أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ۞

ترجمہ:

سو آپ اپنے رب کی رضا کے لئے نماز پڑھتے رہیے اور قربانی کرتے رہیں

الکوثر : ٢ میں فرمایا : سو آپ اپنے رب کی رضا کے لئے نماز پڑھتے رہیے اور قربانی کرتے رہیں۔

تکبیر تحریمہ کے بعد رفع یدین کے متعلق ضعیف روایات

اللہ تعالیٰ نے آپ کو، کوثر ایسی عظیم نعمت عطا کی ہے تو آپ اس کا شکر ادا کرنے کے لئے ہمیشہ نماز پڑھتے رہیں اور قربانی ادا کرتے رہیں، اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت ہے کہ وہ آپ کو اس قدر خوش حال کر دے گا کہ آپ قربانی کرتے رہیں گے۔

ایک قول یہ ہے کہ نماز سے مراد عید کی نماز ہے اور ’ وانحر “ سے مراد عید الاضحیٰ کے دن قربانی کرنا ہے۔

مجاہد، طعاء اور عکرمہ سے روایت ہے کہ نماز سے مراد مزدلفہ میں صبح کی نماز پڑھنا اور اس کے بعد منی میں قربانی کرنا ہے۔

ابوالاحوص سے روایت ہے کہ اونٹ کو نحر کرتے وقت آپ قبلہ کی طرف منہ کریں۔

امام ابن ابی حاتم، حاکم، ابن مردویہ اور امام بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ سورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبریل سے فرمایا : یہ کون سا نحیرہ ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے تو حضرت جبریل نے کہا، یہ نحیرہ نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو یہ حکم دیتا ہیغ کہ جب آپ نماز کی تکبیر تحریمہ پڑھیں تو رفع یدین کریں اور جب رکوع کریں تو رفع یدین کریں اور جب رکوع سے سر اٹھائیں تو رفع یدین کریں کیونکہ یہی ہماری نماز ہے اور آسمانوں کے فرشتوں کی نماز ہے اور ہر چیز کی ایک زینت ہوتی ہے اور نماز کی زینت ہر تکبیر کے وقت رفع یدین ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ١٠ ص ٣٤٧٠ المستدرک ج ٢ ص ٥٣٨ ذہبی نے کہا، اس کی سند میں اسرائیل غیر معتمد ہے اور امام نسائی کے نزدیک متروک ہے۔ )

حاکم نے ” مستدرک “ میں دار قطنی نے ” الافراد “ میں حضرت امیر کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا ہے، اپنا دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں، پھر نماز میں اپنے ہاتھوں کو اپنے سینہ پر رکھیں۔ (المستدرک ج ٢ ص ٥٣٧ حافظ ذہبی نے اس سے سکوت کیا ہے۔ )

حافظ جلال الدین سیوطی نے حضرت علی (رض) کی پہلی روایت کے متعلق کہا ہے : اس کو امام ابن ابی حاتم نے اور حاکم نے ” مستدرک “ میں سند ضعیف سے روایت کیا ہے اور ابن کثیرنی اس حدیث کے متعلق کہا : یہ شدید منکر ہے بلکہ امام دین جوزی نے اس کو موضوعات میں درج کیا ہے اور حضرت امیر کرم اللہ وجہہ کی دوسری حدیث کے متعلق حافظ جلال الدین سیوطی نے کہا : اس حدیث کو امام ابن ابی حاتم حاکم نے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، جس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ترک رفع یدین اور ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے پر دلائل شرح صحیح مسلم، جلد اول میں ملاحظہ فرمائیں۔

اور زیادہ مشہور یہ ہے کہ ” نحر “ کا لفظ اونٹوں کو نحر کرنے میں استعمال ہوتا ہے، نہ کہ ان معانی میں اور قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ نماز کے بعد زکاۃ کا ذکر کیا جاتا ہے اور قربانی کرنا اور اونٹوں کو نحر کرنا زکاۃ کے معنی کے قریب ہے، بہ خلاف ان مذکورہ معانی کے علاوہ ازیں مکہ کے مشرکین بتوں کے آگے سجدہ رکتے تھے اور ان کے لئے اونٹوں کو نحر کرتے تھے تو زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس آیت کو اس پر محمول کیا جائے کہ آپ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے اللہ کی رضا کی خاطر نماز پڑھیں اور اس کی رضا کے لئے قربانی کریں۔ (روح المعانی جز ٣٠ ص ٤٤٤، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 108 الكوثر آیت نمبر 2