اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ – سورۃ نمبر 108 الكوثر آیت نمبر 3
sulemansubhani نے Wednesday، 21 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ۞
ترجمہ:
بیشک آپ کا دشمن ہی بےنسل ہے ؏
الکوثر : ٣ میں فرمایا : بےآپ کا دشمن ہی بےنسل ہے۔
” شانی “ اور ” ابتر “ کے معنی
اس آیت میں ” شانی “ اور ” ابتر “ کے دو لفظ ہیں، علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :
’ دشنا “ کا معنی ہے : کسی شخص سے بغض کی بناء پر اس کو ناپسند کرنا، قرآن مجید میں ہے : شنان قوم “ (المائدہ : ٨) کسی قوم کی دمشنی اور اس سے بغض ” شانئک “ کا معنی ہے : آپ سے بغض رکھنے والا آپ کا دشمن۔ (المفردات ج ١ ص 352)
” ابتر “ کا لفظ ” بتر “ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے : جس کی جڑ کٹی ہوئی ہو، پھر اس کا اسعتمال اس شخص کے لئے ہونے لگا، جس کے بعد اس کی نسل جاری نہ ہو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کام سے پہلے اللہ کا ذکر نہ کیا جائے وہ ” ابتر “ ہے یعنی ناتمام اور نامکمل ہے (تلخیص الحبیرج ۃ ص 76) قرآن مجید میں ہے :” ان شانئک ھوالابتر۔ “ (الکوثر : ٣) یعنی جس کا ذکر اس کے بعد نہ چلے، اس کی وجہ یہ تھی کہ کفار کا زعم تھا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر منقطع ہوجائے گا، جب آپ کی عمر خت مہو جائے گی کیونکہ آپ کی نسل منقطع ہوجائے گی، اللہ تعالیٰ نے اس پر متنبہ فرمایا : جس کا ذکر منقطع ہوگا، وہ آپ کا دشمن ہے اور رہے آپ تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
ورفعنالک ذکر۔ (الانشراح : ٤) اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کردیا۔
کیونکہ آپ تمام مئومنین کے بہ منزلہ باپ ہیں اور تمام مئومنین حکماً آپ کی اولاد ہیں، اللہ عزوجل نے آپ کا ذکر بلند کیا ہے اور آپ کو خاتم الانبیاء بنایا ہے۔ (المفردات ج ١ ص ٤٦ )
الکوثر : ٣ کا شان نزول
امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اس آیت کے شان نزول میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : جس شخص نے آپ کو ابتر کہا تھا، وہ العاص بن وائل السہمی تھا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٩٥٥٣ )
ابن زید نے کہا، وہ شخص یہ کہتا تھا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جڑ کٹ گئی اور ان کی نسل آگے نہیں چلے گی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٩٥٥٨ )
شمر بن عطیہ بیان کرتے ہیں کہ عقبہ بن ابی معیط یہ کہتا تھا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسل باقی نہیں رہے گی اور وہ ابتر ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٩٥٥٩ )
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب کعب بن اشرف مدینہ آیا تو قریش اس کے پاس گئے اور کہا : ہم حرم کا انتظام اور حفاظت کرنے والے ہیں اور زمزم کے پانی پلانے والے ہیں اور تم اہل مدینہ کے سردار ہو، یہ بتائو کہ ہم بہتر ہیں یا یہ شخص جو اپنی قوم سے کٹ چکا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ وہ ہم سے افضل ہے ؟ کعب بن اشرف نے کہا، بلکہ تم اس سے افضل ہو، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٩٥٦٢ )
حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩٩١ ھ لکھتے ہیں :
امام حمد بن سعد اور امام ابن عسا کرنے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑے بیٹے حضرت قاسم تھے، پھر حضرت زینب تھیں، پھر حضرت عبداللہ تھے، پھر حضر ام کلثوم تھیں، پھر حضرت افطمہ تھیں، پھر حضرت رقیہ تھیں، پس حضرت قاسم (رض) فوت ہوگئے اور وہ مکہ میں سب سے پہلے آپ کی اولاد میں سے فوت ہونے والے تھے، پھر حضرت عبداللہ (رض) فوت ہوگئے، اس وقت العاص بن وائل السہبی نے کہا، ان کی نسل منقطع ہوگئی اور یہ ابتر (جڑ کٹے) ہیں، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی :” ان شانئک ھوالابتر۔ “ (اکلوثر : ٣) ۔ (الدرالمنثور ج ٨ ص ٥٩٥ داراحیاء التراث العربی، بیروت) (الطبقات الکبریٰ ج ١ ص 106، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ تاریخ دمشق الکبیرج ٣ ص 69 داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)
امام بیہقی نے ” دلائل النبوۃ “ میں محمد بن علی سے روایت کیا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے حضرت قاسم (رض) اتنی عمر کو پہنچ گئے کہ وہ سواری پر سوار ہو سکیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا، اس وقت عاص بن وائل نے کہا : (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آج صبح ابتر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سورة الکوثر نازل فرمائی۔ (دلائل النبوۃ ج ٥ ص 289، الدرالمنثور ج ٨ ص 595)
امام ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ ابوجہل نے آپ کو ابتر کہا تھا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ٩٥١٦، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)
شمر بن عطیہ نے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ عقبہ بن ابی معیط یہ کہتا تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد باقی نہیں رہے گی۔ اور وہ جڑ کٹے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :” ان شانئک ھوالابتر۔ “ (الکوثر : ٣) (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٩٥١٧ مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)
ان روایات سے معلوم ہوا کہ جب آپ کے صاحبزادے حضرت قاسم (رض) فوت ہوئے تو العاص بن وائل، ابوجہل، عقبہ بن ابی معیط اور کعب بن اشرف تمام دشمنان مصطفیٰ نے آپ کو ابتر (مقطوع النسل) کہا، جب کسی شخص کا بیٹا فوت ہوجائے تو اس کے ہم وطن اور رشتہ دار اس کی تعزیت کرتے ہیں اور اس کو تسلی دیتے ہیں، یہ کیسے ہم وطن اور شرتہ دار تھے، جو ایسے رنج و غم کے موقع پر آپ کو تسلی دینے کے بجائے آپ کو عطنے دے رہے تھے اور آپ کو ابتر کہہ رہے تھے، اس جاں کا وہ وقت میں آپ کو صرف رب ذوالجال نے تسلی دی اور فرمایا : بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے۔ سو آپ اپنے رب کی رضا کے لئے نماز پڑھتے رہیے اور قربانی کرتے رہیں۔ بیشک آپ کا دشمن ہی بےنسل ہے۔ (الکوثر : ٣-١)
اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مدافعت فرمانا
کفار نے جب آپ کو طعنہ دیا کہ آپ ابتر ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف سے بالواسطہ مدافعت کی اور فرمایا : بیشک آپ کا دشمن ہی ابتر (مقطوع النسل) ہے اور یہی محبین کا طریقہ ہے کہ جب ان کے محبوب کو کوئی عطنہ دے تو وہ اپنے محبوب کی طرف سے مدافعت کرتے ہیں اور یہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے جواب دیا اور اس کی قرآن مجید میں اور بھی کئی مثالیں ہیں، جب کفار نے آپ کی شان میں یہ بدگوئی کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نقل فرمایا :
(سبائ : ٨-٧) اور کفار نے کہا : آئو ہم تمہیں ایسا شخص بتائیں، جو تمہیں یہ خبر دے رہعا ہے کہ جب تم پورے پورے ریزہ ریزہ ہو جائو گے تو پھر تمہاری ضرور نئی تخلیق کی جائے گی۔ اس نے یا تو اللہ پر جھوٹا بہتان لگایا ہے یا یہ دیوانہ ہے۔
جب کفار نے آپ کو جھوٹا اور دیوانہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے فوراً آپ کی مدافعت کی اور فرمایا :
(سبا : ٨) بلکہ (حقیقت یہ ہے) کہ جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہے، وہ عذاب میں اور دور کی گم راہی میں ہیں۔
اسی طرح جب ولید بن مغیرہ نے آپ کو دیوانہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مدافعت میں فرمایا :
(اقلم : ٢) آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہیں۔ اور القلم : ١٣-٨) میں ولید بن مغیرہ کی مذمت میں اس کے نو عیوب بیان فرمائے اور نواں عیب یہ بیان کیا کہ وہ بد اصل ہے۔
اسی طرح منکرین نے آپ کے متعلق کہا :
لست مرسلاً (الرعد : ٤٣) آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔
تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدافعت میں فرمایا :
(یٰسین : ٣-١) یٰسین۔ قرآن حیم کی قسم۔ بیشک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں۔
(الصفت : ٣٦) کیا ہم شاعر دیوانے کی وجہ سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں۔
(الصفت : ٣٧) (نہیں نہیں) بلکہ وہ تو سچا دین لے کر آئے ہیں اور انہوں نے سب رسولوں کی تصدیق کی۔ پھر آپ کے دشمنوں کو وعید سنائی ،
(الصفت : ٣٨) بیشک تم ضرور درد ناک عذاب کو چکھنے والے ہو۔ اسی طرح کفار کے اس قول کو نقل فرمایا :
(الفرقان : ٧) اس رسول کو کیا ہوا کہ یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے۔ تو اللہ نے ان کے رد میں فرمایا :
(الفرقان : ٢٠) ہم نے آپ سے پہلے جن رسولوں کو بھی بھیجا وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے۔
جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوہ صفا پر چڑھ کر اپنی قوم کو توحید کا پیغام سنایا اور فرمایا : اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے گھوڑ سواروں کا ایک لشکر ہے، جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے ؟ سب نے کہا، کیوں نہیں ! ہم نے آپ کو کبھی جھوٹا نہیں پایا، آپ نے فرمایا : تب میں تم کو یہ خبر دیتا ہوں کہ اگر تم اسی طرح اللہ کے ساتھ شرک کرتے رہے تو تم پر بڑا عذاب آئے گا، یہ سن کو ابولہب نے کہا :” تبالک “ تمہارے لئے ہلاکت ہو، کیا تم نے اس لئے ہم سب کو جمع کیا تھا ؟ جب ابولہب نے آپ سے کہا :” تبالک “ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدافعت اور ابولہب کی مذمت میں پوری سورت نازل فرما دی :
(اللہب : ٥-١) ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہوجائے۔ اسے اس کے مال اور اس کی کمائی نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ وہ عنقریب زبردست شعلوں والی آگ میں داخل ہوگا۔ اور اس کی بیوی (بھی) ، لکڑیوں کا گھٹا اٹھانے والی۔ اس کی گردن میں درخت کی چھال کی بٹی ہوئی رسی ہوگی۔
انبیاء سابقین کا خود اپنی مدافعت کرنا
پہلے نبیوں کی شان میں اگر کافر کوئی ناگفتنی بات کہتا تو وہ خود اپنی مدافعت کرتے تھے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق ان کی ناگفتنی بات کو اللہ تعالیٰ نے نقل فرمایا :
(الاعراف : ٦٠) حضرت نوح کی قوم کے سرداروں نے کہا، بیشک ہم تم کو ضرور کھلی ہوئی گم راہی میں دیکھتے ہیں۔ تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے خود اپنی مدافعت فرمائی۔
(الاعراف : ٦٠) حضرت نوح نے کہا : اے میری قوم ! مجھ میں کوئی گم راہی نہیں ہے، لیکن میں رب العلمین کی طرف سے رسول ہوں۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے متعلق بدگوئی کی، اللہ تعالیٰ نے اس کو نقل فرمایا :
(الاعراف : ٦١) حضرت نوح نے کہا، اے میری قوم ! مجھ میں کوئی گم راہی نہیں ہے، لیکن میں رب العلمیٰ کی طر سے رسول ہوں۔
حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے متعلق بدگوئی کی، اللہ تعالیٰ نے اس کو نقل فرمایا :
(الاعراف : ٦٦) حضرت ھود کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا : بیشک ہم تم کو بےوقوفی میں دیکھتے ہیں اور بیشک ہم تم کو ضرور جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔
تب حضرت ھود نے ازخود اپنی مدافعت فرمائی :
(الاعراف : ٦٧) حضرت ھود نے کہا، اے میری قوم ! مجھ میں کوئی کم عقلی نہیں ہے لیکن میں رب العلمین کی طرف سے رسول ہوں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام محبوبیت
یہ تو انبیاء سابقین تھے، لیکن جب محبوب رب العلمین کو مبعوث فرمایا اور کفار نے آپ کی شان میں بدگوئی کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ گوارا نہیں کیا کہ آپ خود اپنی مدافعت فرمائیں بلکہ جیسے ہی کسی نے آپ کی شان کے خلاف کوئی بات کہی تو اللہ تعالیٰ نے فوراً کا رد فرمایا۔
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے چند دن آپ پر وحی نازل نہیں فرمایء تو کافروں نے کہا، (سیدنا) محمد کو اس کے رب نے چھوڑ دیا اور اس سے بےزار ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے رد میں فوراً سورة الضحیٰ نازل ہوئی جس میں یہ آیات ہیں :
(الضحیٰ : ٣-١) چاشت کے وقت کی قسم۔ اور رات کی قسم جب وہ پھیل جائے۔ آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہے نہ وہ آپ سے بےزار ہوا ہے۔
اسی طرح جب کافروں نے آپ کو ابتر کہا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدافعت میں پوری سورة کوثر نازل فرما دی۔
القرآن – سورۃ نمبر 108 الكوثر آیت نمبر 3