أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ۞

ترجمہ:

اور وہ استعمال کی معمولی چیز دینے سے منع کرتے ہیں  ؏

الماعون : ٧ میں فرمایا : اور وہ استعمال کی معمولی چیز دینے سے منع کرتے ہیں۔

” الماعون “ کی تعریف میں بارہ اقوال

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ نے لکھا ہے : الماعون کی تفسیر میں بارہاقوال ہیں :

(١) ضحاک نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے : اس سے مراد ان کے اموال کی زکوۃ ہے۔

(٢) ابن شہاب اور سعید بن المسیب نے کہا : اس سے مراد مال ہے۔

(٣) حضرت ابن مسعود (رض) نے کہا : اس سے مراد گھر میں استعمال ہونے والی کار آمد چیزیں ہیں جیسے کلہاڑی، دیگچی اور آگ وغیرہ۔

(٤) زجاج اور ابوعبید نے کہا :” الماعون “ ہر وہ چیز ہے جس میں کوئی منفعت ہو جیسے کلہاڑی، ڈول اور بڑا پیالہ۔

(٥) حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت ہے : جو چیز عاریۃ لی جائے۔

(٦) محمد بن کعب اور کلبی نے کہا : یہ وہ چیز ہے جس کا لوگ آپس میں لین دین کرتے ہوں۔

(٧) اس سے مراد پانی اور گھاس ہے۔

(٨) اس سے مراد صرف پانی ہے۔

(٩) حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے کہا : اس سے مراد کسی شخص کا حق ہے۔

(١٠) طبری نے کہا : اس سے مراد کوئی بھی تھوڑی سی چیز ہے۔

(١١) اخفش نے کہا : اس سے مراد اطاعت اور فرماں برداری ہے۔

(١٢) الماوردی نے کہا : اس سے مراد ایسا کام ہے جس میں کم مشقت ہو۔

منافق میں یہ تین اوصاف ہوتے ہیں : وہ نماز کو ترک کرتا ہے، ریا کاری کرتا ہے اور معمولی سی چیز دینے میں بھی بخل کرتا ہے اور مسلمان میں ان اوصاف کا پ ایا جانا بہت بعید ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص 190-191 دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 107 الماعون آیت نمبر 7