أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ ۞

ترجمہ:

جو اپنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں

الماعون : ٥ میں فرمایا : جو اپنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں۔

سہو کی تحقیق

ایک چیز یہ نمازوں سے غفلت کرنا، یعنی کبھی نماز پڑھ لی اور کبھی نہ پڑھی، یہ منافقوں کا شعار ہے اور ایک چیز ہے نمازوں میں غفلت کرنا یعنی کبھی نماز میں شیطان وسوسہ ڈالتا ہے یا انسان نماز میں کسی کام کے متعلق سوچنے لگتا ہے اور اس کا منصوبہ بنانے لگتا ہے کہ اس سے بہت کم مسلمان خالی ہوتے ہیں۔

علامہ ابوعبداللہ قرطبی لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی نماز میں سہو ہوجاتا تھا چہ جائیکہ اور لوگوں کو، اسی وجہ سے فقہاء نے اپنی کتابوں میں سجود السہو کا باب قائم کیا ہے، قاضی ابن العربی نے کہا ہے : سہو سے سلامتی محال ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور صحابہ کو اپنی نمازوں میں سہو ہوا ہے اور جس شخص کو نماز میں سہو نہیں ہوتا، یہ وہ شخص ہے جو نماز میں غور فکر کرتا ہے، نہ قرأت میں تدبر کرتا ہے اور اس کی فکر نماز کے ارکان اور رکعات کو گننے میں لگی رہتی ہے، یہ وہ شخص ہے جو چھلکے کھاتا ہے اور مغز چھوڑ دیتا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو نماز میں سہو ہوتا تھا تو آپ کی فکر اس سے بہت عظیم تھی، ہاں ! کبھی نماز میں اس شخص کو سہو ہوتا ہے جو شیطان کے وسوسہ کو قبول کرلیتا ہے، شیطان اس سے کہتا ہے کہ فلاں چیز کو یاد کر، فلاں چیز کو یاد کر، جو چیز اس کو پہلے یاد نہیں آتی تھی، وہ اس کو نماز میں یاد آجاتی ہے، حتیٰ کہ وہ شخص بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعت نماز پڑھی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٨٩ دارالفکر، بیروت ١٤١٥ ھ)

مصنف کے نزدیک ہمارے سہو میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سہو میں بہت فرق ہے، ہم دنیا کے خیال میں ڈوب جاتے ہیں اور نماز کی رکعات کی طرف ہماری توجہ نہیں رہتی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حسن الوہیت کے جلووں میں منہمک اور مستغرق ہوجاتے ہیں اور نماز کی رکعات کی تعداد سے آپ کی توجہ ہٹ جاتی ہے، ہمارا سہو نقص ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سہو کمال ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 107 الماعون آیت نمبر 5