شف شف کا اصلی موجد
شف شف کا اصلی موجد
ان موصوف کا نام مسنجف علی تھا،ان کا تعلق کوٹلی ستیاں کے نواحی علاقہ بلاوڈا شریف سے تھا-
سابقے لاحقے اور ذائقے ملا کر پورا نام نامی اسم گرامی کچھ یوں بنتا ہے –
سراج السالکین ،عمدة الواصلين، قیوم ِ زماں ،قلندر ِ دوراں حضرت صوفی پیر صوبیدار میجر ریٹائرڈ مسنجف علی المعروف بڑے سرکار والیَ بلاوڈہ شریف –
ان موصوف کے ساتھ ہم نے ناحق خطیب کی تصویر کیوں لگا دی یہ ہم پوسٹ کے آخری حصے میں بتائیں گے-
ہمارے ممدوح حضرت پیر مسنجف علی سرکار نے اپنی عملی زندگی کا آغاز فوج میں ملازمت سے کیا،پانچ پنجاب رجمنٹ کا حصہ بنے یہ ترقی کرتے صوبیدار میجر کے عہدے تک پہنچے،سقوط مشرقی پاکستان کے وقت یہ ہتھیار ڈالنے والے نوے ہزار فوجیوں میں شامل تھے لیکن اپنی کرامت سے یہ فرار ہو کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے –
مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالنے والوں کا فوج میں کوئی مستقبل نہیں تھا سو ہمارے ممدوح نے اپنا کاروبار شروع کیا،یہ کاروبار تھا پیری مریدی کا –
چنانچہ کوٹلی ستیاں کے نواحی علاقے میں بلاوڈہ شریف کے نام سے ایک دربار کھولا گیا –
لنگر کا سلسلہ شروع کیا گیا ،دور دور تک مارکیٹنگ کی گئی کہ حضرت پیر مسنجف علی سرکار لنگر تقسیم تو کرتے ہیں لیکن خود کچھ نہیں کھاتے،کرامت تیار ہوچکی تھی مارکیٹ میں سیل کی گئی کہ حضرت نے تین سالوں سے کچھ نہیں کھایا ہے،اسکی خبر مدینے میں حضور پاک کو ہوئی پوچھا مسنجف تین سال سے کچھ نہیں کھایا ؟
مسنجف نے جواب دیا حضور آپ نے لنگر تقسیم کرنے کیلئے کہا تھا خود کھانے کیلئے نہیں –
ایک شف سے پورے مجمعے کو بھگتانے کا موجد یہی صاحب تھے یہ اپنے دور میں ایک شف سے پچاس ہزار کے مجمعے کو بھگتا چکے تھے لیکن تب سوشل میڈیا نہیں تھا اس لئے انکی پھونکوں کو کوریج نہ مل سکی-
17 ستمبر 2004 کو مسنجف علی سرکار کی عزرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی وہ انہیں اپنے ساتھ لیکر گئے –
ان موصوف نے جاتے جاتے اپنی گدی پر حق خطیب کو فائز کیا ،چنانچہ ایک بگڑا لونڈا لپاڑا صاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار بن گیا –
حق خطیب نے وراثت میں ملے کاروبار میں جدت لائی،مہنگے اور اچھے کیمرے اور اچھے ساونڈ والے مائیک لیے اور شف شف کو ایک برانڈ بنا دیا –
مسنجف علی سرکار اور حق خطیب کے درمیان ایک کرامت یہ بیان کی جاتی ہے کہ حق خطیب ایک بار راولپنڈی سے کوٹلی اپنے مرشد مسنجف کو ملنے جانے کیلئے گھر سے نکلے تو گاڑی میں تیل ختم تھا اور جیب میں پیسے،اتنے میں ملازم نے پیچھے سے آواز دی حضور غضب ہوگیا آپ کے کمرے کی چھت سے ڈالر دیواروں سے یورو گر رہے ہیں جب کہ فرش سے ریال اچھل رہے ہیں،سب نے یہ منظر دیکھا،حق خطیب نے وہ پیسے ابھی تک بطور کرامت اپنے پاس رکھے ہیں –
میرا جوتا کدھر ہے ؟؟
بقلم فردوس جمال !!!
