآن میں بیان کیا گیا ہے تو اگر آپ نے غلطی کر دی یا غلط بیانی کر دی یا ہوگئی تو کیا ہوا
پھر بھی اگر کوئی کچھ کہے تو آپ بس اتنا کہا کریں
انجینئر تے شے ای کوئی نئیں
بقلم خود : سلیم صحافی (آپ کا اسٹوڈنٹ)
#EngineerMuhammadAliMirza #AdialaJail #ImranKhanPTI