أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ ۞

ترجمہ:

سو ان نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو ان نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ جو اپنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں۔ جو ریا کاری کرتے ہیں۔ اور وہ استعمال کی معمولی چیز دینے سے منع کرتے ہیں۔ (الماعون : ٧-٤)

جن نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس سے مراد وہ نمازی ہیں جو نماز سے ثواب کی امید نہ کھیں اور نماز نہپڑھنے سیان کو عذاب کا ڈر نہ ہو اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کا وقت گزرنے کے بعد پڑھیں، ابوالعالیہ نے کہا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو وقت پر نماز نہ پڑھیں اور اس کا رکوع اور سجود مکمل نہ کریں۔ قرآن مجید میں ہے :

(مریم : ٥٩) پھر (نیک لوگوں کے بعد) ایسے برے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے نما زضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کی پیروی کی، ان کو عنقریب دوزخ میں جھونک دیا جائیگا۔

(النسائ : ١٤٢) اور منافقین جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو بہت کاہلی سے کھڑے ہوتے ہیں، وہ لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کا ذکر بہت کم کرتے ہیں۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ منافق کی نماز ہے، وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوجاتا ہے تو وہ کھڑا ہو کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور اس نماز میں اللہ کا بہت کم ذکر کرتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٢٢ )

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : منافق وہ ہے جو تنہائی میں نماز نہیں پڑھتا اور لوگوں کے سامنے نماز پڑھتا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 107 الماعون آیت نمبر 4